توہین رسالت کے مرتکب ملزمان ؟
05 اگست 2020 (22:56) 2020-08-05

آئین کے آرٹیکل 295سی کے تحت اگر کوئی شخص حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے، اہانت کرتا ہے ، کچھ غلط الفاظ استعمال کرتا ہے ، کچھ غلط لکھتا ہے، وہ گستاخانہ بات چاہے وہ بالواسطہ کرتا ہے  یا بلاواسطہ اس کی سزا قانوناً موت ہے ۔ مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس قانون کو قانونی کتابوں کا حصہ تو بنا دیا گیا مگر اسے عملی طور پر غیر موثر کر دیا گیا ۔ ملک میں آنے والی ہر جمہوری و غیر جمہوری حکومت نے اس قانون کو غیر موثر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے بننے تمام کیس ریاست کے بنائے گئے نظام سے گزر ے مگر اس قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے کسی مجرم کو سزا نہیں دی گئی بلکہ مجرموں کو اس قانون کی آڑ میں تحفظ فراہم کیا جاتا رہا جس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں ۔

چودہ اکتوبر 1996ایوب مسیح نامی شخص کو 295سی کی خلاف ورزی ( توہین ناموس رسالت) پر گرفتار کیا گیا تو پورے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کا شوروغوغا مچایا گیا لیکن 20 اپریل 1998کو معزز جج عبدالحمید نے ایوب مسیح پر الزامات کو سچ مانتے ہوئے پھانسی کی سزا کے ساتھ ایک لاکھ جرمانہ کا فیصلہ سنایا ۔بعد ازاں مجرم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جس کے نتیجہ میں 16اگست 2002کو سپریم کورٹ نے توہین رسالت کے مجرم کو چھوڑ کر گستاخی کی نشاندہی کرنے والے محمد اکرم کو قصور وار ٹھہرایا اور اسکے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا۔

اکتوبر 2000میں اسلام آبادمیں میڈیکل کے طلبا ء کی نشاندہی پر ایک پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس شیخ کو گرفتار کیا گیا اس کے خلاف طلبا نے گواہی دی عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ اور پھانسی کی سزا سنائی مگر کچھ غائبانہ ہاتھوں نے مجرم کو راتوں رات سوئٹزرلینڈ پہنچا دیا ۔ جہاں اس کے بیرونی آقاوں نے اسے ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ اور ہیومنسٹ جیسے خطابات دیے اور اب وہ فری تھنکر نامی ایک تنظیم کا چئیرمین ہے 

22 اکتوبر 2009کو ہیکٹر علیم جو کہ عیسائی ہیومن رائیٹ ایکٹوسٹ تھا کو توہین مذہب کے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا۔ اس نے سنی تحریک کے کسی لیڈر کو گستاخانہ میسج سینڈ کیا تھا ۔ ہیکٹر علیم پر سی ڈی اے(کپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی)کی جانب سے غیر قانونی چرچ کی تعمیر کا مقدمہ بھی تھا ۔ مگر اسے کسی قسم کی سزا نہیں دی گئی کیونکہ وہ نام نہاد ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ تھا ۔

اسی طرح نومبر 2010 میں آسیہ مسیح کواس کی گستاخی پر موت کی سزا سنائی گئی ۔ مگر گورنر سلمان تاثیر میدان میں کود پڑے اور جیل میں آسیہ سے ملاقات کی اور اس کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے کہا وہ جلد آزاد ہو جائے گی اور ساتھ ہی ناموس رسالت کے قانون پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے کالا قانون قرار دیا۔4 جنوری 2011 کو سلمان تاثیرکو ذاتی گارڈ ممتاز قادری کی طرف سے گولیوں کا نشانہ بنا۔ اس کے بعد عدالتوں نے سابقہ روایت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آسیہ مسیح کو بری کر دیا اور عوامی پریشر کے باوجود موجودہ حکومت نے اسے اپنے مغربی آقائوں کی گود میں پکے پھل کی مانند ڈال دیا۔اور ممتاز قادری کو پھانسی کے پھندے پرلٹکادیاگیا۔

پچھلے دو سالوں میں ناموس رسالت اور ختم نبوت کے قانون کے خاتمے کیلئے کئی کوششیں ہو چکی ہیں حکومت نے  یکے بعد دیگرے توہین رسالت کے تین ملزمان کورہاکرواکربیرون ملک بھیجا۔یہی وجہ ہے کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آرایف)نے پی ٹی آئی حکومت کوشاباش دی ہے اورخاص طورپر سپریم کورٹ کی جانب سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی، وجیہہ الحسن کیس، سیالکوٹ میں شوالہ تیجا سنگھ مندر کو ہندوں  اور کرتارپور راہداری کو سکھ برادری کے لیے کھولنے اور سپریم کورٹ کی حمایت یافتہ قومی کمیشن برائے اقلیت کے قیام کو سراہا اورساتھ یہ بھی کہا کہ پاکستان کو امریکی حکومت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنا چاہیے جس کے تحت پاکستان توہین رسالت کے تمام قوانین کے خاتمے یا ان پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کروائے گا۔ 

پشاورہائی کورٹ میں پیش آنے والے واقعہ پرلبرل اور امریکی ایجنٹوں کی طرف سے قانون توہین رسالت اور مذہبی طبقے کے خلاف پھر پروپیگنڈہ شروع کردیاہے حالانکہ ملزم طاہر نسیم کے خلاف واضح ثبوت موجودتھے اس کے باوجود عدالت دوسال سے زائدعرصہ سے تاریخ پرتاریخ دیئے جارہی تھی ،ان مقدمات میں تاخیری حربے استعمال کرنے کامقصدکیس خراب کرناہوتاہے یہی وجہ ہے کہ جب عدالتیں اورقاضی فیصلے نہیں کرتیں توپھرغازی فیصلے کرتے ہیں ، توہین رسالت کے ملزمان کاٹھکانہ اکثرامریکہ اوردیگرمغربی ممالک ہوتے ہیں جبکہ یہاں معاملہ ہی مختلف تھا کیوں کہ طاہرنسیم ولدمقبول شاہ پشاور رنگ روڈ حیات آباد سے ملحقہ علاقہ اچینی بالا کا رہائشی تھا اور یہ خاندان سمیت امریکہ شفٹ ہو گیا تھا، چندسال قبل طاہرنسیم نے جھوٹادعوی کیا تومقامی افرادنے اسے مارنے کی کوشش کی مگرایک نوجوان عالم دین آڑے آگئے اوردیگرعلماء کے ساتھ مل کراسے سمجھایاتوبھرے مجمع میں اس نے توبہ کی جس کی ویڈیوبھی موجودہے مگرلبرل کبھی بھی علماء کے اس کردارپران کی تعریف نہیں کریں گے کیوں کہ انہیں اس کے ڈالرنہیں ملتے ۔

امریکہ جانے کے بعد طاہرنسیم نے ایک ایجنڈے کے تحت پھرنبوت کادعوی کیااورسوشل میڈیاکے ذریعے اس کوپھیلانے لگااورشادی کے بعد بیوی کوکہاکہ مجھ پرایمان لائوبیوی نے خاندان والوں کواس کے دعووں کے متعلق بتایایہ بات واضح ہوگئی ہے مذکورہ شخص کسی خاص مشن پرتھا اوراس کے پیچھے بیرونی طاقتیں تھیں یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دوسال سے جب مقدمہ عدالت میں زیرسماعت تھا تواین جی اوزاس کے حق میں مظاہرے اور سوشل میڈیاپراس کے حق میں مہم چلارہی تھیں ،مگران لبرل اورسیکولرمافیاکی حالت یہ ہے کہ دودن سے طاہرنسیم کی لاش پشاور سرد خانے میں پڑی ہے اس کے لواحقین بھی اس کو OWN نہیں کر رہے۔ اس سے بھی بڑی خبر یہ ہے کہ اس کا مقدمہ لڑنے سے پشاور کے تمام غیور وکلا نے انکار کر دیا ہے۔

حکومت سمجھتی ہے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر بنائے گئے قانون کی شق 295سی ختم کرنے سے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا قانون ختم ہو جائے گا لیکن ایسا بالکل نہیں ہے، ناموس رسالت کا قانون 295سی کا محتاج نہیں ،اگر اس  قانون کوختم کر دیا گیا یا اسے مزید غیر موثر کر دیا گیا تو فیصلہ جج نہیں بلکہ باہر سے آیا کوئی نوجوان کر دے گا اور فیصلے عدالتوں سے باہر چوکوں اور چوراہوں پر ہوں گے۔ جب بازی عدالت سے نکل کر عاشقان کے پاس پہنچے گی تو عاشق دلیل نہیں مانگتے ، عشق کی اپنی دلیلیں ہیں اور اپنی منطق ۔ عشق کے فیصلے گواہ اور ثبوت سے ماورا ہوتے ہیں ، جہاں قانون کی سرحد ختم ہوتی ہے وہاں سے عشق کی منزل  شروع ہوتی ہے ۔ عشق جو فیصلہ کرتا ہے بے دلیل کرتا ہے اور "آن دی سپاٹ" کرتا ہے ، نہ لمبی پیشیاں اور نہ ای سی ایل کے چکر، بس پکڑو اورلٹکا دو ۔یہ عدالتیں ، یہ وکیل ، یہ آئین ، یہ آرٹیکل سب اہل عقل کے پھیلائے جال ہیں اور عاشق کے پاس بس دل ہوتا ہے اس کا ہر فیصلہ دل کرتا ہے اور دل سے کیے گئے فیصلے سہی یا غلط کے محتاج نہیں ہوتے نا ان پر دوبارہ اپیل ہو سکتی ہے۔


ای پیپر