مقبوضہ کشمیر اور پاکستان
05 اگست 2020 (13:19) 2020-08-05

ٍٍ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کو آج ایک برس ہو گیا ہے لیکن گزرے ایک برس کا کوئی دن پُرسکون نہیں گزرا،کشمیریوں کوبدترین ریاستی دہشت گردی اور مسلسل لاک ڈائون کا سامنا ہے مساجد کو تالے لگا کر بند کر دیا گیا ہے نمازاداکرنے کے لیے آنے والوں پر لاٹھی چارج معمول بن چکا ہے مساجد کے داخلی دروازوں پر پہرے ہیں روز انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے مگر انسانی حقوق کے دعویدار چُپ ہیں اوآئی سی بھی خاموش ہے اقوامِ عالم کی بے حسی ختم نہیں ہوسکی اسلامی فوج کو بھی بے اطمینانی محسوس نہیں ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کرنا ہے وہ کشمیریوں اور پاکستان نے خود ہی کرنا ہے لہذا بہتر ہے کہ پاکستان فرائض کا ادراک کرتے ہوئے فیصلہ کُن اقدامات کی طرف دھیان دے چین نے بھارت کوسفارتی طور پر خطے میں تنہا کردیا ہے جس سے فائدہ اُٹھانے میں تساہل سے کام لینا فرائض سے فرار کے سواکچھ نہیں کیونکہ بھارت امن کی نہیں طاقت کی زبان سمجھتا ہے چین کی طرح مُہم جوئی نہ سہی پاکستان دبائو ہی بڑھا دے کیونکہ بھارت دوممالک سے بیک وقت ٹکرانے کی اہلیت سے عاری ہے لیکن دبائو بڑھانے سے کشمیر یوں کے لیے تنگ کی گئی زمین پر کچھ راحت کا باعث ہو سکتی ہے۔

بھارت نے منظم طریقے سے کشمیریوں کی نسل کشی شروع کر رکھی ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب بے گناہ اور معصوم کشمیریوں کو شہید نہیں کیا جاتا سفاکی کا یہ مظاہرہ مہذب ہونے کی دعویدار دنیا سے پوشیدہ نہیں مگر تجارتی مفادات کی وجہ سے خاموش ہے لیکن پاکستان کی پوزیشن الگ ہے مسئلہ کشمیر کے اہم فریق کے تناظر میں ذمہ داری ہے کہ بھارتی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرے اور کشمیرمیں استصوابِ رائے کے لیے اقوامِ متحدہ کو وعدے یاددلائے اگر روس کے بعد بھارت کو امریکہ کی صورت میں طاقتور چھتری مل گئی ہے تو پاکستان بھی بدلے حالات میں بہت اہم ہوگیا ہے پاکستان چین کی ضرورت ہے اِس لیے وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستان کُھل کر کشمیریوں کی اخلاقی ،سیاسی اور سفارتی اعانت کرے یاد رکھیں آزادی تحفے میں نہیں ملتی محض یوم استحصال منانے اور اظہار یکجہتی تک محدود ہنے کی بجائے کشمیریوں کا مقدمہ ہر فورم پر پوری قوت سے لڑاجائے جس کے لیے لازم ہے کہ قومی سطح پر اتحاد و اتفاق کی فضا بنائی جائے اور کشمیرکے لیے ملک بھر کی سیاسی قیادت کابیانیہ ایک ہو۔

بھارت جارح ملک ہے جس نے کشمیریوں کو حقِ خوداِرادیت دینے کا وعدہ کرنے کے باوجود متنازع علاقے کی خصوصی حیثیت یکطرفہ طورپر ختم کردی ہے جس پر پاکستان کا خاموش رہنا کسی طور سود مند نہیں یہ کشمیریوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے علاوہ قومی مفاد کو زک پہنچانے کے مترادف ہے گزشتہ چند ماہ سے پاکستان نے دلیرانہ موقف اختیار کیا ہے لیکن مظلوم کشمیریوں سے یہ محبت عارضی نہیں دائمی ہونی چاہیے شاہ محمود قریشی کا سری نگرکو منزل قرار دینا اور مقفل مساجد میں شکرانے کے نوافل

اداکرنے کا بیان خاصہ حوصلہ افزا ہے حریت رہنما سید علی گیلانی کو اعلیٰ اعزاز دینے کا عزم بھی کشمیر سے اخلاص کا مظہر ہے ضرورت اِس امر کی ہے کہ عملی طور پر بھی کچھ کیا جائے بھارت کے مقاصد سے کوئی ذی شعور لاعلم نہیں جنونی ہندو حکومت کی کوشش ہے کہ کشمیرکی انسانی آبادی ختم کرکے زمین حاصل کی جائے کشمیری اپنی آزادی کے ساتھ پاکستان کی سلامتی کا بھی ہراول دستہ ہیں ہماری ذراسی کمزوری یا لغزش اُنھیںبددل کرسکتی ہے بھارتی چالوں کا چوکنا ہوکر توڑ کرنے اور جانوں کے نذرانے پیش کرتے کشمیریوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے پاکستان کو تمام وسائل سے کام لینا چاہیے جس کے لیے چین کے ساتھ عسکری مراسم میں پختگی لانا ضروری ہے سکم،لداخ اوراب اترکھنڈ میں میںکشیدگی پاکستان کے لیے بہترین موقع ہے اِس لیے یکطرفہ امن پسندی کی بجائے دلیرانہ کردار کے لیے جامع پالیسی بنا ئی جائے ۔

بھارتی حکومت کو سرجیکل سٹرائیک بہت پسند ہے پاکستان کو سبق سکھانے اوردہشت گردوں کے اڈے ختم کرنے کے لیے سرجیکل سٹرائیک کا عزم رکھتی ہے لیکن دشمن کو سبق سکھانے کے لیے ہر وقت آمادہ و تیار مودی سرکار کو فضائی جھڑپ کے دوران پاکستان نے ایسا سبق دیا کہ اب وہ عملی طورپر ایسی کسی کاروائی کی بجائے محض عندیہ دینے تک محدود ہو گئی ہے لیکن پانچ اگست 2019 کو بھارتی آئین کی دفعہ 370اور35اے کالعدم کرکے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی آئینی سرجیکل سڑائیک ایسا احمقانہ فیصلہ ہے جس سے کشمیر آتش فشان بن چکا ہے گزشتہ ایک برس سے کشمیر جیل کی مانند ہے جس میں اسی لاکھ کشمیری محصور ہیں سیاسی قیادت نظر بند ہے ریاست کو تقسیم کرکے لداخ کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنا نے سے نہ صرف پاکستان سے تعلقات متاثر ہوئے بلکہ چین سے کشیدگی میں بھی اضافہ ہو ا جس کا مطلب ہے کہ نریندرمودی اور امیت شاہ کی آئینی سرجیکل سٹرائیک سے کشمیرکے ساتھ بھارت کی قومی سلامتی بھی شدید متاثر ہوئی ہے اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان فضائی جھڑپ کی طرح کشمیر کے فریق کے طور پر آئینی سرجیکل سٹرائیک کے جواب میں فیصلہ کُن اقدامات سے اجتناب نہ کرے۔

بھارت کشمیر پر یکسو ہے اُسے بخوبی معلوم ہے کہ کشمیری کسی صورت اُس کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں بلکہ آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے ہر جانی و مالی ہر قسم کی قربانی سے دریغ کرنے پر آمادہ وتیار نہیں اسی لیے پانچ اگست ایک برس مکمل ہونے سے قبل ہی مقبوضہ وادی کا دنیا سے رابطہ منقطع کر دیاہے احتجاج سے بچنے کے لیے کرفیو لگانے اورجنگی جرائم افشا ہونے سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ بند ہے تاکہ جبرو تشدد کی کاروائیاں دنیا سے مخفی رہیں لیکن پاکستان نے کیا کیا ہے؟شاہراہ کشمیر کانام سری نگر رکھنا،جا چھوڑ دے میری وادی کا نغمہ جاری کرنا اور ایک منٹ کی خاموشی بہت معمولی قدامات ہیں حالات اِس امر کے متقاضی ہیں کہ کلبھوش جیسے دہشت گرد کمانڈر کی صورت میں دستیاب ثبوت سمیت دنیا کو بھارتی دہشت گردی سے آگاہ کیا جائے۔

سیاسی اور فوجی قیادت کا کنٹرول لائن کا دورہ کشمیریوں کے لیے مثبت پیغام ہے سول و عسکری قیادت کا پانچ اگست کا اقدام قبول نہ کرنے کا عزم بھی یقینی طور پر کشمیریوں کے لیے حوصلہ افزا ہوگالیکن کشمیر جیسے مسئلے پر بھی منقسم سیاسی قیادت کی متضاد سوچ اخلاص سے پہلو تہی کے مترادف ہے۔

بھارت کے یکطرفہ اقدام سے محتاظ اندازے کے مطابق پانچ لاکھ کشمیری بے روزگار ہ ہو نے کے ساتھ چالیس ہزارکروڑ کا معاشی نقصان اُٹھا چکے ہیں جبکہ چھ ہزار ایکڑ زرعی زمین صنعتی مقاصد کے نام پر ہندوئوںکو کشمیر میں بسانے کے لیے لی جاچکی ہے جبکہ اتنی ہی زمین فوجی مقاصد کے لیے ہتھیا لی گئی ہے آمدن کا بڑا ذریعہ سیاحت ختم ہو چکا ہے پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری بھائیوں کا مقدمہ عالمی سطح پر لڑنے کے ساتھ خود عملی کوششیں کرے رواں برس کے آغاز پر امریکی بمباری سے زخمی ہونے والے شامی بچے نے دم توڑتے ہوئے کہا کہ میں اللہ سے شکایت کروں گا اور بتائوں گا کہ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا تھا گزشتہ ماہ جولائی میں امن پسند اور کاروباری نانا کی میت پر بیٹھے معصوم عیاد نے بھی کچھ ایسے کلمات ہی بولے تھے کہ ظالموں نے میرے نانا کو گاڑی سے اُتارکر ٹھاہ ٹھاہ گولیاں ماردیں۔ اِتنا ظلم وبربریت دیکھ کر کیسے پُرسکون نیند آجاتی ہے سوچنے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر