کہانی اور حقیقت!
05 اگست 2020 (13:13) 2020-08-05

ہم عجب قوم ہیں‘ حقیقت کو کہانیوں میں گم کر دیتے ہیں اور کہانیوں میں اپنے مطلب کی حقیقت تلاش کرنے کوشش کرتے ہیں۔ ملّا، مجاور اور ملحد تینوں کی سائیکی اس معاملے میں ایک سی ہے۔ اپنے مطلب کا فلسفہ ہر کہانی میں تلاش کر لیتے ہیں، اپنے اپنے مذہب (مذہب بمعنی راستہ ) کی تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیںدیتے۔ کوئی واقعہ رونما ہو‘ اُس کا سیاق و سباق دیکھے بغیر بے دریغ ایسے واقعے سے منطبق کرتے ہیں کہ دونوں کی اصل دھندلا کر رہ جائے، ایسے میں ایک سلیم العقل قاری جھنجھلا کر رہ جاتا ہے۔ بھان متی اپنے دلائل کاکنبہ ایسے جوڑتا ہے کہ کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑہ بھی بھنّا کر رہ جاتا ہے۔

بقراطانِ وقت نے حال ہی ہونے والے پشاور کے واقعے کو ایک صدی قبل غازی علم الدین کے واقعے اور پھر ماضی قریب کے ممتاز قادری کے واقعے کے ساتھ ایسے جوڑ توڑ کا ہاتھ مارا کہ معروضی حقائق منہ دیکھتے رہ گئے۔ راجپال ایک پبلشر تھا، مصنف نہ تھا، لیکن اس نے مسلمانوں کی دل آزاری کا حربہ اختیار کیا، خواہ مصنف نے بخاری اور طبری سے روایات نقل کی ہوں، لیکن کس روایات کو کس تناظر میں بیان کیا گیا‘ یہ ایک صریح تخریب کاری تھی۔ کسی بھی کمیونٹی کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کرنے کی اجازت کوئی ذی عقل نہیں دے سکتا ‘ خواہ کتنا ہی روشن خیال کیوں نہ ہو۔ چٹکی بھر بصیرت رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ انسان اینٹ گارے پتھر اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں نہیں بلکہ اپنے جذبات کی دنیا میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا دراصل ایک تخریب کار ہے اور اِس پُرامن زندگی میں جنگ، فتنہ اور فساد کی تدبیر کرتا ہے۔ اِسی فطری اصول کے بنیاد پر یعنی فساد کی آگ بھڑکانے کے جرم میں سیشن کورٹ نے راجپال کو سزا سنائی۔ اگر اِس سزا کو برقرار رکھا جاتا تو علم الدین‘ غازی ہی رہتا، شہید نہ ہوتا۔ جب عدالتیں انصاف کی بجائے مصلحت کا راستہ اختیار کرلیں تو ایسی صورت میں کسی کے جذبات کسی وقت بھی بھڑک سکتے ہیں، اور معاشرے میں انتقام کی آگ پھیلنے کا خدشہ رہے گا۔ اپنی توہین اور اپنے دین کی توہین کا بدلہ لینے کیلئے جو کوئی اٹھ کھڑا ہوگا اور اپنی جان پر کھیل جائے گا‘ لامحالہ وہ اِس کمیونٹی کا ہیرو بن جائے گا ، اور پھر ’’اقبال ‘‘ کہے گا کہ ’’ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا‘‘۔ تاریخی واقعہ ہے کہ غازی علم الدین شہید کو علامہ اقبالؒ نے خود لحد میں اُتارا تھا، اور مشاہداتی آنکھ رکھنے والے کہتے ہیں کہ اقبالؒ کو وہاں رسولِ کریمؐ کی جاگتے میں زیارت ہوئی تھی۔ یہ بات ماہنامہ سویرا کے ایڈیٹر محترم ریاض احمد نے اپنے ایک مضمون میں نقل کی ہے اور یہ واقعہ مرشدی واصف علی واصفؒ کی یادداشتوں کے حوالوں سے تحریر کیا گیاہے۔ علامہ اقبالؒ ایسا مردِ قلندر ابھی تک کوچۂ ملامت سے گزر رہا ہے، ملّا و ملحد دونوں اس قد آور شخصیت کو بالشتیا قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں، کوئی اسے سیالکوٹ کا مقامی شاعر کہتا ہے اور کوئی اس نامی گرامی فلسفی کو ’’اقبال نامی شاعر‘‘ کہہ کر خبث ِ باطن کا اظہار کرتے ہوئے طاقِ نسیاں میں رکھنے کا عندیہ دیتا ہے۔ اقبالؒ نے وحدتِ اُمت کا خواب نہ دیکھا ہوتا، اُمت ِ محمدیہؐ کے غم میں گریہ کناں نہ ہوتا، ’’خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ‘‘ کا سبق نہ دیا ہوتا، ’’کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں‘‘ کا پیغام نہ دیا ہوتا … تو یقین مانیں ‘ ٹیگور سے پہلے نوبل پرائز کا حق دار ٹھہرتا… لیکن اِس مشرق و مغرب کے بے مثال فلسفی نے دین ِ فطرت کی ترجمانی کو ترجیحا ًاختیار کیا ، غازی علم الدین شہید کی لحد میں

آکر خود لیٹ گیا ،اور اپنے علم و ہنر اور شہرت کو انسانی فطری جذبات پر مقدم نہ جانا۔ وہ علم و حلم اور عجز و انکسار کا پیکر اپنی زندگی میں اتنا بے نام نہ تھا‘ جتنا آج اسے ثابت کیا جا رہا ہے۔ اگر غازی علم الدین شہید اور راجپال کا مقدمہ اتنا ہی بعید اَز عقل و دلیل ہوتا تو قائد ِ اعظم محمد علی جناحؒ ایسا انگلینڈ پلٹ بیرسٹر اُس کیس کی پیروی نہ کرتا۔ تاریخی حقائق مسخ کرنے کی روش ہر دور میں قابلِ نفریں رہے گی۔

عقل، دلیل اور منطق آج اپنے قتل پرماتم کناں ہوگی ‘ جہاں یہ دلیل پیش کی جارہی ہو کہ ایک شخص شہید ہونے جا رہا ہے تو اسے بچانے کیلئے اپیل کیوں کی جاتی ہے، گویا محاذ پر زخمی ہونے والے سپاہیوں کی مرہم پٹی نہ کی جائے کہ وہ شہید ہونے کی آرزو میں محاذِ جنگ پر گئے تھے ،گویا کلمہ گو اپنے ملکوں میں ہسپتال گرا دیں کہ ان کے عقیدے کے مطابق تقدیر میں جس کی موت لکھی ہے ‘ آکر رہے گی، گویا آرمی والے اپنے ہاں سے میڈکل کور فارغ کر دیں ‘ کہ یہاں تو ہر فوجی شہید ہونے کی آرزو رکھتا ہے۔ چہ بوالعجبی است ! دین ِ فطرت سے مخاصمت رکھنے والا ‘ قانونِ فطرت پڑھنے سے بھی معذور ہو جاتا ہے۔

ماضی قریب میں ایک گورنر کا اُس کے باڈی گارڈ کے ہاتھوں قتل کے معاملے پر اگرچہ قوم منقسم ہے، لیکن اِس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی ہے کہ وہ شانِ رسالت مآبؐ کے بارے میں اپنے باڈی گارڈ کی موجودگی میںصبح شام مغلظات بکتا تھا ‘ جسے سن سن کر اُس کے صبر کا پیمانہ لبریز

ہوگیا۔ قتل کے دن بھی اُس کا اپنے باڈی گارڈ سے مکالمہ ہوا تھا، وہ کلماتِ خبیثہ عدالت کے ریکارڈ کا حصہ ہیں، ہمارا قلم تو یہ جرات نہیں کرتا کہ دہرا سکیں۔ بات صرف اتنی نہ تھی کہ ایک قانون کا’’کالا قانون‘‘ کی پاداش میں کسی خطیب کے کہنے میں مشتعل ہو کراسے قتل کر دیا گیا۔ بہر طور اُس وقت حالات یہ تھے کہ گورنر کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہ تھا، اور درج ہو بھی کیسے سکتا تھا‘ جب گورنر اور صدر کو قانون میںامیونٹی حاصل تھی۔ یورپی فکر کی نمائندگی کرنے کے خواہشمند حضرات ذرا پلٹ کر یورپ کی بھی خبر لیں، یورپی یونین نے بھی قانون سازی کر لی ہے ، اب وہاں توہین ِ رسالتؐ آزادی اظہارِ رائے نہیں بلکہ قابل ِ دست اندازی قانون ہے، اس پر جرما نہ ہوتا ہے۔ جب سے قانون سازی ہوئی ہے ‘وہاںیہ طوفانِ بدتمیزی تھم چکا ہے۔ یورپ نے یہ جانا کہ ہالوکوسٹ کی طرح قانونِ توہین اَدیان بھی متشکل ہونا چاہیے … اور یہاں ایسے قوانین کو ختم کرنے کی مہم جوئی کی جارہی ہے۔کوئی قانون اِنسانی جذبات کو نظرانداز کرتے ہوئے نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ قانونِ فطرت سے اعراض بہرطور قابلِ اعتراض ہے۔ توہین دین ، توہین ِ شعائر دین، اور توہین ِ صاحبِ دینؐ …ایسا حساس معاملہ ہے کہ اِس پر قانون سازی اَمن و سکون کیلئے عین ضروری اور فطری ہے۔

قانون صرف کاغذوں میں لکھنے کیلئے نہیں ہوتا بلکہ عمل درآمد کیلئے ہوتا ہے۔ Justice delayed is justice denied قانون ہی کا کلیہ ہے۔ اگر قانون بروقت حرکت میں آئے تو کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی ضروت ہی نہ پیش آئے۔ اگر عدالتیں ملزم کا پاسپورٹ دیکھ کر فیصلوں میں تاخیر کریں تو یہ دہرا معیار دیکھ کر عدالتی نظام سے عوام الناس کا اعتماد اٹھ جاتا ہے، ایسے میں کوئی بھی جذباتی نوجوان کوئی بھی حرکت کر سکتا ہے۔

خواب کا معاملہ جدا ہے… خواب اور حقیقت میں فرق ہوتا ہے۔ خواب حجت نہیں ہوتا، خواب دیکھنے والے کیلئے اُس کا اپنا خواب حجت نہیں تو دوسروں کیلئے وہ حجت کیونکر ہو گا۔ نبیؐ اور اُمتی کے خواب میں فرق ہے، اور اتنا ہی فرق ہے جتنا خود نبیؐ اور اُمتی میں فرق ہے۔ تکنیکی طور پر ہیرا بھی کاربن ہوتا ہے لیکن کوئلے اور ہیرے میں فرق ہر ذی بصیرت خوب جانتا ہے۔ تکنیکی دلیل کی بنیاد پر اگر کوئی ہیرے کو کوئلے کی مثل گردانے تو اُس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ نبیؐ کا خواب بمنزلہ وحی ہوتا ہے، نبیؐ کو نیند سے بیداری کے بعد وضو تازہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے کہ اُس کا دل نہیں سوتا۔ اُمتی کا خواب خواہ کتنی ہی خوبصورت زیارت کا سامان لے کر آئے‘ قابلِ تعبیر ہوتا ہے۔ خواب دیکھنے والا جب کسی مقدس ہستی کو دیکھتا ہے ‘ وہ خواب دیکھنے والے کے ظرف اور نورِ ایمان کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی خواب جب تک شریعت ( یعنی قانونِ عقل) کے پیمانے پر پورا نہ اُترے‘ اُسے بعینہٖ حقیقت کی دنیا میں منطبق نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایساخواب سنانے والا اُمت کو ایک دوارہے پر لاکھڑا جا سکتا ہے ‘ اگرکوئی اس کی بات پر یقین کرے تو اسے خواب دیکھنے والے پر ایمان باالغیب لانا پڑے گا، اگر انکار کرتا ہے تو اسے رویائے صادقہ کی روایت پر شک کرنے کا گناہ اپنے سر لینا ہوگا۔ اس سلسلے میں حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کی رہنمائی ایک مشعلِ راہ ہے، اپنے ایک خط میں علامہ اقبالؒ ختم ِ نبوت ؐ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ عقیدۂ ختمِ نبوتؐ دراصل امت مسلمہ پر ایک احسانِ عظیم ہے، یہ مسلمان قوم کی عقل ِ سلیم پر انعام ہے، اب کوئی شخص ایسا نہیں ‘ جس کی بات ماننے کیلئے ہمیں اپنی عقل کو قربان کرنا پڑے۔ وہ نورِ مجسم ذات جس کا دیدار خواب کے بھی عالم میں ہو جائے تو انسان کے دونوں جہاں آباد ہوجاتے ہیں‘ اسی پاک ہستی کا فرمان ہے کہ خواب کو کسی عالم یا کسی خیر خواہ کے علاوہ کسی کے سامنے بیان نہ کرو۔

اُسوۂ رسولؐ سے شناسا اور مزاجِ رسولؐ سے آشنا مسلمان بخوبی جانتا ہے کہ خواب میں آکر کسی کے قتل کا حکم دینا ‘ شفیع المذنبین اور رحمت اللعالمین ؐذات کے شایانِ شان نہیں۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا کہنا ہے کہ خواب دیکھنا اور پھر خواب دیکھنے کے خواب دیکھنا درحقیقت حقیقت کو نہ دیکھ پانے کے اضطراب کا نتیجہ ہے۔ ہم نے جب سے مرشد کا یہ سنہرا قول حرزِ جاں بنایا ہے‘ کوئی شخص اپنے دلفریب خواب سنا کر ہمیں گمراہ نہیں کر سکتا۔ خواب ‘خواب رہے گا جب تک اسے تعبیر میسر نہ آئے… اور تعبیر کرنے والا معبر قابلِ اعتبار ہونا چاہیے، اگر معبر ہی پر اعتبار کرنا ہے تو خواب دیکھنے کا انتظار کیوں کیا جائے؟ براہِ راست راستہ اپنے سے بہتر فہم رکھنے والے انسان سے کیوں نہ دریافت کر لیا جائے؟؟


ای پیپر