تصویریونان:ایک پہلو یہ بھی ہے
05 اگست 2020 (13:10) 2020-08-05

قدیم یونان کی عورت کا جو منظرپارتھینان میں دیکھا اس سے یونان قدیم میں عورت کے مقام و مرتبے کوجاننے کی خواہش پیداہوئی ۔یونان اور بالخصوص ایتھنز کوجمہوریت کی جائے پیدائش قراردیاجاتاہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ارسطوکے نزدیک عورت، مردکی غلام تھی ۔بس اس کی حیثیت غلام سے زرا زیادہ تھی۔ اس کے نزدیک غلامی کا ادارہ آقااور غلام دونوکے لیے فائدہ مندتھا ۔وہ آقاکو روح اور غلام کو جسم قراردیتاتھا۔اس لیے اس کے نزدیک حیوان کو انسان اور عورت کو مردکے زیرنگیں رہناچاہیے ۔اس نے اسکندرکو عورت سے دوررہنے کی ہدایت کی۔فلیس ( Phyllis)نامی خاتون ،نے جو اسکندر میں دلچسپی رکھتی تھی خودارسطو کے اعصاب پر سوار ہوکراس کا بدلہ لیا۔اس نے ایک منصوبے کے تحت یہ منظر اسکندرکو دکھایا۔تیرھویں صدی کے فرانسیسی مصوروں نے کہانی کے اس منظر کی رنگارنگ تصویریں بنائی ہیں ،جن میں فلیس (Phyllis)نامی خاتون صرف ارسطوکے اعصاب پرہی نہیں کہن سال فلسفی کو گھوڑا بناکر اس کی کمرپر بھی سوار دکھائی گئی ہے۔بعض مصوروںنے گھوڑے کو تو کپڑے پہنائے لیکن سواری کو نہیں۔اسکندرنے یہ منظردیکھاتو استادسے پوچھاکہ یہ کیاہے؟ ارسطونے جواب دیایہی سبب ہے کہ میںنے تمھیں عورت سے دوررہنے کا مشورہ دیاہے، میں ایک بوڑھا شخص ہونے کے باوصف اس سے نہیں بچ سکا،تم نوجوان ہواوراس کے سامنے تمھارامعاملہ تو آگ اور تیل کا سا ہے۔من نکردم شما حذربکنید۔

عورت کی اثرپذیری کے اس پہلو کے ساتھ یونانی ریاست اسپارٹا کی قدیم تاریخ پر بھی نظرڈالی جائے تو معلوم ہوتاہے کہ وہاں مردوں کے لیے فنون جنگ سیکھنالازم تھاتو عورتوں کی صحت جسمانی کے لیے ورزشیں اورکھیلوںکے مقابلے لازم تھے ۔وہ قانونی طور پر کشتی کے مقابلوں کی بھی پابندتھیں۔ اسپارٹا اور ایتھنز دومختلف رویوں کے حامل علاقے رہے ہیں۔ ایتھنزوالوں کا رویہ فن کارانہ اور اسپارٹاوالوں کا عسکری رہاہے لیکن ان دونو علاقوں کا باہمی فاصلہ ڈیڑھ سوکلومیٹرسے زیادہ نہیں ۔اسپارٹاکے شہری صرف وہ لوگ بن سکتے تھے جن کابراہ راست تعلق ڈورینزقبیلے سے ہوتاتھا۔ ڈورینزکانام تو وسطی

یونان کے ایک شہر ڈورس کے نام پر رکھاگیا لیکن اصل میں اس تقسیم کی بنا نسلی اور لسانی تھی ۔یہ لوگ خودکویونان کے اساطیری ہیروہرکولیس کی اولادکہتے اور اپنے الگ لسانی لہجے سے پہچانے جاتے تھے ۔شہریت کے لیے اس کڑی شرط کے باعث اسپارٹاکی آبادی چھ سات ہزارسے زیادہ نہیں رہی۔

اسپارٹاوالوں کا مزاج اس حدتک عسکری تھاکہ پلوٹارک کے مطابق وہاں کے قانون سازوں نے استقرارحمل اورجنین کی پرورش تک کوقانون کی جکڑبندی سے مستثنیٰ نہیں رہنے دیاتھا۔بچے کی ولادت کے چندروزبعد اسے پنچایت میں پیش کیاجاتاتھاجہاں نومولود کی شکل و صورت اوراس کے قویٰ کامعائنہ کیاجاتا۔اگروہ مستقبل میںتندرست اور مضبوط سپاہی بننے کے قابل دکھائی دیتاتواس کانام قوم کی فہرست میں داخل کرلیاجاتااورایک خاص مقدار میں جائداداس کے نام لکھ دی جاتی۔ اگر اس کی شکل اور اس کے قویٰ اس کے برعکس دکھائی دیتے تو بڑی بے رحمی کے ساتھ کوہ تے گتوس پر لے جاکراسے کسی گہری کھائی میں پھینک کر تلف کردیاجاتاتاکہ ایک ناتوان زندگی سے اسے اور اس کی قوم کو محفوظ رکھاجاسکے۔سات برس کی عمر کوپہنچتے ہی ہرلڑکاایک سرکاری افسرکی نگرانی میں دے دیاجاتاتھاجواسے مشقتوں کا عادی بناتا۔بیس برس کی عمرتک اسے جنگ اور قواعدجنگ کی تربیت دی جاتی ۔بیس برس کی عمرمیں اگرچہ اسے شادی کی اجازت مل جاتی لیکن بیوی کے پاس جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی، اس کے لیے اسے مزیددس برس انتظارکرناپڑتاتھا۔تیس برس کی عمرمیں اسے پوراآدمی تسلیم کیاجاتاور حقوق شہریت حاصل ہوجاتے تھے ۔تاریخ یونان قدیمکے مطابق کوئی اسپارٹائی ماں اپنے بیٹے کی موت پر اتنی رنجیدہ نہیں ہوتی تھی جتنی اس کی بزدلی یا میدان جنگ سے بھاگ آنے پر ۔عسکریت کے اس رویے کا کچھ نہ کچھ اثرتو آج کے یونان پر بھی دکھائی دیتاہے کہ آج بھی ہر یونانی مردکو مسلح افواج کے کسی نہ کسی شعبے میں ایک سے ڈیڑھ برس تک خدمات انجام دیناہوتی ہیں۔

اسپارٹاوالوں کے اس طرزِعمل کے باوجود،ان جکڑبندیوں کے باوصف انسانی زندگی کا مزاج اوراس کے اوصاف اپنارنگ دکھاتے رہتے ہیں۔ یقیناً اس زمانے میں بھی محبت کی داستانیں تخلیق ہوتی ہوں گی۔افسانوی ادب جس کی مثالوں سے بھرادکھائی دیتاہے ۔ہمارے ادب میں یونان،یونانی عورت اور اس کے حسن وجمال کی جو تصویریں پیش کی گئی ہیں انھیں تاریخ یونان کے مقابل رکھ کر دیکھیں تو اندازہ ہوتاہے کہ دوری ،جب تخیل کے نردبان پر سوارہوتی ہے توکیاکیاپھول کھلاتی ہے ۔ہمارے ہاں یونانیوں کے مذاق ِحسن کی خوب خوب تجلیل کی گئی ہے اورکہاگیاہے کہ عورت اوراس کے لطیف متعلقات کی نسبت یونانیوں کی نازک خیالیاں اتنی اچھوتی اور دنیاسے نرالی تھیں کہ ہماری زبان میں ان کے اظہارکے لیے موزوں الفاظ موجودنہیں ۔ بعض اوقات تو ان پہلووں کو پیش کرنے والے، حد اعتدال سے تجاوز کرجاتے ہیں۔جس کے باعث نقاد کوشاعروں، صورت گروں اورافسانہ نویسوں کے اعصاب میں ناہمواری دکھائی دینے لگتی ہے اوروہ انھیں چشم آدم سے مقامات ِبلندکے چھپانے اورروح کوخوابیدہ کرنے کا الزام دینے سے بھی نہیں چوکتا۔

یونانی مردوں کے بارے میں مارگریٹ مارکیوس نامی امریکی خاتون، جنھوںنے اسلام قبول کرکے مریم جمیلہ نام پایا، کے تاثرات بہت چشم کشاہیں۔ وہ جب اپناآبائی مذہب یہودیت ترک کرکے پاکستان آرہی تھیں تو’ دی ہیلینک ٹارچ‘ نامی یونانی بحری جہازکے عملے، ہم سفروںاور بہ طور خاص جہازکے یونانی کپتان کے حوالے سے انھوںنے اپنے تجربات بے کم و کاست بیان کیے ہیں ۔یہ لوگ مسلمانوں کے بارے میں بہت خراب رائے رکھتے تھے۔ ان کے طرزفکروعمل کا اندازہ کپتان کے رویے سے کیاجاسکتاہے جس کے خیال میں مسلمان Backward, ignorant, filthy and religious fanatics (p 31)ہوتے ہیں ۔ مریم جمیلہ کے بہ قول ایک دن کپتان ان کے ساتر لباس کامذاق اڑاتے ہوئے بدتمیزی پر اترآیاwhen he told me to take off my clothes "because I like naked woman"(P 52)جس پر مصنفہ کو باقاعدہ پولس اسٹیشن جاکر اطلاع دیناپڑی ۔یہ ساٹھ کی دہائی کے تجربات ہیں جن کی تفصیلات ان کی کتاب At Home in Pakistan (1962-1989) : The Tale of an American Expatriate in her adopted Country میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ کرنل(ر)اشفاق حسین اس کتاب کو’’ امریکہ سے ہجرت‘‘ کے نام سے اردومیں بھی منتقل کرچکے ہیں۔ (ناشر:ادبیات،لاہور انگریزی، ۱۹۹۰ء اردو ، ۲۰۱۲ء)


ای پیپر