محبتوں کا تاجر دُکان چھوڑ گیا
05 اگست 2020 (13:05) 2020-08-05

خوراک کے کسی لقمے نے کبھی یہ احساس نہیں دلایا کہ وہ کس علاقے کی پیداوار ہے؟کس زمین کی زرخیزی سے ابھرا اور کس کا نصیب بنا۔سبزیوں اور پھلوں کے ذائقوں نے کبھی اپنی اصلیت کی جدائی کا احساس نہیں کیا کہ وہ کسی خطہ ارض سے پھوٹے ، کن نعمتوں سے پروان چڑھے اور آج کس کے خون کا حصہ بن رہے ہیں ۔ معدنیات کی نعمت نے کبھی جھٹکے نہیں دئیے کہ مجھے کس مٹی نے جنم دیا اور میں کس کس جگہ ، کس کارخانے کا ایندھن بنی۔دریاؤں کی آبیاری نے کبھی احتجاج نہیں کیاکہ میں کہاں سے پھوٹا، کس کس پتھر نے مجھے تھپیڑے مارے اور آج کس حصہ کی آبیاری کرتا ہوااپنا وجود کھو بیٹھا۔اسے صرف پہلی فکر لاحق ہوتی ہے کہ میرے فنا کی طاقت کسی جاندار کی زندگی میں معاونت کے قابل ہو جائے۔یہ صرف انسان ہی ہے جہاںفتنے بھی ہیں اور رواداری بھی اور بھائی چارے کے سبق بھی۔جہاں نفس پرستی بھی ہے اور خدمت خلق کے جذبے بھی۔جہاں لالچ اور خود غرضی بھی ہے اور خلوص کی نعمت بھی جہاں لوٹ مار بھی ہے اور ایثار بھی۔جہاں تکبر بھی ہے اور بے مثال قربانیاں بھی۔ہم آج کیوںاس قدر مختلف ہوگئے کبھی ہم نے سوچا جہاں غرضیں جنم لیتی ہیں وہاں مایوسیوں کے بسیرے بھی ڈیرے ڈال لیتے ہیں ۔جہاں توقعات بڑھتی ہیں وہاں خلوص کے گھاٹے پڑتے ہیں ۔جہاں غرض مندی اور لالچ کے ہاتھ بڑھتے ہیں وہاں خود اعتمادی اور خودداری کا اجاڑہ ہو جاتا ہے۔جہاں شہرت کی تعمیر بڑھتی ہے وہاں انسانیت کی تعمیر بگڑتی ہے۔جہاں خودنمائی کا شوق بڑھتا ہے وہاں حقیقت کی فکر گھٹتی ہے۔جہاں جوش اور جذبوں کے مظاہرے ہوتے ہیں وہاں رواداری کا فقدان ہوتا ہے۔جہاں غصہ بڑھتا ہے وہاں انکساری گھٹتی ہے۔اللہ تبارک تعالیٰ نے لوگوں کی پہچان کے لئے ان کو مختلف ذاتوں اور طبقوں میں تقسیم کیا۔آج ہر گروہ ہر ذات ہر برادری کی اپنی ایک پہچان ہے ۔سادات اور اعوانوں پر اللہ کا یہ کرم ہوا کہ ان کو پہچان حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی عظیم نسبت سے ہوئی۔ہمارے لئے یہ بہت بڑا تعارف ہے اسی طرح دوسری تمام ذاتوں کا بھی اپنی اپنی جگہ بڑا قابل فخر انداز میں تعارف موجود ہے۔آج میں خانوادہ ِ ملک کرم بخش اعوان پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں ۔آج ملک کرم بخش اعوان نے اعوان قوم کو جو عزت بخشی ہے ، چین کے بارڈر سے لے کر بحیرہ ٔ عرب تک اور ہندوستان سے افغانستان تک جہاں جہاں اعوان رہتے

ہیں وہ اپنی قوم کی تاریخ اور ملک کرم بخش کی شخصیت سے واقف ہیں۔خاندان کا ہر فرد اپنی زبان پر شہد جیسی مٹھاس لے کر صبح سے شام تک انسانی خدمت میں لگا ہوا ہے۔آج میں اس خاندان کے انتہائی نرم مزاج، حلیم طبع اور دنیا کے بھرے ہوئے میلے کو چھوڑ جانے والے شخص ملک شکیل اعوان کے متعلق لکھنا چاہتا ہوں ۔اس خاندان سے میرا تعلق1968ء میںقائم ہوا۔اس خاندان کو قریب سے دیکھنے، سمجھنے اور پرکھنے کا موقع ملا۔شرافت اور وضع داری کوٹ کوٹ کر اس خاندان کی نس نس میں بھری ہوئی ہے۔میرا ان لوگوں سے رشتہ خون کے رشتوں کی طرح نہیں ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ میرا ان سے خون کا رشتہ ہے تو زیادہ موزوں رہے گا اور یہ حقیقت بھی ہے۔جب 1982ء میں ملک کرم بخش صاحب نے تنظیم الاعوان کی بنیاد رکھی۔ان کی وفات کے بعد یہی فرائض ان کے بڑے صاحبزادے اور انتہائی وضع دار انسان ملک بشیر اعوا ن نبھاتے رہے۔ان کی وفات پر میںنے ’’مقناطیسیت کا پہاڑ ‘‘کے عنوان سے کالم لکھا۔بلاشبہ ملک صاحب مقناطیسی شخصیت ہی کے مالک تھے۔ملک صاحب کی شخصیت ملنے والوں کو دور سے کھینچ کر اپنے ساتھ جوڑ لیتی تھی اور وہ شخص لوہے کی طرح ملک صاحب کے ساتھ چمٹ جاتا تھا۔مقناطیس کے کھچاؤ کے ان متاثرین میں، میں بھی شامل ہوں ۔ان کے مقناطیس کی محبت میںوہ کشش تھی جس کو لڑیوں میں پرونا مشکل ہے اور آج ان سے خونی رشتہ نہ ہونے کے باوجود خونی رشتے کا دعوے دار ہوں ۔ خدا گواہ ہے ہمیں محسوس بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ملک بشیر اعوان صاحب کے اس دنیا سے چلے جانے سے ان کے خاندان نہیں ، ان کے جاننے اور چاہنے والوں کا ہی نہیں بلکہ پورے اعوان قبیلے کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوا۔صبر و تحمل ، برداشت اور بھرپور انسانیت ملک بشیر اعوان کا خاصہ تھا۔ ان کے بعد تنظیم الاعوان کا علم ملک شاکر بشیر اعوان اٹھا کر سامنے آئے۔ یہاں تک کی ساری کہانی آکر ملک شکیل اعوان کے گرد گھومتی ہے۔ملک شکیل اعوان صرف دو ہفتے پہلے ہم سب کو سوگوار چھوڑ کر خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ابھی تک شکیل اعوان سے محبت کرنے والے دہائیاں دے کر رو رہے ہیں۔پورے گھر اور خاندان کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ میاں محمد بخش صاحب نے بالکل صحیح فرمایا ہے۔

دکھئیے دی گل دکھیا جانڑیں ، سُکھیئے نوں کی خبراں

جگر جنہاں دے موت نے مارے تک تک روندے خبراں

اب اس خاندان کی ساری سیاست اس درویش شخص کے گرد گھومتی تھی۔شاکر بشیر اعوان کی بے پناہ مصروفیت کا بوجھ ملک شکیل اعوان کے سر پر تھا۔تمام کاروبار، سارے خاندان کی محبت کی چابیاں مرحوم کی جیب میں تھیں ۔میری بدقسمتی کہ میں صحت کی خرابی کی وجہ سے تیسرے ہفتے ان کے افسوس کے لئے پہنچ سکا۔ میرے خاندان کے سب لوگ ساتھ تھے۔لیکن وہاں سے واپس آ کر آج تیسرا دن ہے نہ بھوک ہے نہ نیند۔ہر وقت مرحوم کا چہرہ آنکھوں کے سامنے ہے۔اپنا غم دیکھ کر خیال آتا ہے کہ کیا حشر ہوا ہوگا ان لوگوں کا جب ان پر دل دہلا دینے والی خبر پہنچی ہوگی۔ملک شکیل اعوان کے غم میںوبائی مرض’’ کورونا ‘‘کے خوف کے باوجود جتنے لوگ جنازے میں آئے ، پھر جس طرح تین ہفتے سے لوگ ابھی تک زاروقطار رو رہے ہیں مجھے اس جوان اعوان بیٹے کی موت پر شعر یاد آ رہا ہے :

مجھ کو معلوم نہ تھا تیری قضا سے پہلے

نجم تاباں بھی زمین دوز ہوا کرتے ہیں

انسان کو اپنے اعمال اور کئے کا پھل دنیا میں مل جاتا ہے۔شکیل اعوان نے انسانیت کی جو خدمت کی پھر جس طرح انتہائی مخلص طریقے سے بھائی بلکہ سارے خاندان کی سیاست کو سنبھالا دئیے رکھا۔یہ اپنی مثال آپ ہے۔ان کی جوانی کی موت پر گریۂ و زاری کا سن کر یہ شعر یاد آ گیا۔

کیا نزع کی تکلیفوں کا مزہ جب موت نہ آئے جوانی میں

کیا لطف جنازہ اٹھنے کا ہر گام پہ جب ماتم نہ ہو

ان کے غم کا جو پہاڑ آج بڑھاپے میں ان کی ماں ، ان کی اکلوتی، چھوٹی اور پیاری بہن، ان کی اکلوتی اورلختِ جگر لیڈی ڈاکٹر بیٹی، اکلوتے پیارے چہیتے بیٹے اور پھر سب سے بڑھ کر ان کی زوجہ محترمہ جن کے شریکِ حیات جوانی میں ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے اس دکھ کو لفظوںمیں بیان کرنا مشکل ہے۔عید پر پاکستان کے سب سے بڑے اعوان قبیلے کے لوگوں کے ملک بھر سے تعزیتی پیغام موصول ہوتے رہے تو میرے دماغ میں میاں محمد بخش کا یہ شعر بار بار گونجتا رہا۔

عیداں تے شبراتاں آئیاں

لوکی گھراں نوں آئے

او نہیں آئے محمد بخشا ء

جیڑے آپ ہتھیں دفنائے

اللہ تبارک تعالیٰ اس پورے خاندان کو اپنی پختہ پناہ گاہ میں لے آئے ۔ ملک شکیل اعوان کی ابھی جانے کی عمر نہیں تھی لیکن اللہ بے نیاز اور بے پرواہ ہے۔اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔ ان کے جانے پر ہر شخص سوگوار ہے۔


ای پیپر