شرلیاں پٹاخے نہ چلانا…؟؟؟
05 اگست 2020 (13:02) 2020-08-05

ایک باورچی بارات کیلئے کھانا تیار کر رہا تھا کہ اس سے چاول خراب ہو گئے،اب اس نے اپنے بچا کیلئے بہانہ ڈھونڈھا اورگھر والوں کو کہا کہ باراتیوں کو کہنا کہ شرلیاں پٹاخے نہ چلائیں ورنہ چاول خراب ہو جائینگے،اب جب برات آئی تو انہوں نے شرلیاں پٹاخے چلانے شروع کردئیے تو باورچی اپنا ڈنڈا ڈورا رکھ کر یہ کہتے ہوئے چل پڑا کہ تہانوں آکھیا سی نا شرلیاں پٹاخے نہ چلانا،ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار عمران خان جب سے اقتدار میں آئے ہیں ہم یہ کردیں گے ہم وہ کردیں گے ن لیگ کھا گئی پیپلز پارٹی کھا گئی کی کتھا سے آگے نہیں بڑھے دوسال سے زمین وآسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں126 دن کے نام نہاد دھرنے میں میڈیا کو پیرومرشد کہتے تھے جس کا برملا اظہار انہوں نے شہر اقتدارکا تاج سرپر سجانے کے بعد بھی کیا کہ اگر میڈیا ساتھ نہ دیتا تو آج شائد میں وزیر اعظم نہ ہوتا اب وہ میڈیا کو ہی زیرعتاب کرنے کے چکر میں ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام؟ وزیراعظم عمران خان بجائے اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھتے انہوں نے میڈیا پر وار کرنے شروع کردئیے اور تنقید کا جواب دیتے ہوئے لوگوں سے کہا تھا کہ جب مشکل ہو تو نہ اخبار پڑھیں اور نہ ہی شام کو ٹی وی ٹاک شوز دیکھیں،وہ عوام کو مہاتیرمحمد کی مثال دیتے ہوئے صبر کرنے کا کہتے ہیں کہ تبدیلی آنے میں کچھ وقت ضرور لگے گا لیکن وزیراعظم موصوف یہ بھول گئے ہیں کہ مہاتیرمحمد نے عوام کو خوشحالی دی،ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا اور ہم نے کیا کیا ،آج کرپشن کا جن بے قابو ہے چینی آٹا گندم پٹرول کے نام پر عوام کو لوٹا جا رہا ہے،تبدیلی سرکار نے ن اور پی پی سے نکالے یا چلے ہوئے کارتوس گلے سے لگا رکھے ہیں اور وہ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ پچھلی حکومتیں کھا گئیں ان سے یہ کوئی پوچھے کہ پچھلی حکومتوں میں بھی یہی لوگ براجمان تھے، ملک میں مہنگائی قابو سے باہر ہوگئی ہے اور دوسری طرف حکومت پر آئی ایم ایف کا دباؤ بھی ہے وہ مہنگائی پر قابو پانا چاہتے ہیں لیکن ناکامی پر وہ ذمہ دار گذشتہ دور حکومت کو گردانتے ہیں،حالانکہ وزیر اعظم عمران خان کی مرکز اور پنجاب حکومتوں اور پی ٹی آئی کے اندر مخلوط حکومت میں دراڑیں آنا شروع ہوگئی ہیں جس نے انہیں کچھ حد تک ہلا کر رکھ دیا ہے،وزیر اعظم کو اس وقت صرف اتنا فائدہ ہوا ہے کہ اپوزیشن تقسیم ہے،حکمران جماعت کے اندر ایک لابی اس بات سے بھی خائف ہے کہ اتحادی اپنے طور پرکچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اپنے ہینڈلرزکی وجہ سے دشواریوں کاشکار ہیں، عثمان بزدارکی جگہ بطور وزیراعلی پنجاب پرویز الٰہی کی تبدیلی کی حمایت زور پکڑتی جارہی ہے اور انہیں مسلم لیگ کے مقابلے میں ایک بہترانتخاب سمجھا جا رہا ہے،لیکن یہ بات وزیراعظم کے ساتھ ساتھ پارٹی کے مضبوط ترین رہنما جہانگیر ترین، وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی اور گورنر پنجاب چوہدری سرور کیلئے آسان نہیں ہے اور کچھ نہیں تو وزیراعظم عمران خان کرونا بارے بیان پر کہتے ہیںگھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ،کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتیں گے،عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت ویسے ہی دباؤ کا شکار تھی، پاکستان کی برآمدات پر کورونا وائرس کا اثر پڑے گا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ قوموں کی ترقی نوجوانوں کی ترقی سے منسلک ہے، نوجوان ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں ملک کو قائداعظم اور علامہ اقبال کے وثرن کے مطابق بنانا میرا خواب ہے، قوموں کی زندگی میں مشکل وقت آتے رہتے ہیں جس سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ مشکل حالات سے سیکھنے کی ضرورت ہے،مہنگائی کے ذمہ دار مافیاز کا خاتمہ کریں گے جبکہ مافیا سر چڑھ کراپنا جنتر منتر پڑکر ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے،اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بہت سی نعمتیں دی ہیں، یہ ملک مختلف تہذیبوں کا گہوارہ ہے جو ہمارا اثاثہ ہیں لیکن ہمارا سب سے بڑا مسلہ کرپشن ہے لاکھ کوششوں کے باوجوددو سال بعد بھی ملک کوریاست مدینہ نہیں بنایا جا سکا وہ اس لئے کہ چیک اینڈ بیلنس کا فقدان ہے حکومت میں بیٹھا ایک تگڑا مافیا ملک کو اپنے طریقے سے چلا رہا ہے، سفارشی کلچر اور اقرباء پروری آج بھی زوروں پر ہے، ملک کی کثیر آبادی غربت میں پستی ہو اور غریب کیلئے قانون اور امیر کیلئے اور ہو تو کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا،وزیر اعظم پھر بھی کہتے ہے کہ گھبرانا نہیں شائد یہ ان کا تکیہ کلام بن گیا ہے؟دو سال سے وزیر اعظم کہہ رہے ہیں،مہنگائی کے ذمہ دار مافیاز کو چن چن کر پکڑیں گے چینی ،آٹا،گندم آج بھی غائب ہیں کیوں نہیں انہیں پکڑا جاتاکیا ذخیرہ اندوزوں ،مہنگائی کرنے والوں نے سلمانی ٹوپی پہن رکھی ہے کہ وہ پکڑے نہیں جاتے؟ حکومت کہتی ہے عوام ہم پر اعتماد کرے ،جب غریب اور دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہو گا تو عوام کیا خاک اعتماد کرے گی،عمران خان یہ کردیں گے وہ کردیں گے سے آگے بڑھیں تاکہ کل کو اس باورچی کا طرح یہ نہ کہنا پڑے کہ شرلیاں پٹاخے نہ چلانا؟؟؟


ای پیپر