مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق معطل
05 اگست 2019 (20:20) 2019-08-05

سرینگر : مقبوضہ کشمیر میں مسلسل غیریقینی صورتحال کے دوران قابض انتظامیہ نے وسیع پیمانے پر کرفیو نافذ کرکے لوگوں کی نقل وحرکت اورعوامی جلسوں اورجلوسوں کے انعقادپر مکمل طورپرپابندی عائد کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیاگیا ہے جبکہ پورے جموںوکشمیرمیں انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے۔ سرکاری حکنامے کے مطابق اہم سروسز کے شناختی کارڈز کو کرفیو پاس تصور کیاجائے گا۔حکمنامے میں کہاگیا کہ لوگوں کی نقل وحرکت پر مکمل پابندی ہوگی اور تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ زیادہ تر تعلیمی اداروں نے طلباء کو ہوسٹلز خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ گزشتہ ہفتے مقبوضہ علاقے میں وارد ہونے والی اضافی فورسز کو وادی کشمیر اور جموںخطے میں تعینات کیا گیا ہے اورسول سیکرٹریٹ، پولیس ہیڈکوارٹر ،ہوائی اڈوں اور مختلف سرکاری اداروں سمیت اہم تنصیبات کی سکیورٹی میں اضافہ کردیاگیا ہے۔

سرینگر اور دیگر شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں سمیت تمام بڑی شاہرائوں پر ناکے لگائے گئے ہیں جبکہ ہجوموں پر قابوپانے والی گاڑیوں کو بھی تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے۔ دریں سید علی گیلانی اور میر واعظ عمرفاروق سمیت تمام حریت پسند قیادت کو گھروں یاجیلوں میں نظربند کردیا گیا ہے۔سابق کٹھ پتلی وزراء اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو بھی گھروں میں نظربند کردیا گیا ہے ۔ عمرعبداللہ نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ سرکاری افسران کے مطابق موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کی جارہی ہے اورغیر اعلانیہ کرفیونا فذ کیا جارہا ہے۔

پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی کرفیو کے نفاذ کے بارے میں ٹویٹ کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ موبائل فون سمیت انٹرنیٹ سروس معطل کی جارہی ہے اور کرفیو پاس جاری کئے جارہے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ کل ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ یہ ایک طویل رات ہوگی ۔ کانگریس رہنما عثمان مجید اور سی پی آئی ۔ایم کے رہنما محمد یوسف تاریگامی جیسے سیاسی رہنمائوں کوبھی گرفتارکرلیاگیا ہے۔ ادھر ضلع مجسٹریٹ اسلام آباد نے ایک حکمنامہ جاری کیا ہے جس میں پٹرول کے ڈیلرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ضلع مجسٹریٹ یا مجاز آفیسر کی اجازت کے بغیر پٹرول نہ بیچیں۔


ای پیپر