یہ ہے مودی کا اصل چہرہ
05 اگست 2019 2019-08-05

کب کب ،اور کہاں کہاں آنسو بہائیںگے، ۔ یہ سمجھ نہیں آئی کہ ہو کیا رہا ہے ۔ ایک بار سولہ دسمبر71 کی ایک یخ بستہ اور سرد رات کو لوگوں کو اداس اور کچھ کو دھاڑیں مارتے ہوئے دیکھا ۔ہر کوئی ایک دوسرے کو تسلی دے رہا تھا۔غم واندو کی اس کیفیت کا کچھ عنوان بھی تو ہوگا۔تھا ضرور تھا پاکستان جو قائد کی نشانی تھی دو لخت ہو گیا تھا ۔ اپنوں کی غداری تھی ۔مگر بھارت وہ اصل وار کرنے میں کامیاب ہو گیا جو1947ء سے دو قومی نظریے کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس وقت کے عیاش اور شرابی صد ر یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان توڑنے میں جو کردار ادا کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا ۔ پاکستان کے مشرقی حصے کی جب سمجھ آئی اس کو بھولتے بھولتے وقت لگا۔ کشمیر کی آزادی کے بغیر تقسیم کا ایجنڈا نامکمل سمجھتے تھے ۔اس کا اعادہ ہمارے لیڈر بھی کرتے رہے ۔ اب بھارت نے تو ہمارا پتہ ہی کاٹ دیا ہے ۔بھارت کے حالیہ انتخاب نے ثابت کردیا تھا کہ بھارت میں سیکولرازم کا جنازہ نکل گیا ہے مودی سرکار جنگی جنون میں کچھ بھی کر سکتی ہے ۔۔ ہمارے وزیر اعظم چاہتے تھے کہ مودی جیتے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا، مودی جیت گئے اور ایسی اکثریت سے جیتے کہ بھارت کی کوئی جماعت مقابلے میں نہ ٹھہر سکی۔ ابھی کل کی بات ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشمیر کے سوال پر ثالثی کی بات کر رہے تھے ۔ گزرے آخری آٹھ امر یکہ صدور نے ایسا وعدہ نہیںکیا تھا۔ ذرا سازش سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ہماری حکومت اور وزیر اعظم ٹرمپ سے ورلڈ کپ جیت کر آئے ، ۔ کتنا ٹھنڈا کرکے مارا ہے پاکستان کو۔ ابھی دو دن پہلے کی بات ہے کہ ٹرمپ نے یو ٹرن لیتے ہوئے پاکستان کو بتا دیا تھا کہ بھارت مانے گا تو ہو گی ثالثی۔کچھ دنوں سے جموں و کشمیر کے جو حالات تھے اس کے بعد حکومت کی جانب سے کسی بڑے فیصلہ کی امید کی جا رہی تھی۔ اچانک جموں و کشمیر میں فوج کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ، امرناتھ یاترا کو منسوخ کیا جانا، سیاحوں کو ریاست سے واپس بلانا اور پھر 4 اگست سے کشمیر کے بڑے سیاسی رہنماوں کو نظر بند کرنا، انٹرنیٹ فوری طور پر بند کرنا اور دفعہ 144 کو نافذ کرنے کے فیصلہ کے بعد ریاست میں ایک خوف کا ماحول بنانا۔ اس خوف کے ماحول کی وجہ سے ریاست کے عوام میں بے چینی بڑھ گئی تھی اور انہوں نے بڑے پیمانہ پر راشن کا سامان جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔اشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں نشاندہی کی گئی تھی کہ 'اس طرح کے اقدامات سے کشمیر میں خوف کی فضا قائم ہورہی ہے ۔ نئی دہلی بھارتی آئین کی شق کو ختم کرنا چاہتا ہے جس کے تحت کشمیر سے تعلق نہ رکھنے والے بھارتیوں کو مسلمان اکثریتی علاقے میں زمین خریدنے کی اجازت نہیں۔

نیو یارک ٹائمز نے بھی رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ حالیہ دنوں میں بھارت نے 38 ہزار فوجیوں کو کشمیر میں تعینات کیا ہے ۔واضح رہے آر ایس ایس اور بی جے پی ہمیشہ آرٹیکل 370 کے خلاف رہے ہیں اور اس کے خاتمہ کے لئے بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں بھی وعدہ کیا ہوا تھا۔ دوسری مرتبہ پوری اکثریت سے حکومت میں آنے کے بعد بی جے پی سے ایسے فیصلہ کی امید کی جا رہی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے بعد جموں و کشمیر میں سیاسی حالات کیسے رہتے ہیں۔ آنے والے دن ہی بتائیں گے کہ بھارت کے فیصلہ سے خطے کی سیاست اور سلامتی پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔ اس فیصلہ سے پہلے جو کچھ ہوا ہے اس پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان امریکہ کے دورہ پر جاتے ہیں اور ان کی موجودگی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بیان دیتے ہیں کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اوساکا میں جی 20 سربراہ اجلاس میں ان سے کشمیر پر ثالثی کی گزارش کی تھی۔ ٹرمپ کے اس بیان کو ہندوستانی وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ میں بیان دے کر فارغ کر دیا تھا، مودی نے اس تعلق سے آج تک نہ کوئی تردید کی ہے اور نہ کوئی بیان دیا۔ اچانک وزیر د اخلہ امیت شا نے پر راجیہ سبھا میں قرارداد پیش کرتے ہوئے اعلان کر دیا کہ جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کی تمام شقیں ختم کر دی گئی ہیں۔ وزیر داخلہ نے اس کے ساتھ ہی آرٹیکل 35 اے کو بھی ہٹائے جانے کا اعلان کردیا۔ وزیر داخلہ امیت شا نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اب جموں و کشمیر ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کر دیا گیا ہے جس میں ایک یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر ہوگی جس میں اسمبلی ہو گی اور دوسری یونین ٹیریٹری لداخ ہوگی جہاں اسمبلی نہیں ہوگی۔ بھارت کے صدر کے نوٹیفیکیشن جاری کردیا ۔ اب جموں و کشمیر کا خصوصی ریاست کا درجہ بھی ختم ہو گیا ہے اور لداخ بھی اب جموں و کشمیر کا حصہ نہیں رہا، مودی کی مخالفت میں صرف کانگرس سامنے آئی ہے کانگرس کے رہنما سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا کہ ' یہ آئین کے لیے ایک سیاہ دن ہے ۔ چدمبرم نے کہا کہ انھوں نے نہ صرف 370 ختم کیا بلکہ جموں و کشمیر کو بھی تقسیم کر دیا۔ چدمبرم نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے تصور کا خاتمہ شروع ہوچکا ہے ۔معروف تاریخ دان رامچندر گوہا نے کشمیر کے فیصلے پر اپنے زمانے کے معروف انقلابی رہنما جے پرکاش نارائن کا قول نقل کیا۔پروفیسر گوہا نے لکھا کہ جے پرکاش نارائن نے سنہ 1966 میں کشمیر کے متعلق کہا تھا: اگر ہم طاقت کے زور پر حکومت کرتے رہے اور ان لوگوں کو دباتے رہے کچلتے رہے یا ان پر تسلط قائم کر کے یا کسی دوسری طرح ان کی ریاست کا نسلی یا مذہبی کردار بدلیں گے تو ایسا کرنا سیاسی طور پر سب سے زیادہ نفرت انگیز بات ہوگی۔'عین اس وقت بھارت کے صدر کشمیر کے بارے میں مودی کی خواہش پر ایک آرڈینس جاری کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے ہمارے رہنماؤں کی حالت یہ تھی کہ وہ سیاست سیاست کھیل رہے تھے ۔سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ جاری تھی۔سچ بات تو یہ ہے کی بھارتی وزیر داخلہ امیت شا نے وادی کشمیر کا خصوصی درجہ اور نیم خود مختار حثیت ختم کرنے کا اعلان کر کے اچانک چوروں کی طرح حملہ کیا گیا ہے ۔ کشمیریوں کے لیے پانچ اگست کا دن نہ بھولنے والا ہے ۔سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت کے کشمیر کے بارے میں اقداما ت کو انڈیا کی جمہوریت میں سیاہ دن قرار دیا ہے ۔ اس اقدام سے بھارت جموں و کشمیر میں قابض قوت بن گیا ہے ۔ مودی حکومت فیصلہ ا قوام متحدہ کے خلاف اعلان بغاوت اور جنگ ہے ‘‘ کشمیریوں کے لیے آرٹیکل 370 میں کم از کم تسلیاں ضرور تھیں ۔تقسیمِ برصغیر کے وقت جموں و کشمیر کے حکمران راجہ ہری سنگھ نے پہلے تو خودمختار رہنے کا فیصلہ کیا تاہم بعدازاں مشروط طور پر انڈیا سے الحاق پر آمادگی ظاہر کی تھی۔اس صورتحال میں انڈیا کے آئین میں شق 370 کو شامل کیا گیا جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ اور اختیارات دیے گئے۔تاہم ریاست کی جانب سے علیحدہ آئین کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ جس پر سنہ 1951 میں وہاں ریاستی آئین ساز اسمبلی کے قیام کی اجازت بھی دے دی گئی۔انڈین آئین کی شق 370 عبوری انتظامی ڈھانچے کے بارے میں ہے اور یہ دراصل مرکز اور ریاستِ جموں و کشمیر کے تعلقات کے خدوخال کا تعین کرتا تھا۔ یہ آرٹیکل ریاست جموں و کشمیر کو انڈین یونین میں خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتا تھا اور ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم شیخ عبداللہ اور انڈین وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی اس پر پانچ ماہ کی مشاورت کے بعد اسے آئین میں شامل کیا گیا تھا۔اس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خاص مقام حاصل تھا اور انڈیا کے آئین کی جو دفعات دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتی ہیں اس آرٹیکل کے تحت ان کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر پر نہیں ہو سکتا تھا۔اس کے تحت ریاست کو اپنا آئین بنانے، الگ پرچم رکھنے کا حق دیا گیا تھا جبکہ انڈیا کے صدر کے پاس ریاست کا آئین معطل کرنے کا حق بھی نہیں تھا۔

اس آرٹیکل کے تحت دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمان ریاست میں ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر انڈین قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتی تھی۔خیال رہے کہ 22 جولائی کو وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے 72 سال سے جاری مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ان سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے ۔اب جو کشمیریوں کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے لیے آزمائش ہے ۔


ای پیپر