14منحرف سینٹرز کی تلاشـ۔۔۔!
05 اگست 2019 2019-08-05

چیئرمین سینٹ کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک کچھ حلقوں کی توقع کے عین مطابق ناکامی سے دوچار ہوئی۔ عدمِ اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لیے کھڑے ہو کر ووٹ دینے والے 64اپوزیشن ارکان خفیا رائے شماری میں 50 رہ گئے اور مطلوبہ تعداد 53حاصل نہ ہو سکی۔ اپوزیشن اتحاد عددی اکثریت کے باوجود چیئرمین سینٹ کو ہٹانے میں ناکام رہا اور چیئرمین صادق سنجرانی بدستور اپنی سیٹ پر برقرار ہیں۔ اپوزیشن رہنمائی کھسہانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف شور مچائے جار رہے ہیں۔ جناب بلاول بھٹو کا فرمان کہ ہم ہار کر بھی جیت گئے۔ یقینا آپ جیت گئے کہ آپ کے بعض ارکان نے جو سودا بازی کی اوربعض حلقوں کے مطابق آپ کی پارٹی نے بحیثیت مجموعی جو ڈیل کی اور اپنے بعض ارکان کے ووٹ تحریک ِ عدمِ اعتماد کے حق میں نہ ڈلوائے یقینا آپ اس منصوبہ بندی میں کامیاب رہے۔ جناب شہباز شریف کا ارشاد ہے کہ جادو چلا ، ضمیر فروشی ہوئی، اور دھاندلی زدہ الیکشن کی تاریخ دھرائی گئی۔ یقینا ایسا ہی ہوا لیکن آپ اس کو بھولے ہوئے تھے اور آپ کو یہ یاد نہیں رہا تھا کہ بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت کو کیسے ختم کیا گیا تھا کیا وہ جمہوریت پر حملہ نہیں تھا؟ اور دو سال قبل چیئرمین سینیٹ کے چُناو کے موقع پر سینٹ کے ایوان میں مسلم لیگ ن کے چیئرمین اور بزرگ رہنما راجا ظفرالحق کو شکست سے کیسے دوچار کیا گیا تھا اور کس طرح ان کی شکست پر جناب بلاول بھٹو زرداری نے خوشی سے نہال ہو کر ٹویٹ کیا تھا کہ جنرل ضیاء کا اووپننگ بلے باز (راجا ظفرالحق) شکست کھا گیا ۔ اب مسلم لیگ ن کے قائدین اور پیپلز پارٹی کے شئیرمین نے جناب صادق سنجرانی کے خلاف ووٹ نہ دینے والے اپنے منحرف یاـ" باضمیر "اراکین کا کھوج لگانے کے لیے تحقیقاتی کمیٹیوں کے قیام کا اعلان کیا ہے تو اسے سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے کے علاوہ اور کیا نام دیا جا سکتا ہے۔

26 جون کو چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف متحدہ اپوزیشن نے عدمِ اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ تقریباً 5ہفتے یا 36 دن بعد اس پر ووٹنگ کا مرحلہ آیا۔ اس دوران حالات کیا رُوخ اختیار کرتے رہے؟ کیسی کیسی بیان بازی ہوتی رہی؟ حکومت کیسے عدمِ اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم ہوئی؟ سینیٹ میں قائدِ ایوان ، حکومتی سینیٹر شبلی فراز نے کیسے "صادق سنجرانی" بچاو تحریک کو کامیاب بنانے کے عزم کا برملا اظہار کیا اور اس ضمن میں وزیرِ اعظم عمران خان کو بھی اعتماد میں لیا۔ یہ سب کچھ سامنے کی باتیں ہیں اور ان میں عقلمندوں کے لیے کتنے ہی اشارے موجود تھے لیکن اس کے باوجود اپوزیشن قائدین جناب شہباز شریف، جناب بلاول بھٹو زرداری اور نیب میں زیرِ حراست ان کے والدِ گرامی جناب آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن مدضلہُ عالی اس بات پر قائم رہے کہ چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک ِعدمِ اعتماد پیش ہو کر رہے گی تو پھر انہیں چاہیے تھا کہ وہ اپنے گھوڑوں کو باندھ کر رکھتے۔ چوکس رہتے اور ہر طرح کی صورتِ حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتے۔ یہ قائدینِ محترم زبانی کلامی دعوے تو کرتے رہے ۔ عشائیوں اور ظہرانوں کا اہتمام بھی ہوتا رہا جن میں اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینٹرز خواتین و حضرات بھی شرکت کرتے رہے اور ان کی تواضع بھی ہوتی رہی۔ اور پھر یکم اگست کو سینیٹ کے ایوان میں تحریک اعتماد کے پیش ہونے کے موقع پر 64ارکان کے تحریک کے حق میں ہاتھ کھڑے کرنے کو بھی یقینی بنایا گیا لیکن تحریک پر خفیہ رائے شماری کے موقع پر اس کے حق میں مطلوبہ تعداد 53 جو تحریک کی محرک جماعتوں کے کل ارکانِ سینیٹ کی تعداد کے مقابلے میں کم و بیش 12کم تھی پورا کرنے میں ناکام رہے اور تحریک کے حق میں 64 کی بجائے صرف 50ووٹ پول ہوئے اور 5 ایسے ووٹ مسترد بھی ہوئے جن پر ایک سے زائد جگہوں پر مہریں لگائی گئیں گویا ان ووٹوں کو جان بوجھ کر مسترد کیے جانے کے قابل بنایا گیا۔

چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک ِ عدم اعتماد کی ناکامی کے اشارے اور شواہد بہت دنوں سے سامنے آ رہے تھے بلکہ یہ ایک طرح کا نوشتہ دیوار تھا جو دیکھائی دے رہا تھا لیکن اس صورتِ حال کا مداوا کیوں نہیں کیا گیا اس کا جواب اپوزیشن رہنماوں کے ذمہ ہے اور ان کو چاہیے کہ وہ کھل کر اس کا جواب دیں۔ تحریک کی ناکامی کو جمہوریت پر حملہ یا جمہوریت پر شب خون مارنا قرار دینا یا کسی ریاستی ادارے کے قابلِ تکریم سربراہ کو مورتِ الزام ٹھہرانا کوئی مسکت اور مناسب جواب نہیں اور نہ ہی اس سے عوام کے ذہنوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ اس سوال کا جواب بھی سامنے آنا چاہیے کہ کیا چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ صائب تھا ؟ کیا جناب صادق سنجرانی کا رویہ اور بطورِ چیئرمین ان کی کارکردگی ایسی تھی کہ انہیں تحریک عدمِ اعتماد کا نشانہ بنانا ضروری تھا؟جناب صادق سنجرانی کا بطورِ چیئرمین سینیٹ انتخاب کیسے ہوا اس سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ وہ سینیٹ کے ارکان کے ووٹوں کی اکثریت سے چیئرمین منتخب ہوئے اور پھر چیئرمین شپ کے دوران بلاشبہ ان کا رویہ مثالی رہا انہوں نے حتیٰ الوسع ملک کے اس اعلیٰ ایوان کے وقار اور Diginity کو قائم رکھا اور اس میں کوئی کمی نہ آنے دی ان کا جھکاو نہ ان کاحکومت کی طرف رہا نہ اپوزیشن کی طرف۔ وہ غیر جانبداری سے ایوان کے معاملات چلاتے رہے۔ ساتھی سئینٹرز سے ان کا رویہ بھی بڑا دوستانہ ، بے تکلفانہ اور اپنائیت بھرا رہا۔ اس سیاق و سباق میں ان کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ عمومی طور پر پسند نہیں کیا گیا۔ یہاں میں ایک نامور کالم نگار اور موقر صحافی جناب عامر خاکوانی کے ایک قومی معاصر میں چھپنے والے کالم کا اقتباس پیش کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے اس سارے معاملے کو کیسے دیکھا ہے۔

جناب عامر خاکوانی لکھتے ہیں سینیٹ کی تبدیل کرنے کی حکمت عملی پر سوال پوچھنا چاہیے۔ یہ فیصلہ کیوں کیا گیا؟ کیا چیئرمین کا رویہ غلط رہا؟ سینیٹ میں کاروائی کے دوران وہ حکومتی جماعت کو ناجائز طریقے سے سپورٹ کر رہے یا اپوزیشن کو نقصان پہنچا رہے تھے؟ ایسا کچھ بھی نہیں ۔ خود اپوزیشن والے مانتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ کا رویہ مثالی ہے۔ ایسے میں پھر تحریک عدم اعتماد بلا جواز اور غیر منطقی چال تھی۔ زرداری صاحب اور مولانا فضل الرحمٰن بڑے زیرک سمجھے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عملی سیاست کے نبض پر دونوں کی انگلی ہوتی ہے۔ وہ زمینی حقا ئق کو خوب سمجھتے ہیں تو اب زمینی حقا ئق تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی خبر نہیں دے رہے تھے؟مولانا جیسے بزعم خود ہوشیار اور زرداری جیسے سمارٹ سیاستدان نے یہ چال کیوں چلی؟ کیا یہ گناہ بے لذت اور دعوتِ شکست نہیں تھی؟ صاحبو ہم اخلاقیات پر بحث کر ہی نہیں رہے یہ ہارڈ پالٹکس ہے رئیل پالٹکس جسے جرمن ریال پالٹکس کہتے ہیں بے رحم سفاک ، رعایت نہ کرنے والی سیاست ۔ یہ ہارڈ پالٹکس جس میں اخلاقیات کا کوئی سوال نہیں۔ ہار اور جیت اہم ہے۔ہارنے والے اخلاقیات کا سوال اُٹھاتے ہیں اور جیتنے والے صرف مسکراتے ہیں۔"

جناب عامر خاکوانی کے کالم کا یہ خوبصورت اقتباس صورتِ حال کی بڑی چشم کشا اور جامع توضیح و تشریح کر رہا ہے۔ میری خاما فرسائی کا اس خوبصورت تحریر کے ساتھ جوڑ تو نہیں لیکن اپنے پڑھنے والوں کی دلچسپی اور معلومات کے لیے اس کا حوالہ دیا ہے۔ آخر میں میں مسلم لیگ ن کے اہم رہنما خواجہ آصف کے اگلے دن ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹر ویو کا حوالہ دینا چاہوں گا کہ بلاول بھٹو کا اپنے سینیٹ سے اسطیفے دینا ایک ڈرامہ بازی ہے اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں اپنے چار پانچ سینیٹرز کے ادھر سے اُدھر ہونے کا پہلے سے امکان بلکہ یقین تھا۔ خواجہ آصف کے اس اعتراف حقیقت کے بعد تحریک عدمِ اعتماد کی ناکامی کے بارے میں سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔


ای پیپر