افغانستان میں قیام امن، کیا معاہدہ ہو سکے گا؟
05 اگست 2019 2019-08-05

افغانستان میں جاری جنگ کو ختم کرنا اور وہاں سے امریکی اور اتحادی افواج کا انخلا گز شتہ امریکی صدارتی انتخابات میںڈونلڈ ٹرمپ کا انتخابی نعرہ تھا۔صدر منتخب ہونے کے بعد عملی طور جس تیزی اور سنجیدگی کے ساتھ اس نعرے کو پورا کرنا چاہئے تھا اس پر وہ اسی طرح عمل درآمد نہ کرسکے۔ افغانستان میں جنگ ختم کرنے اور افواج کو واپس بلانے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخالف فریق افغانستان طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت شروع کرنے میں ڈھائی برس لگ گئے۔ان مشکلات سے معلوم ہو تا ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے پر امریکا کے سیاسی منصوبہ سازوں اور فوجی حکام کے درمیان خلیج مو جود ہے۔شنید یہی ہے کہ امریکا کے فوجی منصوبہ ساز اب بھی افغانستان چھوڑنے پر تیار نہیں۔سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے بھی کو شش کی تھی لیکن اس وقت بھی فوجی پالیسی ساز افغانستان سے جانے کے لئے تیار نہیں تھے اس لئے وہ بھی افغانستان میں جنگی شعلوں کو بجھانے میں ناکام رہے۔

افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے اور وہاں سے امریکی اور اتحادی افواج کو واپس بلانے پر سیاسی منصوبہ سازوں اور فوجی حکام کے درمیان اختلاف کیوں ہے؟یا آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وائیٹ ہاوس اور پینٹاگون اس اہم مسئلے پر اختلاف کا شکار کس وجہ سے ہیں؟وائیٹ ہاوس میں مو جود سیاسی منصوبہ سازوں کا ماننا ہے کہ افغانستان میں ان کی افواج ناکامی سے دوچار ہے۔ اب وہاں مزید قیام ملکی اور قومی وسائل کا ضیاع ہے۔اس لئے ان کی کوشش ہے کہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ ہو اور امریکی اور اتحادی افواج بلا تا خیر وہاں سے واپس چلی جائے۔اس کے برعکس پینٹاگون میں موجود پالیسی سازوں کا موقف ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم افغانستان میں کامیابی حا صل نہ کر سکے ،لیکن بغیر کسی منصوبہ بندی یا فوری انخلا امریکی مسلح افواج کے لئے پوری دنیا میں شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔ان کو یقین ہے کہ افغانستان نیشنل آرمی(فوج) اور افغانستان ملی اردو (پولیس) پر کثیر سرمایہ کاری کے باوجود وہ اس قابل نہیں کہ امریکی اور اتحادی افواج کے جانے کے بعد وہ متحرب گروہ افغانستان طالبان کا مقابلہ کرسکیں گے۔خود افغانستان کے سابق حکمران حامد کرزئی اور موجود ہ صدر ڈاکٹر اشرف غنی بھی امریکی فوجی حکام کے ساتھ اس نقطے متفق پرہے کہ افغانستان میں جنگ بندی ضرور ہونی چاہئے لیکن وہ فوری طور پر امریکی اور اتحادی افواج کا افغانستان چھوڑ جانے کے مخالف ہیں۔ان کو بھی یہی خدشہ ہے کہ افغانستان کی فوج اور پولیس اس قابل نہیں کہ افغانستان طالبان کا مقابلہ کر سکیں۔بعض حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر بغیر کسی معاہدہ کے امریکی افواج نے افغانستان چھوڑ دیا تو طالبان دوبارہ مہینوں نہیں بلکہ دنوں میں تخت کابل پر قبضہ کر سکتے ہیں۔کابل میں مو جود غیر ملکی سفارت کار بھی امریکی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نقطہ نظر کے حا می ہیں۔ اس لئے امریکی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے وائیٹ ہاوس کے منصوبہ ساز گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کو پورا ختیار ہے کہ وہ افغانستان میں دو عشروں سے جاری جنگ کے خاتمے کا اعلان کر یں اور وہاں سے امریکی اور اتحادی افواج کو واپسی کا حکم دیں، لیکن وہ ایسا کرنے سے گریز کررہا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہاں قاعدہ اور دستور یہی ہے کہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لئے متعلقہ ادارے سے مشاورت کی جاتی ہے۔جب تک متعلقہ اداروں کے پالیسی ساز متفق نہ ہو اسی وقت تک امریکی صدر اہم نوعیت کے مسائل کو اپنے طور پر سیاسی برتری یا ذاتی پسند وناپسند کی بنیاد پر حل کرنے کی کوشش نہیں کر تا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر امریکی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مشوروں کے برعکس بھی افغانستان کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر بھی ان کو یہ خطرہ نہیں کہ وہ ان کو اقتدار سے محروم کر دیں گے۔لیکن وہاں روایت یہی ہے کہ جس کاکام اسی کو ساجھے۔ہمارے ہاں گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔مشرقی اور مغربی محاذ پر فوج مو جود ہے ،لیکن ہر وزیر اعظم کی کوشش ہو تی ہے کہ جب میں چا ہوں تو افواج کو محاذوں پر بھیجنے کاحکم دوں اور جب حکم دوں تو وہ واپسی کا سفر باندھیں۔حالانکہ یہ عام حالات میں بھی نا قابل عمل منصوبہ ہے اور ایمرجنسی کے حالات میں بھی یہ قابل عمل نہیں۔اسی طرح ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنوں میں فوج ہر آول دستہ ہے ،لیکن ہر حکمران کی خواہش رہی ہے کہ سیکیورٹی اہلکار کسی ایس او پی کی بجائے ان کی خواہشات کے مطابق ادھر سے ادھر ہوں۔ان مسائل میں وہ فوجی حکام کے مشوروں کوغیر اہم بلکہ مداخلت سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بے پناہ قربانیوں کے باوجود ایوان وزیر اعظم اور جی ایچ کیو میں تعلقات کبھی بھی بہتر نہیں رہے۔حا لانکہ نقطہ بہت ہی معمولی ہے کہ سیکیورٹی اور سرحدوں کی حفاظت کے لئے پالیسی بناتے وقت فوج کو نہ صرف مشاورت میں شامل کرنا چاہئے بلکہ ان کے مشوروں کو ترجیح بھی دینی چاہئے۔ بالکل اسی طرح جس طرح معیشت کو بہتر کرنے کے لئے وزارت خزانہ ، تجارت اور ایف بی آر کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔جس طرح خارجہ معاملات میں وزارت خارجہ کے مشوروں کو تر جیح دی جاتی ہے۔

صدر ڈونلڈٹرمپ نے اگر چہ تا خیر کے بعد افغانستان میں جنگ بندی کے لئے اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ان کو چاہئے تھا کہ دوعشروں سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لئے صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد فوری کوششوں کا آغاز کرتے لیکن انھوں نے ایسے وقت میں افغانستان کے طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کا آغاز کیا جب افغانستان میں چند مہینے بعد صدارتی انتخابات ہونے تھے۔بتا یا یہی جارہا ہے کہ امریکہ اور افغانستان طالبان کے درمیان معاملات بڑی حد تک حل ہو چکے ہیں۔لیکن افغانستان میں مو جود دیگر فریقین کے ساتھ ابھی تک بات چیت شروع بھی نہیں کی گئی ہے۔صدارتی انتخابات میں ڈیڑھ ماہ باقی ہے۔لیکن پاکستان کے علاوہ کسی نے بھی مستقبل کے لئے لائحہ عمل دیا نہیں ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان میں صدارتی انتخابات سے قبل قومی حکومت کی تشکیل کا مشورہ دیا تھا۔ افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے ایسے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دے کر مسترد کیا تھا۔امریکا اور افغانستان کے طالبان ابھی تک مستقبل کے منظر نامہ کے بارے میں خاموش ہیں۔ افغانستان کے سرکردہ سیاسی رہنماوں نے بھی اس بارے میں لب سی رکھے ہیں۔محسوس ایسے ہو رہا ہے کہ وہ بھی امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان مذاکرات کی پٹاری کھولنے کا منتظر ہے۔

صورت حال جو بھی ہو لیکن لگ ایسے رہا ہے کہ اگر امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان بات چیت کامیاب نہیں ہوتی تو اس ناکامی کا سارا ملبہ اسلام آباد ہی پر گرے ۔پاکستان کو دونوں طرح کے حالات کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا ہوگا۔ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو بھی ،جبکہ ناکامی کی صورت میں بھی پیدا ہو نے والے حالات سے نمٹنے کے لئے قلیل مدتی ، وسط مدتی اور طویل مدتی پالیسی بنانی ہو گی ۔ اس لئے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے دوبارہ کوششوں کا آغاز امریکا میں صدارتی انتخابات کے بعد ہی ہو گا۔اس دوران واشنگٹن کی کوشش ہو گی کہ وہ بلا وجہ اسلام آباد کو تنگ کر تا رہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ امریکا ،بھارت کے ذریعے پاکستان پر دباو ڈالنے کی کوشش کرے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں حالات خراب کریں یا افغانستان کی سرزمین کو استعمال کر تے ہوئے بلو چستان میں حالات خراب کرنے کی کوشش کریں۔اس لئے ضروری ہے کہ اسلام آباد دونوں طرح کے حالات کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھے۔


ای پیپر