اللہ کا مہمان
05 اگست 2019 2019-08-05

برسوں پہلے رب سے تین خواہشیں کیں۔ کسی اخبار کا ایڈیٹر بننا ہے۔ امریکا جانا ہے اور حج کرنا ہے۔ساتھ ہی شرائط بھی لگادیں۔ ایڈیٹر بننا ہے ، اپنے صحافتی کیریئر کے دس سال کے اندر اندر۔ امریکا جانا ہے بغیر پیسے کے۔ حج کرنا ہے صرف اپنے پیسوں سے اور وہ بھی پورے ٹھاٹ کے ساتھ سرکاری نہیں پرائیویٹ۔ اب یہ بھی جان لیں کہ بظاہر یہ تین عام سی التجائیں لگتی ہیں جو بہت سوں نے کی ہوں گی ? مگر جب یہ عرضی ہم نے گزاری تب عام سے رپورٹر تھے۔ایڈیٹر تو آخری منزل ہوتی ہے۔ تنخواہ بس اتنی تھی کہ تن خواہ مخواہ لگتی تھی۔ پاسپورٹ تک ابھی بنا نہیں تھا۔اس کے بعد اپنی زندگی میں نے ایسے اتفاقات ہوتے دیکھے جس سے قدرت کے قوانین میں سے ایک قانون کشش کی سمجھ آگئی۔ جب آپ کوئی شے پانے کی خواہش کرتے ہیں تو کائنات کا ذرہ ذرہ اسے آپ سے ملانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔

لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی کا رکن منتخب ہونے کے بعد ایک روز امریکن قونصلیٹ لاہور میں نئے آنے والے چیف پبلک افسر سے ملاقات ہوتی ہے۔ گفتگو کا روایتی دور چلتا ہے اور اگلے روز بڑے بھائیوں جیسے حیدرحسن کا ٹیلی فون آجاتا ہے۔ اس امریکی پر کیا جادو کیا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے ، فوری طور پر اس کے ڈاکیومنٹس منگوا لیں۔ امریکن قونصلیٹ میں ہی موجود ایک دوست سلطان جے قریشی سے رابطہ کیا تو پتہ چلا۔ زیادہ خوش فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگلے دوتین برس کے لیے جتنے بھی ایکسچینج پروگرام ہیں وہ طے شدہ ہیں لیکن اگر ایک امریکی نے نام شامل کرنے کو کہا ہے تو اسے لاٹری سمجھو۔ کبھی نہ کبھی نکل ضرور آئے گی۔ ہم دلبرداشتہ نہ ہوئے۔ رب کا شکر ادا کیا۔چلیں جو عرضی گزاری تھی اس پر پیش رفت شروع ہوئی۔ دوسال گزرے ہوں گے ، تب اچانک حیدرحسن نے دوبارہ ٹیلی فون کیا اور نوید سنائی۔ ہوسکے تو فلاں دن امریکی قونصلیٹ سے ملاقات کے لیے آجائیں۔ہم راضی خوشی چلے گئے جہاں کافی دیر نشست جمی اور کچھ روز بعد پتہ چلا۔ ہم امریکا جائیں گے اور حسب خواہش مفتا مفت ، امریکیوں کے پیسوں سے۔ واشنگٹن ائرپورٹ سے باہر نکل کر ہم آسمان کو تکتے ہوئے مسکرائے اور بس اتنا کہا۔ شکریہ۔

امریکا روانگی سے پہلے ایک اورپیشرفت ہوئی۔ جس روزنامے سے وابستہ تھا وہاں سب ٹھیک نہیں ،بہت اچھا چل رہا تھا۔ اچانک دوتین ماہ پہلے کھٹ پٹ شروع ہوگئی۔ بغیر کسی جواز کے تلخی بڑھی۔ ایک انتظامی افسر سے بات کرتے کرتے جذبات میں کہہ دیا ۔ اب میں جلدیہ ادارہ چھوڑ دوں گا اور دگنی تنخواہ پر کہیں اور کام کروں گا۔ میرے خیرخواہ افسر نے غصے میں کہا۔ دیکھتا ہوں کوئی پانچ ہزار بھی زیادہ دے دے تو بتانا ضرور۔ اس تلخی کے بعد جب غصہ اترا تو پھر ہم تھے اور ہمارا رب۔ صرف اتنا کہا ، تیرے برتے پر اکڑتے ہیں ، ورنہ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ ، اب خود ہی دیکھ لینا۔دوسرا دن گزرا ہوگا کہ ایک انجان نمبر موبائل فون کی سکرین پر چمکنے لگا۔ سنا تو دبئی میں ایک اخباری ادارے سے وابستہ ایک صاحب حافظ عالم کی آواز آئی۔ ایک ہفتے سے آپ کو ملنے کی کوشش کررہا ہوں ، آج ضرور ملاقات کرلیں۔ میری ان سے صرف ایک ملاقات تھی۔ ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا ، ہمارا ادارہ دبئی سے ایک روزنامہ شروع کررہا ہے۔ آپ کو چیف ایڈیٹر سے ملوانا ہے تاکہ آپ اس کے معاملات دیکھ لیں۔ پہلے تو انکار کیا اور پھر ملاقات کرنے کی حامی بھر لی۔ چیف ایڈیٹر صاحب سے ڈیفنس میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی۔ بات چلی ، میرے صاف انکار کے جواب میں انہوں نے حتمی انداز اپناتے ہوئے کہا۔ میں نے آپ کو ایڈیٹر چن لیا ہے۔ اب آپ اپنی ڈیمانڈ بتادیں۔ یعنی اپنے کیریئر کے دس سال سے کہیں کم عرصے میں ہم ایک پورے ادارے کے سربراہ بن چکے تھے۔ جس میں روزنامہ ، ہفت روزہ اور اردو ، انگریزی زبان کے میگزین بھی شائع ہورہے تھے۔

اخبار کاایڈیٹر بننے اور پھر امریکا کی مفت سیر کے بعد یقین ہوگیا۔ تیسری خواہش میں اب زیادہ دیر نہیں۔ تنخواہ ابھی بھی ایسی نہ تھی کہ اتنی بچت ہوپاتی کہ ٹھاٹ سے حج پر چلے جاتے۔ ایک بار پھر رب کی رب پر چھوڑ کر خود کاروبارزندگی میں کھو گئے۔ اس ادارے میں ایک ماہ کے ممکنہ اخراجات دبئی سے بھجوائے جاتے تھے ، کسی ایمرجنسی کی صورت میں اپنے پاس سے خرچہ کرنا پڑتا تھا جو اگلے ماہ کی رقم میں شامل ہوکر واپس مل جاتا ، کبھی چیف ایڈیٹر خود پاکستان آتے تو یکمشت دے جاتے۔ایک سال گزرا۔ جس ادارے سے وابستہ تھے۔ اس نے اسلام آباد آفس کھولنے کا ارادہ کیا اور یہ ذمہ داری میرے حصے میں آئی۔ چیف ایڈیٹر راشد ملک صاحب نے کارکردگی سے خوش ہوکر اچانک تنخواہ ڈبل کرنے کی خوشخبری سنادی ۔ ایک روز چیف ایڈیٹر نے رابطہ کرتے ہوئے حکم صادر کیا کہ آئندہ سے کراچی سیتیار ہونے والا اخبار کا ہفتہ وار میگزین اب لاہور میں آپ ہی تیار کرائیں گے اور یہ دبئی سے بھی شائع ہوا کرے گا۔ جب یہ ذمہ داری ملی تب رمضان المبارک آنے والا تھا۔ خیال آیا کہ پہلا شمارے میں جنید جمشید کا انٹرویو لگاتے ہیں۔ وہ اسٹار بھی ہیں اور دین دار بھی۔ آفس میں موجود ایک رپورٹر کی فیملی کا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا۔ اسے بلایا اور ٹاسک دیا ، جواب ملا کہ مسئلہ ہی کوئی نہیں۔ جنید جمشید سے وہ براہ راست رابطے میں ہے۔ اگلے روز رپورٹر نے بتایا۔ جنید جمشید کا کہنا ہے کہ وہ ان دنوں کراچی کے بجائے اسلام آباد میں ہے اور وزارت حج میں کافی دنوں سے چکر لگارہے ہیں ۔ پوچھا جنید جمشید کا وزارت حج سے کیا کام ؟ وہ تو گارمنٹس کا کاروبار کرتے ہیں۔ رپورٹر نے جواب دیا۔ پچھلے ہی سال اس نے حج ، عمرہ سروس کا آغاز کیا ہے اور حج کوٹے میں اضافے کے لیے وزارت کے چکر لگارہے ہیں۔ ہم نے بے ساختہ کہہ دیا۔ انٹرویو نہیں دے سکتے نا سہی ، انہیں کہو، حج ہی کرادیں۔

جنید جمشید کے لیے حج کا پیغام چھوڑنے کے بعد ہم اپنے کام میں لگ گئے۔ رمضان المبارک کی آمد آمد تھی۔ سوچا ، بھلا اتنے کم وقت میں کہاں سنی جائے گی۔ لاکھوں روپے درکار ہوں گے ، وہ کہاں سے آئیں گے ؟ ایک دن گزرا۔ رپورٹر نے آکر بتایا۔ جنید جمشید کو آپ کا پیغام پہنچا دیا ہے ، ان کا کہنا ہے۔ کافی دیر سے آپ نے بتایا۔ اس سال تو ممکن نہیں لگتا۔ ہم نے اچھا کہہ کر بات ختم کرنے کی کوشش کی لیکن رپورٹر نے ضد کی کہ چاہے بے ساختہ ہی منہ سے نکلا ہے۔ آپ نیت کرلیں ، کوئی نہ کوئی رستہ ضرور نکل آئے گا۔ پیسے بھی ہوہی جائیں گے۔کیا بتاتا ، یہ نیت تو تین سال پہلے کی کرچکا ، البتہ اسے جواب میں ہم نے ہاں کی نہ ناں بس چپ رہے۔ ایک دو دن اور گزر گئے۔ اس دوران کراچی کے نمبر سے ٹیلی فون آیا۔ جنید جمشید کا ٹریولنگ آفس کا منیجر بول رہا ہوں ۔ آپ کے لیے یہ پیغام ہے کہ ان کے دوستوں کیلیے مخصوص کوٹے میں سے ایک سیٹ آپ کو دے دی جائے۔ آپ کل تک اتنے لاکھ روپے فوری بھجوا دیں۔ باقی رقم کے باریمیں بعد میں آگاہ کردیں گے۔ رابطہ منقطع ہوگیا اور میں موبائل فون ہاتھ میں پکڑے گم سم بیٹھا تھا۔تیس برس سے بھی کم عمر میں ، تین سال کے عرصے میں ، تین ایسی خواہشیں جو میرے نزدیک ناممکن سی تھیں اور زندگی بھر کا سوچ کا مانگی تھیں ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ممکن ہوتی چلی گئیں۔ جو میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا وہ ایک کے بعد دوسرا اتفاق ہوتا چلا گیا۔ میرے کانوں میں کن فیکون کی ندا گونجنے لگی۔رب کا شکر ادا کرنا تو بنتا ہی تھا لیکن اب وہی فکر لاحق ہوگئی جو رقم مانگی گئی ہے۔ وہ لاکھوں روپے ہیں۔کہاں سے لاؤں ؟ لمحے بھر کو میں بھول گیا۔ جس نے ایڈیٹر شپ کے لیے دبئی سے ایک ایسے شخص کو بھجوایا جس سے دوستوں کی ایک محفل میں صرف ملاقات ہوئی تھی۔چیف ایڈیٹر نے انکار کے باوجود اصرار کرکے ملازمت دی۔ امریکا جانے کے لیے کولکتہ کے امریکی قونصلیٹ میں کام کرنے والا امریکی افسر لاہور آیا تو حسن اتفاق سیاس سے ملاقات کرادی۔ اس کے دل میں یہ خیال بھی ڈال دیا۔ سنو !اسے امریکا جانا ہے ، نام لکھو ا دو۔ وہ نام لکھوا کر خود چلا گیا لیکن مجھے قطار میں لگوا گیا۔ اب اچانک کراچی سے تیار ہونے والا میگزین کو لاہور منتقل کیا گیا۔ جس کے لیے پہلے انٹرویو کا خیال جنید جمشید کا ہی آیا جنہوں نے ایک سال پہلے ہی ٹریولنگ ایجنسی کھولی تھی۔ اس سے رابطہ رکھنے والا رپورٹر میرے آفس میں ملازمت پر آگیا۔انٹرویو سے انکار کے باوجود جانے ان کے دل میں کیا سمائی ، اپنے کوٹے سے ایک سیٹ دینے کا کہہ دیا۔ جیسے ہی یہ خیال دماغ میں آئے۔اپنی پہلے والی منفی سوچ پر لاحول پڑھا، کان پکڑ کر معافی مانگی اور دماغ کو اس کام پر لگادیا کہ کل تک یہ کیسے ممکن ہوپائے گا کہ مطلوبہ رقم مل جائے اور کراچی منتقل بھی ہوجائے۔ جیسے ہی دماغ کو درست سمت ملی۔ اتفاقات کا ایک نیاسلسلہ شروع ہوگیا۔

(جاری ہے)


ای پیپر