یادوں کے دریچے سے
05 اگست 2019 2019-08-05

اگلے روز دیرینہ دوست خواجہ جمیل ایڈووکیٹ سے فون پر بات ہوئی باتوں سے شخصیات اور شخصیات کے ذکر سے زمانے آنکھوں میں گھومتے چلے گئے۔ ینگ لائرز آرگنائزیشن ایک اچھا پلیٹ فارم تھا جو نئے آنے والوں کو ڈسٹرکٹ بار کے ماحول میں اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیتا تھا سینئر وکلاء اور نئے آنے والوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ اور بار کے اداب سیکھنے میں مدد ملتی۔ سینئر وکلاء میں ارشد میر، خواجہ جاوید، غلام رسول باٹھ سید اطہر حسین زیدی، سید حسن جعفری ملک عبدالباسط، شیخ محمد اسلم ، فرخ محمود سلہریا ، احسان اللہ چیمہ، غلام الرسول باؤ، خواجہ اجمل سلمان چوہدری صاحبان کی کافی پذیرائی ینگ لوگوں میں بھی تھی۔ ینگ لائرز کے دوستوں نے بلا مقابلہ متفقہ طور پر مجھے اپنا صدر منتخب کیا ۔ابراز مسعود جان، احمد ندیم گورایہ ، چوہدری اختر حسین، خواجہ محمد جمیل، میاں محمد افضل، خادم سوہی، طاہر مسعود گل، مقسط ندیم ملک، چوہدری شبیر احمد گجر، الیاس حسین ریحان، ارشد رؤف ، صدیق انجم، شیخ اعجاز الرحمن، میاں وقار عظیم، ملک شکیل الرحمن، مقصود احمد بٹ اور محترمہ مس ثمینہ زریں سرکردہ لوگوں میں شمار تھے۔ ہم سے تھوڑے سینئر لوگوں میں محمد سلیمان کھوکھر، خورشید احمد سوڈھی ، خالد جمیل صاحبان سے بڑی قربت کے رشتے تھے۔

خواجہ جمیل نے ایک واقعہ یاد دیا ۔ دو سال صدر رہنے کے بعد میں نے خود ہی فیصلہ کیا کہ اب جناب مقصود احمد بٹ کی قیادت میں تنظیم چلائی جائے جس پر سب لوگ متفق ہوئے، جناب میاں محمد افضل نے اس حوالے سے میری کافی مدد کی۔ دراصل یہ بنیادی طور پر دوستوں کی تنظیم تھی۔ تقریب حلف وفاداری اور انتظامیہ کی تبدیلی کے لیے جناب فرخ محمود سلہریا سے میں نے درخواست کی کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کو بلایا جائے۔ تب بنچ اور بار میں احترام کا رشتہ اس حد تک تھا کہ اگر میں آج کی بات کروں تو تب ایڈیشنل سیشن جج کی کورٹ میں وکلاء چیف جسٹس کی عدالت جیسا ماحول اور احترام رکھتے تھے۔ دفعہ 30کا مجسٹریٹ ہی مان نہیں تھا۔ چیف جسٹس محبوب صاحب کے ساتھ جسٹس تنویر احمد خان، جسٹس عبدالمجید ٹوانہ اور لاء کالج کے پرنسپل جناب سردار اقبال مؤکل بھی تشریف لائے۔ صدارت اور مہمان خصوصی کی کرسیاں لگا دی گئیں۔ ان ججز کے احترام میں وکلاء اور ہال میں موجود دیگر لوگوں نے تقریباً دس منٹ کھڑے ہو کر گرم جوشی کا اظہار کیا۔ سٹیج شروع ہوا سینئر سول جج کو تقریر کے لیے بلایا گیا انہوں نے فرمایا کہ اصل مسئلہ تو پیسے کا ہی ہے لہٰذا ہم ینگ لائرز کو اہل کمیشن مقرر کیا کریں گے اور دیگر سہولتیں بھی دیں گے۔ ان کے بعد مجھے اچانک آواز دی گئی۔ میں سٹیج پر آیا تو سٹیج پر بیٹھے اکابرین اور ہال میں پورے ڈویژن سے عدلیہ انتظامیہ کے افسران کے علاوہ وکلاء صاحبان تھے۔ میں نے سوچا کہ چند ایک منٹ بات کر کے واپس ہوجاؤں گا مگر سینئر سول جج کی اس بات نے مجھے میری تنظیم کی حقیقی نمائندگی کے لیے ابھارا۔ میں نے کہا میرے احباب مجھے نہ جانے تقریر کے حوالے سے آغا شورش کاشمیری کیوں سمجھ بیٹھے ہیں مگر چونکہ یہ سٹیج میرا، لوگ میرے مسائل میرے ہیں جنہوں نے سٹیٹس کو لے رکھا ہے مگر سٹیج کی شخصیات آپس میں مگن تھیں وہ مجھ ایسے ینگ لائر کی بات کیا سنتے۔ میں نے بھی توجہ طلب کرتے ہوئے جناب صدر اور مہمان خصوصی و دیگر مہمانان گرامی کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ ہمارا معاشرہ ایسا ہو چکا ہے کہ کسی کی غیر موجودگی میں بات کرنے والا، غیبت کے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور اگر عدالت اور عدالتی طریق کار کے متعلق سچی بات کی جائے تو بین عدالت کے زمرے میں آجاتا ہے‘‘۔سب متوجہ ہوئے۔تو میں نے کہا کہ سینئر سول جج صاحب کی بات کے جواب میں میرا ان سے کہنا ہے کہ معاملہ پیسے کا نہیں عزت کا ہے یقینا آپ صرف پیسے کے لیے جج نہیں ہیں ایک عزت اور وقار کے لیے بھی جج ہیں اسی طرح ہم وکلاء جو حضرت جعفر طیارؓ کی تقلید میں وکالت کر رہے ہیں ہمارے نزدیک بھی عزت وقار اور معاشرے میں مقام پیسے سے زیادہ مقدم ہے۔

سردار محمد اقبال موکل صاحب کو مخاطب کر کے عرض کیا کہ ’’آج مادر علمی کے سرپرست جو باپ کا درجہ رکھتے ہیں تشریف فرما ہیں جب کالج میں ہمارا آخری دن تھا تو نہ جانے کیوں احساس ہوا جیسے ایک بیٹی اپنے باپ کے گھر سے رخصت ہو جس کو باپ نے تعلیم تربیت سے آراستہ کیا ہو اور علم کی صورت جہیز بھی کہ زندگی گزارنے کے قرینے طریقے اور سلیقے سکھائے یہی ضروریات زندگی کی چیزیں ہیں۔ ہم جب عملی زندگی میں آئے تو ریڈر کے پل صراط کا علم نہ تھا۔آج ہمارے تدریسی والد موجود ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ نے ہمیں اخلاق سکھایا ، قانون پڑھایا، آداب عدالت سکھائے میری گزارش ہے کہ لاء کالج میں ایک مضمون کا اضافہ کر دیجیے جس میں آداب ریٹائرنگ روم بھی سکھائے جائیں کیونکہ آداب ریٹائرنگ روم کے علاوہ وکالت محال ہے مزید عرض کیا کہ اول تو نئے وکیل ہونے کی وجہ سے ہمیں کوئی کم ہی وکیل کرتا ہے اگر کر بھی لے تو کہتا ہے کہ (باؤ جی تسی صرف کھلونا ای اے) (آپ نے صرف کھڑے ہونا ہے) تو میری گزارش ہے کہ جن مقدمات میں صرف کھڑے ہی ہونا ہو اس کا علم وکیل اور جوڈیشل آفیسر کے علاوہ نہیں ہونا چاہیے اکثر ہوا ہے کہ سیشن جج کے ماتحت عدالتوں کے جج اور مجسٹریٹ صاحبان ریٹائرنگ روم میں زیادہ وقت گزارتے ہیںجو آداب ریٹائرنگ روم سے واقف ہیں وہ تو بے دھڑک چلے جاتے ہیں ہم اگر ہمت کر کے ریٹائرنگ روم میں چلے ہی جائیں تو اندر جوڈیشل آفیسر کے پاس عادی کچہری باز ہوگا۔ جوڈیشل آفیسر تو توجہ نہیں دیتے البتہ وہ کہتا ہے کہ برخودار کی بات سنیں یہ فلاں صاحب کا بیٹا ہے یا فلاح کا بھائی۔ جناب صدر محفل ہمیں اس مشکل سے نجات دلائیں‘‘۔

خاموشی طاری تھی بات جاری تھی کہ سول ججوں کی دل کی رھڑکن برابر میں بیٹھا شخص بھی سکے پھر میری نظر احمد فاروق شیخ صاحب پر پڑی سوچا کہ نا انصافی ہو گی اگر ان کے متعلق وضاحت نہ کی میں نے مزید کہا جناب والا ان عدالتوں میں جناب احمد فاروق شیخ صاحب کی عدالت شامل نہیں ہے گو کہ میرے پاس دیوانی نوعیت کے مقدمات زیادہ نہیں ہوتے مگر ان کی شہرت ایک زبردست دیانتدار اچھے اور Competant جج کی ہے۔ بعد میں جناب احمد فاروق ہائی کورٹ کے جج ہوئے اور آج تک مجھے اس حوالے سے یاد رکھا۔ Respond کرنا میری عادت ہے جس نے مجھے سرکاری غلامی کے دوران بہت پریشان کیا ۔2009ء سے اب تک جو بھی حکومت رہی الحمد للہ وہی لکھا جو سچ سمجھا۔ حالیہ سینیٹ الیکشن میں جو ہوا اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اب کیا رہ گیا کہنے اور لکھنے کو بس عید اور 14 اگست منائیں اور یادوں کے دریچے سے اچھے دنوں اور پرانے پاکستان کو یاد کریں۔


ای پیپر