وہ ہیرو جو کبھی نہیں مریں گے !!
05 اگست 2019 2019-08-05

ہماری آنکھ صرف وہی دیکھتی ہے جو اس کے سامنے ہوتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ جو سامنے ہو وہی پورا سچ بھی ہو ۔ ہم اخبار میں قتل کی ایک خبر پڑھ کر آ گے بڑھ جاتے ہیں لیکن اس ایک قتل سے کتنی زندگیاں ٹھہر جاتی ہیں اسکا علم سطحی قاری کو نہیں ہو سکتا ۔ مان لیجئے کہ ہم اکثر ادھورے سچ اور ادھوری کہانی میں زندہ رہتے ہیں ۔ ہم عموماً آدھے سچ کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں اور پھر ایک رخ کو ہی مکمل تصویرمان کر اس پر اڑ بھی جاتے ہیں ۔ہمارا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم ریٹنگ زدہ ہو گئے ہیں ۔ ہم میڈیا کو خبر میں مرچ مصالحہ شامل کرنے پر برا بھلا تو کہتے ہیں لیکن اگر کوئی چینل ہیجان خیزی کا یہ مصالحہ نہ ڈالے تو ہم اسے مسترد بھی کر دیتے ہیں ۔ ہم ڈراموں میں حد سے زیادہ گلیمر کے خلاف ہیں لیکن ہم پھر بھی وہی ڈرامے دیکھتے ہیں جن میں گلیمر اخلاقی حدیں پار کر رہا ہو۔ ہم دوہری زندگی گزار رہے ہیں ۔ ایک وہ زندگی ہے جو سوشل میڈیا تک محدود ہے ۔ اس زندگی میں ہم انتہائی ایماندار ، اخلاق اور روایات کے پابند انسان کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ دوسری وہ زندگی ہے جو سوشل میڈیا سے باہر ہے ۔ اس زندگی میں ہم دودھ میں پانی اور مرچوں میں پسی ہوئی اینٹوں سے لے کر ہر وہ کام کرتے ہیں جس کے خلاف ہم ہی سوشل میڈیا پر سٹیٹس لکھتے ہیں ۔ یہ دوہری زندگی ہمیں نہ صرف نفسیاتی مریض بنا رہی ہے بلکہ حقائق سے بھی دور کرتی جا رہی ہے ۔حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہم سنسنی خیزی کے چکر میں تحقیق اور کھوج کا دامن جھٹکتے جا رہے ہیں ۔

ایک وقت تھا جب مجھے بھی یہی لگتا تھا کہ پولیس میں بھرتی ہونے والا ہر شخص کرپٹ ہوتا ہے ۔ کوچہ صحافت میں قدم رکھا تو کئی اور کہانیاں بھی سامنے آتی گئیں۔ میں ان پولیس افسران سے بھی ملا جن کے بچے سرکاری سکول میں پڑھتے ہیں اور بیگمات نجی اداروں میں ملازمت کرتی ہیںتاکہ دو تنخواہوں سے گھر چلانے میں آسانی ہو۔ میں نے اس ڈی ایس پی کا خط بھی دیکھا جس نے علما کرام سے پوچھا تھا کہ کیا وہ عید پر بچوں کے نئے کپڑوں اور دیگر اخراجات کے لئے اپنے مال داربھائیوں سے زکوۃ یا صدقہ لے سکتا ہے ۔ میں نے کرپٹ اہلکاروں اور افسران کے بارے میں کئی رپورٹس فائل کی ہیں اور میں ہی کئی ایسے ایماندار اہلکاروں اور افسروں سے بھی ملا ہوں جن کے ہاتھ چومنے کو دل کرتا ہے ۔ یاد آتا ہے ، سی آئی اے کے ایک ڈی ایس پی کا بیٹا میرا کلاس فیلو تھا ۔ہم کالج میں زیر تعلیم تھے کہ اس کے والد ریٹائر ہو گئے ۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم سے اپنے دونوں بیٹوں کو چھوٹا سا میڈیکل سٹور کھلوا دیا اور خود بھی وہیں دکانداری کرنے لگے۔تب حیرت ہوتی تھی کہ اس پورے گھرانے کا کل سرمایا کرایہ کا پانچ مرلے کا ایک گھر اور کرایہ پر ہی کھولے گئے ایک میڈیکل سٹور تک محدود ہے ۔ اب بھی سی آئی اے کا ایک ڈی ایس پی عمران خان ڈیوٹی کے بعد لوگوں کو قرآن کا درس دیتا ہے۔ یہ تصویر کا وہ رخ تھا جو صحافت میں قدم رکھنے کے بعد سامنے آیا۔ اس سے انکار نہیں کہ دیگر سرکاری ونجی اداروں کی طرح محکمہ پولیس میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں۔ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں دودھ میں پانی کے ساتھ ساتھ بال صفا پائوڈر تک ملایا جاتا ہے اور سٹابری کو سرخ کرنے کے لئے کیمیکل رنگ کا سپرے کیا جاتا ہے ۔ یہاں مردار گوشت سے لے کر کتوںاور گدھوں تک کے گوشت کی خبریں عام ہیں ۔ اس معاشرے میں ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ معاشرے کا مجموعی کردار بہتر ہونے سے پہلے ہم پولیس یا کسی اور محکمہ میں فرشتے بھرتی کر سکتے ہیں ۔ یقینا پولیس میں بھی وہی لوگ بھرتی ہوتے ہیں جو اس معاشرے کا حصہ ہیں ۔اسی لئے میں ایسے افراد کو ہیرو قرار دیتا ہوں جو ا ن حالات میں بھی ایمانداری اور فرائض کی بجا آوری کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اختیار نہ ملے تو ہر شخص ہی ایماندار ہوتا ہے ، امتحان تب شروع ہوتا ہے جب صاحب اختیار ہونے کے باوجود خدا خوفی قائم رہے۔

گزشتہ دنوں میں ان ہیروز کے بارے میں تحقیق کرتا رہا جن کی ہمیں خبر ہی نہیں ہے ۔سوال یہ ہے کہ جو ہماری حفاظت کرتے ہوئے مجرموں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ان کا ذکر کون کرے گا ؟اب چند سال سے پاکستان میں 4 اگست یوم شہدائے پولیس کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ یوم شہدا کے حوالے سے پنجاب پولیس کے شہدا پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ صرف فیصل آباد میں ہی گذشتہ 25 برس میںمجرموں کے ہاتھوں ایس پی سے کانسٹیبل تک ایک سو سے زائد پولیس اہلکار و افسران شہید ہو چکے ہیں ۔ راولپنڈی میں بھی 100 سے زائد شہادتیں ہو چکی ہیں۔ لاہور میں 3 سو سے زائد پولیس افسران و اہلکار جام شہادت نوش کر چکے ہیں ۔مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پنجاب کے ہر ضلع میں پولیس افسر و اہلکاروں نے عوام کی حفاظت کے لئے شہادتیں پیش کی ہیں ۔ گوجرانولہ پولیس کے تر جمان کے مطابق یہاں ڈی پی او تعینات ہونے والے ایس ایس پی اشرف مارتھ سمیت لگ بھگ 95 پولیس افسر و اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ ریجن کی سطح پریہ تعداد253ہے ۔یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے درمیان رہتے تھے ۔ یہ انہی گلی محلوں سے نکلے ، ڈیوٹی پر گئے اور اس سماج کے دشمنوں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ المیہ یہ ہے کہ سول سوسائٹی کو ان کے کارنامے تو دور کی بات ان میں سے اکثر کے نام تک کا علم نہیں ہے ۔

گزشتہ روز لاہور میں یوم شہدائے پولیس کی مرکزی تقریب میں شہدا کے خاندانوں سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا ۔ اس تقریب میں آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کو بھی شہدا کے بچوں سے ملتے وقت آبدیدہ دیکھا ۔ انہوںنے بتایا کہ ان کی درخواست پر حکومت نہ صرف پنجاب کے تمام زیر التوا شہدا پیکجزکی منظوری دے چکی ہے بلکہ ان کے چیکس بھی شہدا کے ورثا کے سپرد کئے جا چکے ہیں ۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ کیپٹن (ر) عارف نواز خان جب پہلے آئی جی پنجاب تعینات ہوئے تب انہوں نے پولیس فورس کی تنخواہ میں اضافے کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا اوراب دوسری بار آئی جی پنجاب تعینات ہوئے تو بھی انہوں نے حکومت کو قائل کر کے پنجاب پولیس کے منجمند الائونس ڈی فریز کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ان کی یہ کوششیں قابل ستائش ہیں۔

مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ محکمہ پولیس شہدا کی فیملی کو ان کی مکمل تنخواہ اسی طرح ادا کرتا ہے جیسے کہ یہ ڈیوٹی پر موجود ہوں اور ان کی ساٹھ سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد ان کی فیملیز کو پینشن جاری کی جاتی ہے ۔ مختلف اضلاع کے ڈی پی اوز کا کہنا تھا کہ پولیس کے تقریبات میں شہدا کی فیملیز کو بلایا جاتا ہے اور پولیس کی عمارتوں کو شہدا سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ اب سوال سو ل سوسائٹی سے ہے ۔ ہم پولیس کی کرپشن پر آواز اٹھاتے ہیں لیکن اسی کرپشن سے لڑنے والوں کو کیوں بھول جاتے ہیں ؟ ہم اپنی گلیوں کو ان سے منسوب کرنے سے کیوں ہچکچاتے ہیں ؟ کیا ہمارے کسی معروف انڈرپاس کا نام کسی شہید پولیس اہلکار کے نام سے منسوب ہے ؟ کیا ہم شاہراہوں پر پولیس شہدا کے بینرز آویزاں کرتے ہیں ؟سچ یہ ہے کہ ہم رول ماڈل کے نعرے تو لگاتے ہیں لیکن جنہیں رول ماڈل بنانا ہو انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ اب ہمیں یہ مجرمانہ خاموشی ختم کرنا ہو گی ۔ پاکستان کے ہر ادارے اور ہر شعبے میں کام کرنے والے ایماندار اور بہادر افراد کو اپنا حقیقی ہیرو قرار دینا ہو گا ۔ ہماری لڑائی اس کرپشن سے ہے جو پورے ملک میں ناسور بن رہی ہے لیکن اس لڑائی میں ہمیں ان گمنام بہادروں کو خراج تحسین بھی پیش کرنا ہو گا جو مشکل ترین حالات کے باوجود اپنا فرض ادا کرتے ہیں ۔ اب چاہے ان کا تعلق کسی نجے شعبے سے ہو یا پھر محکمہ پولیس و دیگر اداروں سے ہو، ہمیں ان کی خدمات ، بہادری اور قربانیوں کا اعتراف کرنا ہی ہو گا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا سول سوسائٹی ویسا ہی احترام دیتی ہے جیسا کہ شہدا کے خاندانوں کا حق ہے؟۔ اس سوال کا جواب ہمیں خود سے طلب کرنا ہے کیونکہ ضرور ہمارے ارد گرد بھی کسی شہید کی فیملی گمنامی کی زندگی بسر کر رہی ہو گی ۔


ای پیپر