نمبروں کی دوڑ اور ہمارے بچے
05 اگست 2019 2019-08-05

پچھلے دنوں میٹرک کے نتائج کا اعلان ہوا تو اس کے کچھ دن بعد میں نے اپنے ایک دوست کو پریشان دیکھا پریشانی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا ــ’’ ـــمیرے ایک بھانجے نے میٹرک کے امتحان میں بورڈ میں پانچویں پوزیشن حاصل کی ہے جبکہ دوسرا بھانجا زیادہ اچھے نمبر نہیں لے سکا۔ اب جو بھانجا اچھے نمبر نہیں لے سکا اس پر ہر جگہ تنقید ہو رہی ہے میرا وہ بھانجا جہاں بھی جاتا ہے تضحیک کا نشانہ بنتا ہے اور اس کا موازنہ اس بھانجے سے کیا جاتا ہے جس کی بورڈ میں پانچویں پوزیشن ہے۔ کل جب میری اس بھانجے سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگا ’’ماموں کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے میں خودکشی کر لوں‘‘

اسکی یہ بات سن کر میں حیران رہ گیا میں اس سے ایسی بات کی توقع نہیں کر رہا تھا ۔سچ بتائوں تو میں خود بھی نمبروں کے معاملے میں اس سے مذاق کرتا رہا تھا مگر اس کی خودکشی والی بات سن کر میں بھی گم سم ہو ساگیا مجھے اپنی باتوں پر دکھ بھی ہوا اور رویے پر شرمندگی بھی محسوس ہوئی

پھر میں اس کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کے لیے اسے سمجھانے لگا کہ بیٹا تعلیمی میدان میں بہت زیادہ نمبر عملی زندگی میں کامیابی کی دلیل نہیں ہوتے۔ میں نے اسے بے شمار ایسے لوگوں کی مثالیں دیں جو امتحانا ت میں نمبروں کی دوڑ میں پیچھے اور عملی میدان میں آگے رہے پھر میں نے اپنے بہن بھائیوں سے بھی درخواست کی کہ خدارا اس بچے کی حوصلہ افزائی کریں کیونکہ ہر وقت کے موازنے اور تنقید نے اسے بہت بددل کر دیا ہے اور یہ خودکشی کا سوچنے لگا ہے

ہمارے معاشرے میں نمبروں کے حوالے سے بچوں کا ایک دوسرے سے موازنہ بہت عام ہو گیا ہے یہ موازنہ نہ صرف بچوں میں احساس کمتری پیدا کرتا ہے بلکہ انہیں شدید ذہنی دباؤ کا شکار بھی رکھتا ہے اوربسا اوقات بچے ذہنی دباؤ کے تحت خودکشی کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں

بسا اوقات وہ والدین جو اپنی زندگی میں کامیاب نہ ہوسکے اپنی محرومیوں اور ناکامیو ں کو اپنے بچوں کی کامیابیوں کی شکل میں دیکھتے ہیں اور ان کامیابیوں کے حصول کے لیے وہ بچوں کو شدید ذہنی تناؤ کا شکار کر دیتے ہیں اور یہ ذہنی تناؤ چپ چاپ طویل مدت تک جاری رہے تو بچے ذہنی مریض بن جاتے ہیں

ہم ہروقت بچوں کے ساتھ ہوتے ہیں ہم انہیں ہر قسم کی آ سائشیں مہیا کر نے کی کوشش بھی کرتے ہیں مگر جب ہمارے بچوں کو حقیقت میں ہمارے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ ہمیں اپنے ساتھ نہیں دیکھتے کوئی بھی بچہ پرفیکٹ نہیں ہوتا ہم بحثیت والدین بھی پرفیکٹ نہیں ہیں مگر اپنے بچوں کو پرفیکٹ دیکھنا چاہتے ہیں ہم ہر میدان میں انہیں سب سے اونچا دیکھنا چاہتے ہیں ہماری یہی کمزوریاں ہمارے بچوں کو کمزور بنا دیتی ہیں اور انہی کمزوریوں کی بنا پر وہ کسی کمزور لمحے کمزور فیصلے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں

آج کل کے دور میں بچوں کو قدم قدم پر والدین کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے مگر والدین اپنے بچوں کا دوسرے بچوں کے سامنے مذاق اڑا کر یا موازنہ کرکے اس میں احساس کمتری کا بیج بو دیتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بیج تناور درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے ہر روز کی تنقید اور ناکامی کے طعنے ایسے بچوں کو عملی زندگی میں بھی ناکام بنا دیتے ہیں

آج سے پچاس برس پہلے ایک ایک امریکی ریسرچر رابرٹ روزنڈال نے ایک ریسرچ کی اور اس ریسرچ کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ بچوں پر یقین اور اعتماد بچوں کی کارکردگی میں بہتری کا باعث بنتا ہے اور ایسے بچے جن کی صلاحیتوں پر ان کے والدین اور اساتذہ اعتماد رکھتے ہیں ان بچوں کے مقابلے میں بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں جن کے والد ین اور اساتذہ ان پر یقین اور اعتماد نہیں رکھتے

رابرٹ روزنڈال ایک امریکی ریسرچر تھا اس نے ایک تجربے کی غرض سے سان فرانسسکو کے ایک پبلک سکول سے کچھ بچے لیے ان بچوں کا چناؤ بچوں کی قابلیت کی وجہ سے نہیں کیا گیا تھا اس نے بچوں کا انتخاب جانے اور پرکھے بغیرکیا۔بچوں کا چناؤ کرنے کے بعد ان بچوں کے لیے پہلے سے منتخب اساتذہ کو اس بات کا یقین دلایا گیا کہ یہ بچے جے آئی ۔ کیو ٹیسٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔اساتذہ کا یہ خیال تھا کہ رابرٹ نے ان بچوں کا چناؤ نہایت سوچ سمجھ کر کیا ہوگا اسی لئے یہ بات کہہ رہا ہے اساتذہ کا یہ بھی خیال تھا کہ رابرٹ نے نے نہایت ذہین بچوں کا چناؤ کیا ہوگا

بچوں کی صلاحیتوں پر یقین اور اعتماد رکھتے ہوئے ان اساتذہ نے بچوں پر محنت شروع کردی اساتذہ کا یہ یقین اور اعتماد بچوں کے اپنے اعتماد اور یقین میں بھی اضافے کا باعث بنا دو سال بعد جب ان بچوں کا آئی ۔کیو ٹیسٹ لیا گیا تو ان بچوں نے حیران کن نتائج مرتب کیے رابرٹ نے اس تجربے کو کئی بار دہرایا اور ہر بار بچوں نے بہترین نتائج مرتب کئے

ان تجربات کی روشنی میں رابرٹ اس نتیجے پر پہنچا کہ بچوں سے مثبت توقعات وابستہ کرنا بچوں کی کارکردگی میں بہتری کا باعث بنتا ہے تعلیمی دنیا میں اس تجربے سے حاصل ہونے والے نتائج کو پیگملین ایفیکٹ (pygmalion Effect ) کہا جاتا ہے

پیگملین ایفیکٹ کے مطابق کسی بھی شخص سے مثبت توقعات وابستہ کر نا اسکی کارکر دگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے یہاں پر جو بات قابل غور ہے وہ یہ کہ آپ دلی طور پر اپنے بچوں کی صلاحیتوں پر یقین اور اعتماد رکھیں صرف زبانی کلامی مثبت الفاظ وہ نتائج نہیں لاتے جتنا آ پ کا دلی یقین اور اعتماد بچے کی شخصیت میں تبدیلی لاتا ہے

آجکل نمبروں کی دوڑ میں ہم نے اپنے ہی بچوں کو تضحیک کا نشانہ بناکر خود سے دور کر لیا ہے۔ہم اپنے بچوں کی ہر طرح کی جسمانی ضروریات پوری کرتے ہیں مگر ہم نے کبھی بھی ان کی نفسیاتی ضروریات پوری کرنے کی کوشش نہیں کی ایک بچے کو قدم قدم پر اپنے والدین کے اعتماد اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس صورتحال میں والدین اس کے ساتھ نہیں ہوتے

خدارا اپنے بچوں کی صلاحیتوں پر دلی یقین اور اعتماد رکھیں اور ان کا موازنہ ان کے کز نوں اور دوسرے رشتہ داروں کے بچوں سے مت کریں اور کم نمبروں کی وجہ سے بھی اپنے ہی بچوں کو تضحیک کا نشانہ مت بنائیں اگر آپ اپنے بچوں سے مثبت توقعات رکھیں گئے تو ان میں بے شمار مثبت تبدیلیاں دیکھیں گے۔


ای پیپر