بہترین راستہ کونسا
05 اگست 2018 2018-08-05

پاکستان تحریک انصاف توقعات کے انباراور تضا دات کے بوجھ سے دبی ہوئی جماعت ہے۔ لہٰذا بہترین راستہ یہی ہے کہ اس کو حکومت بنانے،کاروبار مملکت چلانے کا بھر پور موقع دیا جائے۔اگر وہ کامیاب رہی(جس کا امکان بہت کم ہے)تو ملک خداداد پاکستان کا بھلا ہو گا۔ اگر وہ ناکام رہی تو اس کی اندھی محبت میں گرفتار سر پرست قوتیں،ذہنی گمراہی کا شکار ایک خاص طبقہ، میڈیا کے ذریعے بر پا کیے گئے پراپگینڈے کے اسیر عناصر خود ہی واپسی کے راستے تلاش کرینگے۔

اپوزیشن کی بعض جماعتوں کی جانب سے حکومت سازی کی کوششوں مشق لاحاصل ہی رہیں گی۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو اکثریت ملی اس کی صفوں میں یہ خواہش فطری ہے کہ اسے حکومت بنانی چاہیے۔ کتابی باتوں، آفاقی نظریات کے تحت تو یہ بات درست ہے۔لیکن سیاست تو بہت سفاک کھیل ہے۔ اس میں آفاقی فلسفے نہیں چلتے۔ماضی میں ایک مرتبہ نہیں کئی بار پیپلز پارٹی کے پاس سندھ میں اکثریت تھی۔لیکن ایک مرتبہ جام صادق مرحوم، پھر لیاقت جتوئی، پرویز مشرف کے دور میں علی محمد مہر اور ارباب غلام رحیم کے ذریعے ٹیسٹ ٹیوب حکومتیں بنائی گئیں۔ کیونکہ اس وقت فیصلہ سازوں نے پیپلز پارٹی کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ لہٰذا اقتدار،سیاست کی گلی میں سر گرداں گدا گروں کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ پیپلز پارٹی وقتی طور پر اقتدار سے ضرور محروم رہی۔لیکن جب بھی موافق حالات پیدا ہوئے اس کو مینڈیٹ ہی نہیں حکو مت بھی وا پس مل گئی۔ اقتدار البتہ پاکستان میں کسی کو نہیں ملا۔ مستقبل قریب میں ملنے کا امکان بھی نہیں۔اس کیلئے طویل کوشش کرنی پڑے گی۔پیپلز پارٹی اس حوالے سے ٹیسٹ کیس بھی ہے اور قابل تقلید مثال بھی۔ اس کو اپنے قیام سے لیکر آج تک پانچ مرتبہ مرکز،سات مرتبہ سندھ کی حکومت ملی۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس نے 1970 سے آج تک سندھ میں کوئی انتخاب نہیں ہارا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا معاملہ البتہ الگ ہے۔ مسلم لیگ (ن) جب تک ایمپائر کے ساتھ ملکر کھیلتی رہی تب تک حکومت اس کی رہی۔ 1999 میں جب اس نے پہلی مرتبہ ٹکر اؤ کی پالیسی اختیار کی اس کے بعد 2002 کے انتخابات میں اس کو سترہ نشستیں حاصل ہوئیں۔ مسلم لیگ (ق) نام کی لیبارٹری ساختہ جماعت بنائی گئی۔جو حالات تبدیل ہوتے ہی بکھر کر رہ گئی۔ جبکہ مسلم لیگ (ن)نے دس سال پنجاب میں لگاتار حکومت کی۔ 2013میں مسلم لیگ (ن) نے مرکز اور پنجاب میں بھی حکومت بنائی۔اس دور میں مسلم لیگ (ن) نے مرکز اورپنجاب میں شاندار پرفارمنس کا مظا ہرہ کیا۔ دہشت گردی کا خاتمہ، بجلی کا بحران میں نمایا ں اور واضح کمی،پانچ سالہ دور کے اختتام پر تمام سروے،تجزیے، قیافے،اندازے سب بتا رہے تھے کہ کارکردگی کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) کو باقی حریف جماعتوں پر برتری حاصل رہے گی۔ لیکن اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ پاکستان میں الیکشن جیتنے کیلئے صرف پرفار منس کافی نہیں ہوتی۔ اگر معاملہ صرف پرفارمنس کا ہو تا تو پیپلز پارٹی کی پرفارمنس باقی جما عتوں کی بہ نسبت خراب تھی۔ لیکن اس نے صوبائی اور قومی اسمبلی میں نشستوں کے معاملے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ اسی طرح خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی ہرگز مثالی نہ تھی۔ پارٹی کے سربراہ نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہا کہ شکر ہے کہ ہمیں مرکز میں حکومت نہیں ملی ورنہ ہمارا حشر بھی خیبر پختونخواہ ایسا ہوتا۔ احتساب کا معاملہ ہو، تعلیمی نظام ہو یا ہیلتھ سسٹم تمام شعبوں میں افراتفری تھی۔ سیاسی معاملات کی حالت تو یہ تھی پانچ سال اتحادی بھی آپس میں دست گریبان رہے۔ وزیر اعلیٰ کی اپنے ارکان صوبائی اسمبلی سے نہیں بنتی تھی۔ ارکان کابینہ اپنا وقت باہمی جھگڑوں کو نمٹانے میں مصروف رہے۔ کرپشن کا یہ عالم تھا کہ احتساب کمیشن پر تالے لگے رہے۔پارٹی سربراہ خود سرکاری ہیلی کاپٹر کیس میں نیب کے پاس زیر تفتیش ہیں۔پانچ سال تک وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز شخص ٹرانسپورٹ کے منصوبہ میں نیب کے شکنجے میں ہے۔ مالم جبہ میں زمینوں کی الاٹ منٹ کا ریفرینس بھی ڈراؤنا خواب بنا ہوا ہے۔ بلین ٹری منصوبہ شفاف نہیں۔سینیٹ کے الیکشن میں ووٹوں کی ایسی خریدو فروخت ہوئی کہ بیس ارکان صوبائی اسمبلی کو جماعت سے نکال دیا گیا۔ جوابی کاروائی کرتے ہوئے ان ارکان نے الزام لگایا کہ پارٹی نے ہمیں پیسے دینے کی آفر کی تاکہ ہم کسی اور کو ووٹ نہ دیں۔یہ تو محض ایک اجمالی سا خاکہ ہے پانچ سالہ حالات کا۔لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی نے ماضی سے زیادہ ووٹ اور نشستیں حاصل کیں۔ بہر حال اب الیکشن ہو چکا پاکستان کے متنازعہ ترین انتخابات کے نتائج آ چکے ہیں۔ ایسا الیکشن اس سے پہلے کبھی دیکھا نہ تھا۔ لاکھوں ووٹ مسترد ہوگئے۔ درجنوں ایسے حلقے ہیں جہاں مسترد ووٹوں کی تعداد زیادہ اور لیڈر کا مارجن کم ہے۔ گنتی کی رات پولنگ ایجنٹوں کو چھٹی دیدی گئی۔رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم جام ہو کر رہ گیا۔ فارم45 جنس نایاب بن گیا۔ کئی حلقوں میں نتائج رکے ہوئے ہیں۔عام انتخابات میں اصل ٹارگٹ مسلم لیگ (ن) تھی۔ کوئی ایک ایسا پہلو بھی نہ تھا جو اس کے حق میں جاتاہو۔ اس کے پاس سوائے ووٹر اور نواز شریف کے بیانیے کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ نواز شریف کا بیانیہ اس کے نام آیا۔ووٹر نے اس کے بیلٹ باکس بھرے۔نتیجہ کے طور پر مسلم لیگ (ن) کو 63 نشستیں ملیں۔مخصوص نشستوں کے اضافے سے اس کی پارلیمانی قوت بڑھ جائے گی۔ تمام تر مشکلات کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کو اڑھائی کروڑ ووٹ ملے۔جبکہ اگر نشستوں کو دیکھا جائے تو اپوزیشن کی تعداد 132 کے قریب بنتی ہے۔ اپوزیشن متحد رہی تو پالیمانی تاریخ کو مضبوط ترین قوت کی حامل ہو گی۔ جبکہ مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے دربدر بھٹکتی پی ٹی آئی کمزور ترین حکومت۔اگلے چند روز میں حکومت سازی کا عمل تو مکمل ہو جائے گا۔ لیکن پی ٹی آئی کی حکومت اور عمران خان کی وزارت عظمیٰ چند ووٹوں کے نیم کچے دھاگے سے لٹکی رہے گی۔ اس کو اقتدار ایم کیو ایم، بی این پی،آزاد، مسلم لیگ (ق) کی مدد سے ملے گا۔ اور ان کا تعاون رہے گا تو حکومت برقرار رہے گی۔ جس دن ایک بھی اتحادی منہ موڑ گیا تو حکومت ختم۔ پرفارمنس کا معاملہ تو بہت بعد میں آئے گا۔ 50 لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں تو ابھی دلی کی طرح بہت دور ہیں۔ فی الحال تو قانون سازی سب سے مشکل ترین کام ہو گا۔ بل قومی اسمبلی سے پاس ہوا تو سینیٹ میں جا پھنسے گا جہاں اپوزیشن ارکان کی تعداد 84 ہے۔ پی ٹی آئی اپنے تضادات میں پھنسی ہوئی جماعت ہے۔ جس کا مقابلہ کرنا مضبوط اپوزیشن کیلیئے مشکل نہیں بس اپنی پارلیمانی طاقت کو بچاکر رکھنا ہو گا۔ اگلا وار فارورڈ بلاک کی شکل میں آئے گا۔ حکومت سازی کا خواب چھوڑ کر موثر متحرک اپوزیشن کرنے کی منصوبہ بندی کریں۔ یہی بہترین راستہ ہے۔


ای پیپر