ارکان اسمبلی کی قلابازیاں
05 اگست 2018 2018-08-05

قلابازیاں ، الٹ بازیاں، اباؤٹ ٹرن عرف عام میں لوٹا ازم، حکومت سے مل جائیں تو معزز لوٹے، وی وی آئی پی، اپوزیشن میں رہیں تو بے پیندے کے لوٹے کہلائیں وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کے لیے یہی کچھ ہو رہا ہے، 2013ء میں بھی یہی کچھ ہوا تھا، نمبر گیم پورے ہی نہیں ہوئے دو تہائی اکثریت مل گئی تھی لیکن صرف 32 سیٹوں پر کامیاب ہونے والوں نے اکثریت کا حشر نشر کردیا دو تہائی اکثریت کی ’’ہیٹ ٹرک‘‘ کرنے والا وزیر اعظم اڈیالہ جیل میں پڑا ہے، پرویز مشرف کو ہتھکڑی لگانے کی ضد کی تھی خود کو ہتھکڑی لگتے لگتے رہ گئی، جیل پہنچتے ہی سی کلاس ملی، چارپائی تک نہ دی گئی، پہلی رات فرش پر سونا پڑا،پرانا بدبودار گدا، گندہ باتھ روم، کیا اسی سلوک کے مستحق تھے؟ 2002ء میں ڈکٹیٹر نے جمہوری صدر بننے کے شوق میں انتخابات کرائے، لوٹے لڑھکتے رہے لیکن ان میں سے شرم و حیا کا ایک قطرہ نہ ٹپکا، گنتے جائیے، سر دھنتے جائیے، ن لیگ کے چوہدری شجاعت، پرویز الٰہی، مشاہد حسین اور درجنوں لیڈر راتوں رات ن سے ق بن گئے ،کردار پر نقطے نہیں دھبے لگتے ہیں، پیپلز پارٹی کے گیارہ جیالے اور بیسیوں لوٹے، ڈکٹیٹر کو بیساکھیاں درکار تھیں بزعم خود نظریاتی سیاست کرنے والوں نے مہیا کردیں، نظر یہ ضرورت پر کاربند، ’’چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی ‘‘ انہی دنوں واصف فاروقی نے کہا تھا۔

مسرتوں میں حیات اپنی گزار دیناکمال کیا ہے

جو چڑھتے سورج کو پوجتے ہیں انہیں بتاؤ زوال کیا ہے

2008ء میں مشرف کے جاتے ہی لوٹے خوفزدہ ہوئے ،کدھر جائیں کہاں جائیں ،سیاست کی سمت متعین کرنے والوں نے پرانی فہرستیں اپ ڈیٹ کیں کچھ دانے ن لیگ کے دسترخوان پر گرا دیے ،کچھ پیپلز پارٹی کے صحن میں دانہ دنکا چگنے لگے، دونوں بڑی پارٹیوں کے لیڈر کچھ نہ سمجھےِ،کچھ سمجھے تو نا سمجھ بنے رہے،’’ سمجھ سمجھ کے بھی جو نہ سمجھے میری سمجھ میں وہ نا سمجھ ہے‘‘ صمم بکمم کی تصویر بنے رہے، 2013ء تک اندر باہر آنے جانے والوں کی فہرستیں فائنل کرلی گئیں ’’لوٹوں کو عزت دو۔‘‘ نعرہ نہیں حکم تھا ،تعمیل کی گئی 66 لوٹوں کو عزت و تکریم سے ن لیگ میں شامل کرلیا گیا، وزارتیں دی گئیں لیکن اسی دوران نواز شریف کے برے دن شروع ہوگئے، کیوں شروع ہوئے یہ لمبی اور الگ بحث ہے، برے دن شروع ہوتے ہی لوٹوں نے قلابازیاں ، الٹ بازیاں اور لڑھکنیاں لینا شروع کردیں ،کسی نے کسی کی بات رکھتے ہوئے کسی کی مخالفت کی ،کسی نے بیانیے کو برا بھلا کہہ کر اپنا الگ آشیانہ بنا لیا، دانہ دنکا مل رہا تھا ذوالفقار کھوسہ، دوست محمد کھوسہ سے کوئی پوچھے کہ ن لیگ نے انہیں کیا نہیں دیا ،باپ سینیٹر، بیٹا وزیر اعلیٰ پنجاب اور کیا چاہیے لیکن اشارہ پاتے ہی دونوں باپ بیٹے چھلانگیں لگاتے نکل بھاگے جیسے جاتے ہی بادشاہت مل جائے گی، باپ بیٹوں کا ذکر کیا 66 ارکان ادھر سے ادھر بھاگے ،ن لیگ 62 نشستوں سے محروم ہوگئی 20 لاکھ ووٹ کم پڑے تحریک لبیک کو کیا ملا ملی مسلم لیگ کہاں گئی لیکن ان کی وجہ سے ن لیگ 13 نشسیں ہار گئی، انہیں ووٹ نہ ملے لیکن ن لیگ کے ووٹ تو کٹ گئے، نواز شریف ہی میں شخص برائیاں ہوں گی کہ چوہدری نثار جیسا ہیرا جو ن لیگ کے بانیوں میں شمار ہوتا تھا ٹکٹ لینے سے گریزاں رہا ،آزاد حیثیت میں انتخاب لڑا اور ہار گیا، شاید احساس ہوگیا ہوگا کہ ’’موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں‘‘ سچ بولتے عار محسوس ہوتی ہے کہ وہ روز اول سے مسلم لیگی تھے لیکن نواز شریف کے نہیں تھے جن کے تھے ان ہی کے رہے ،کیا ملا؟ دونوں سیٹیں ہار گئے، شیخ رشید کہاں سے چلے تھے کہاں پہنچے ،کتنی قلابازیوں کے بعد یہاں پہنچے، خود کہاں پہنچے خوش بختی کام آئی یہاں پہنچا دیے گئے جاوید ہاشمی اچھے بھلے صاف ستھرے سیاستدان، قلابازیوں میں رل گئے ’’پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں‘‘ لمبی فہرست ہے، ن لیگ والوں کے سوچنے کی بات ہے کہ اپنا احتساب کریں ’’ہوئی شکست تو کچھ باعث شکست بھی تھا‘‘ سوچنا چاہیے کہ جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا۔ 2018ء کے انتخابات میں ن لیگ کے ووٹ بینک میں 14 فیصد کمی ہوئی پری پول رگنگ، دھاندلی سب پرانی باتیں، سیاسی حربے، بیان بازی کی حد تک دل خوش کن، حقیقت تسلیم کی جانی چاہیے کہ اپنے ہی پیاروں کی قلابازیوں کے طفیل تحریک انصاف نے 116 نشستیں جیت لیں انہیں صرف 64 ملیں، عمران خان ہنگ پارلیمٹ سے گھبرا رہے تھے ہنگ پارلیمنٹ ہی بنے گی، بد قسمتی ہے یا حالات کا جبر، نمبر گیم ابھی تک دعوؤں کے باوجود مشکوک ہے مسائل الجھ رہے ہیں، عمران خان کے پاس 106 نشستیں، اپوزیشن کی تین پارٹیوں کے پاس 119، وزیر اعظم بن کر بھی اتنی دھانسو اپوزیشن کا سامنا ہوگا، پارٹی کے اندر بھی مسائل درپیش ہوں گے، اقتدار کے شوقین رد عمل کا اظہار کرنے لگے ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے کتنے امیدوار میدان میں آگئے، پرویز الٰہی بھی جمعہ جنج نال کے مصداق جھولی پھیلائے بیٹھے ہیں کہ شاید منظور وٹو اسٹائل کامیاب ہو جائے اور وہ چار یا پانچ سیٹوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب بن جائیں، پنجاب میں بھی نمبر گیم کی ریس لگی ہوئی ہے، جمہوریت کا کرشمہ ہے کہ 123 سیٹیں لینے والی پارٹی کی سیٹیں دیکھتے ہی دیکھتے 168 ہوگئیں ،کیا جھرلو پھیرا گیا کہ گود آزاد ارکان سے بھر گئی، جبکہ129 سیٹوں والے منہ دیکھتے رہ گئے سیاسی جماعتوں میں بیان بازی چلتی رہے گی لیکن منصوبہ ساز ہی اول آخر کامیاب ہوں گے، اپوزیشن کی چالیں دھری کی دھری رہ جائیں گی، ویسے آپس کی بات ہے، اپوزیشن قومی اسمبلی میں 119 سیٹوں کے ساتھ بہت کچھ کر سکتی ہے مثلا صدر، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں ٹف ٹائم یا کامیابی، سینیٹ چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور کامیابی، قانون سازی پر کنٹرول، پارلیمنٹ میں عددی بالا دستی، بہت کچھ ہوسکتا ہے لیکن دھیرج رکھیے وہ سب کچھ نہیں کرے گی، اس سب کچھ کی صرف خواہش کی جاسکتی ہے کیوں؟ سب کے اپنے ایجنڈے اپنے مفادات، آل پارٹیز کانفرنس میں ساری دکھی اپوزیشن پارٹیاں اکٹھی ہوگئیں،آصف زرداری اور بلاول بھٹو کیوں نہ آئے؟ شہباز شریف نے ان سے رابطہ کیوں نہ کیا ؟آصف زرداری پانسہ پلٹنے کے ماہر ،کوئی بڑی آفر ملنے کی صورت میں پلڑا جھک بھی سکتا ہے، ویسے بھی نیب ان دنوں بھائی بہن کو جھکانے کے لیے کوشاں ہے، استثنیٰ کہاں اور کیسے مل سکتا ہے آصف زرداری جانتے ہیں، اور کچھ بعید نہیں کہ کسی ’’سمت غیب‘‘ سے آفر ملے اور وہ اپنی 43 سیٹیں ایم کیو ایم کی طرح کراچی آنے والے جہاز کے پائلٹ کے حوالے کردیں، سیاست میں سب جائز ہے، عمران خان ناکام نہیں ہوں گے، ابھی پارٹی شروع ہوئی ہے، سیٹی بجی ہے ریس کا آغاز ہوا ہے، بہت کچھ ہونا باقی ہے لیکن عوام آس لگائے بیٹھے ہیں کہ نیا پاکستان کب بنے گا؟ اے ایمان والو، نیا پاکستان تب بنے گا جب ہم جھوٹ بولنا تہمت لگانا اور قسمیں کھا کر جھوٹے الزامات لگانا بند کردیں گے، نیا پاکستان تب بنے گا جب کرپشن کا حتمی فیصلہ ہوجائے گا، نیا پاکستان تب بنے گا جب ہمیں اپنے اقوال و افعال پر شرم محسوس ہونے لگے گی۔ نیا پاکستان تب بنے گا جب قلابازیاں ، الٹ بازیاں اور اباؤٹ ٹرن کے رجحانات ختم ہوجائیں گے۔


ای پیپر