بنام چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار صاحب
05 اگست 2018 2018-08-05

محترم جناب چیف جسٹس صاحب !

بعد از تسلیمات عرض ہے کہ وطنِ عزیز پاکستان میں اس کے معرض وجود میں آنے کے وقت سے لے کر تاحال جو لوٹ کھسوٹ، کرپشن اور اقرباء پروری کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری تھا، آپ نے اس کا نوٹس لے کر یہاں کے عوام پہ ایک عظیم احسان کیا ہے۔ ہماری تاریخ شاہد ہے کہ گزشتہ ستر برس میں جو اس ملک کی کل عمر ہے کسی دوسرے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایسا دلیرانہ قدم اٹھانے کی جرأت نہیں کی۔ اپنے کئے فیصلوں میں خودسر اور کسی دوسرے کی نہ سننے والے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو جس طور پر آپ نے اس کے سفاکارانہ فیصلوں اور اقدامات میں بے اختیار کیا، وہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ چونکہ آپ کے اقداما ت میں نیک نیتی اور وطن سے محبت کا درد موجود تھا، اس لیئے آپ نے یہ کر دکھایا۔ آپ کے یہ اقداما ت اس درجہ خود اعتمادی سے عبارت تھے کہ اب امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ کوئی بھی وزیر اعلیٰ ملک میں لوٹ کھسوٹ، کرپشن اور اقرباء پروری جیسے مکروہ دھندوں میں ملوث ہونے کی جرأت نہیں کرسکے گا۔ آپ نے اپنے ا نہی ا قد ا ما ت کے سلسلے میں صوبہ پنجاب کے اعلیٰ سرکاری عہدوں پہ فائز 62 افسران کو ان کی نوکری سے فارغ کیا ہے۔ تاہم نہایت مؤدبانہ طور پر گزارش کرنے کی اجازت مرحمت فرمائیں کہ ان 62 افسران میں سے 32 تو واقعی ایسے ہیں جو قومی خزانے کو بے دریغ لوٹنے، عوام کی جیبوں کو خالی کرنے اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کے مرتکب تھے۔ یہی وہ افسران تھے جنہیں سابق وزیر اعلیٰ کی آشیرباد حاصل تھی۔ اسی آشیرباد کی بدولت ان 32 افسران نے اپنے اکاؤنٹس بھاری رقوم اور رئیل اسٹیٹ سے بھرے۔ احد چیمہ اور شیر دل سرغنہ کے طور پر اس کی دو بڑی مثالیں ہیں۔ آپ نے ان سے جو لوٹی ہوئی رقوم کی وصولی کا حکم جاری کیا ہے وہ انتہائی قابل ستائش ہے۔

یہ سب لکھنے اور آپ کی کاوشوں کو سراہنے کے ساتھ ساتھ ایک اہم نکتے کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرانے کی اجازت چاہوں گا۔ اور وہ یہ کہ وطنِ عزیز میں کمر توڑ مہنگائی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ پٹرول کی ہر ماہ بڑھتی ہوئی قیمت، مہنگی بجلی اور پھر سب ہی روزمرہ استعمال کی اشیاء تک عام آدمی کی رسائی کے قصے روزمرہ کی بنیاد پر میڈیا کی خبروں کا حصہ ہیں۔ ایسے میں ایک سرکاری عہدیدار کا چار لاکھ روپے سے کم میں گزارہ ہونا ایسی چھوٹی چادر اوڑھ کر سونے کے مترادف ہیں، جس میں اگر سر کو ڈھانپا جائے تو ٹانگیں اور پاؤں عریاں رہ جاتے ہیں۔ اور اگر ٹانگوں اور سر کو ڈھانپا جائے تو سر ننگا ہوجاتا ہے۔ زیادہ تفصیل میں جائے بغیر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ فارغ کیے گئے 62 کے 62 سرکاری ملازمین لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کے مجرم نہیں ہیں۔ یعنی متذکرہ 32 کرپٹ ملازمین کے علاوہ باقی کے 30 افسران ایسے ہیں جو چار لاکھ روپے سے کم کی آمدنی میں اپنی اور اپنے خاندان کی گزربسر کررہے تھے ۔ چنانچہ یہاں یہ تجویز دینے کی اجازت چاہتا ہوں کہ ایک ہارڈ ڈسک مقرر کردی جائے، جس کے تحت چار لاکھ سے اوپر کمائی کرنے والے افسران کو ہی سزا کا مستحق قرار دیا جائے اور ان ہی سے رقوم کی ریکوری بھی کی جائے۔ باقی کے 30 سرکاری افسران کو گیہوں کے ساتھ گھن کے پسنے سے محفوظ رکھا جائے۔ اگر چار لاکھ یا اس سے کم کی آمدنی پر غور کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ٹیکسوں اور اس ہی طرح کی دوسری مدوں میں گورنمنٹ کو قریباً ساڑھے تین لاکھ واپس لوٹانے کے بعد چند ہزار ہی گزارے کے لیے بچتے ہیں۔ یہی وہ وجہ ہے جس کی بناء پر گزارش ہے کہ 32 کرپٹ افسران کے ساتھ ان 30 افسران کو ریکوری کے کڑے امتحان سے نہ گزارا جائے۔

جہاں تک 32 کرپٹ افسران کے حکومتی خزانے کو نقصان پہنچانے اور دیگر ناجائز طریقوں سے بٹوری ہوئی رقم کی ریکوری کا تعلق ہے، ان سے بھی اگر آسان اقساط میں یہ رقوم واپس لی جائیں تو یہ رحم دلی کی وہ مثال ہوگی جس کا اجر صرف اللہ پاک کی ذات ہی ادا کرسکتی ہے۔ یہاں یہ کہنے کا مطلب ہرگز نہیں کہ ان 32 کرپٹ افسران کو سرے سے ہی معاف کردیا جائے۔ حضورِ والا! حقیقت تو یہ ہے کہ کہ ان افسران نے حکومتی خزانے اور غریبوں کے حق کو وزیر اعلیٰ کی چھتری تلے پناہ لے کر شیر مادر سمجھ کر اندھا دھند لوٹا ہے۔ جب یہ 32 افراد دولت کی لوٹ کھسوٹ میں مصروف تھے تو ایسے ایماندار افسران جنہیں کسی وزیر اعلیٰ کی حمایت حاصل نہیں تھی اس عیاش طبقے کا منہ دیکھ رہے تھے۔ انصاف کا تقاضا تو یہی ہے کہ چار لاکھ روپے سے اوپر ماہانہ آمدنی وصول کرنے والے افسران سے نہ صرف اوپر کی ریکوری کی جائے بلکہ انہیں آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنادیا جائے۔ تاہم پھر دست بستہ گزارش ہے کہ سب ہی فارغ کیے گئے 62 افسران کو ایک ہی ترازو میں نہ تولا جائے۔ ان میں سے 30 افسران جو غلط فہمی یا سازش کی بناء پر 32 کرپٹ افسران کے ہمراہ گرفت میں آگئے ہیں، ان کے معاملات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ ایسا کرنے کی صورت میں انصاف کی ایک ایسی مثال قائم ہوگی جو آپ کے اس کارخیر کو اس ملک کی تاریخ کی کتابوں میں محفوظ کردے گی۔ اس خطہِ ارض کی تقدیر بدل جائے گی اور یہ ملک انصاف کی راہوں پر اپنی اس منزل کی جانب گامزن ہوجائے گا جس کے لیے یہ معرضِ وجود میں آیا تھا۔

پھر عرض کرتا ہوں کہ اپنی تاریخ کے ستر سالوں میں کسی چیف جسٹس نے ملک میں جاری اس ناانصافی کے خلاف قدم اٹھانے کے بارے میں سوچا تک نہ تھا۔ اب آپ کی ذات بابرکات کے ہاتھوں انصاف ہوتا نظر آرہا ہے تو یہ خواہش کوئی بے جا نہیں ہے کہ اس انصاف میں کوئی ایسی کمی نہ رہ جائے جس کی بناء پر کچھ لوگوں کو کرپٹ لوگوں میں شمار کرتے ہوئے ا نہیں اس جرم کی سزا مل جائے جو انہوں نے سرے سے کیا ہی نہ ہو۔ یہاں بھی ہماری مراد وہ 30 افسران ہیں جن کی ماہانہ آمدنی 4 لاکھ روپے سے کبھی بڑھنے نہ پائی مگر وہ 32 کرپٹ افسران کے ہمراہ مجرم قرار دیئے جانے کی زد میں آچکے ہیں۔

درخواست یہ بھی ہے کہ وزیر اعلیٰ کی آشیر باد سے پلنے والے احد چیمہ اور شیر دل سمیت 32 کرپٹ افسران سے ریکوری کی صورت میں وصول کردہ رقوم کو اس ملک کی غریب عوام کی فلاح و بہبود پہ خرچ کیا جائے۔

اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

والسلام


ای پیپر