راولپنڈی ، اسلام آباد۔۔۔ مسلم لیگ(ن) کی شکست!

05 اگست 2018

ساجد حسین ملک



بات حالیہ انتخابات میں راولپنڈی اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے اُمیدواروں کی شکست کی ہو رہی تھی ۔ یہاں سے مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی کے تمام 9 کے 9 اور صوبائی اسمبلی کے بھی تمام 15 کے 15 حلقوں سے مسلم لیگی اُمیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ روایتی طور پر ماضی کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کا مضبوط گڑھ سمجھا جانے والا خطہِ پوٹھوہار اس بار مسلم لیگی اُمیدواروں کے لیے عبرتناک شکست کا پیغام لے کر آیا ہے تو اس کی یقیناًکچھ وجوہات اور اسباب و علل ہونگے۔ برسرِ زمین حقائق کو سامنے رکھ کر ان اسباب و علل کا جائزہ لیتے ہیں لیکن پہلے ان انتخابی نتائج کے بارے میں بعض قومی حلقوں کے شکوک و شبہات اور تحفظات کا حوالہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ انتخابی نتائج کے اعلان میں غیر ضروری تاخیر اور کچھ دوسرے شواہد کی بنا پر ان انتخابی نتائج کے بارے میں مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل، عوامی نیشنل پارٹی ، پاک سر زمین پارٹی اور بعض دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں کے جو تحفظات اور شکوک و شبہات سامنے آئے ہیں اور انہیں دھاندلی کا نتیجہ یا تبدیل شدہ نتائج کہا جا رہا ہے تو اس امر کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن میرے خیال میں راولپنڈی اسلام آباد کے انتخابی نتائج کے بارے میں اس طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار یا ان کے بارے میں یہ کہنا کہ کوئی دھاندلی ہوئی ہے شاید درست نہیں ہو گا۔ مری کہوٹہ پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقہ NA-57 جہاں سے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ ن کے اُمید وار تھے وہاں کے انتخابی نتائج کے بارے میں کچھ ابہام ضرور موجود ہے ورنہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے باقی 8 حلقوں اور راولپنڈی کے صوبائی اسمبلی کے 15 حلقوں کے انتخابی نتائج اتنے ظاہر باہر ہیں اور جیتنے اور ہارنے والے اُمیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں کے درمیان فرق اتنا واضح ہے کہ اُس کو سامنے رکھ کر یہ نہیں کہا جاسکتا کے ایسا کچھ کسی دھاندلی کا نتیجہ یا انتخابی نتائج تحریف شدہ ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پولنگ ڈے 25 جولائی سے قبل کچھ ایسی فضا بن گئی تھی یا بنا دی گئی تھی اور 25 جولائی کی صبح پولنگ کے آغاز پر اس کا واضح اظہار سامنے آنا شروع ہو گیا تھا کہ انتخابی نتائج کا پلڑا شیر کی طرف جھکنے کی بجائے بلے کی طرف جھکنے والا ہے ۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے 24 جولائی کو ’’نئی بات ‘‘ میں چھپنے والے اپنے کالم میں بعض عوامل کی بنا پر تحریکِ انصاف کے مقابلے مسلم لیگ ن کی برتری کی توثیق اور تائید کی تھی لیکن یہ کالم 21 جولائی کو لکھا گیا اور دو تین دن کی تاخیر سے چھپ سکا اس دوران یقیناًصورتحال میں نمایاں تبدیلی آنا شروع ہوئی اور تحریکِ انصاف کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے کئی عوامل میدانِ عمل میں اپنا دائرہ اثر پھیلا چکے تھے جن کا نتیجہ تحریکِ انصاف کی کامیابی اور مسلم لیگ ن کی بعض حلقوں سے ناکامی کی صورت میں سامنے آنا تھا جو سامنے آ کر رہا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس حوالے سے مزید شواہد اور حقائق سامنے آتے رہیں گے فی الحال اسلام آباد راولپنڈی کے انتخابی نتائج کو سامنے رکھ کر صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔
اسلام آباد کے تینوں حلقوں NA-52 ، NA-53 اور NA-54 سے تحریک انصاف کے اُمیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔
راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے حلقوں کے انتخابی نتائج کی صورتحال بھی اسلام آباد سے ملتی جلتی ہے۔ NA-57 مری کہوٹہ سے تحریک انصاف کے صداقت عباسی کو مسلم لیگ ن کے اُمیدوار اور سابقہ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے 116198 ووٹوں کے مقابلے میں 126940 ووٹ لے کر برتری حاصل رہی۔ ان انتخابی نتائج کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور یہاں سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا گیا ہے۔ NA-58گوجر خان سے پیپلز پارٹی کے اُمیدوار سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف 125090 ووٹ لے کر کامیاب رہے ہیں یہاں سے تحریکِ انصاف کے چوہدری عظیم نے 96574 ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن کے راجہ جاوید اخلاص بہت پیچھے چلے گئے اور انہوں نے تیسری پوزیشن حاصل کی ۔ NA-59 اور NA-63 دونوں حلقوں سے تحریک انصاف کے سرور خان نے علی الترتیب 89055 اور 102267ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ان کے مدِ مقابل سابقہ وزیرِ داخلہ اور آزاد اُمیدوار چوہدری نثار علی خان NA-59 سے 66369 اور NA-63 سے بھی تقریباً اتنے ہی 66610 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ NA-59 سے مسلم لیگ ن کے راجہ قمر الاسلام کو جو نیب کی حراست میں ہیں 21754 ووٹ ملے جبکہ NA-63 سے مسلم لیگ ن کے سردار ممتاز بھی تقریباً اتنے ہی ووٹ لے کر تیسری پوزیشن پر رہے۔ NA-60 پر مسلم لیگ ن کے حنیف عباسی کو ایفی ڈرین کیس میں انسدادِ منشیات عدالت کی طرف سے سزا ملنے کی وجہ سے انتخابات ملتوی کر دئیے گئے۔ NA-61 سے تحریک انصاف کے عامر کیانی 105000 ووٹ لے کر کامیاب رہے یہاں سے مسلم لیگ ن کے ملک ابرار احمد 60125 ووٹ ہی لے سکے۔ NA-60 جہاں بڑا سخت مقابلہ تھا یہاں سے عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد جنہیں تحریکِ انصاف کی حمایت بھی حاصل تھی کو معروف مسلم لیگی رہنما سینیٹر چوہدری تنویر خان کے جواں سال صاحبزادے بیرسٹر دانیال چوہدری کا سامنا تھا۔ شیخ رشید احمد یہاں سے 117719ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ دانیال چوہدری نے 99312 ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی ۔ دانیال چوہدری اور اُ ن کی انتخابی ٹیم یقیناًتحسین کی مستحق ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں میں دانیال چوہدری نے سب سے زیادہ ووٹ لیے۔
راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے ان چھ حلقوں کے نتائج ایک ہی کہانی بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ پنڈی کے عوام نے ماضی کے برعکس اس بار مسلم لیگ ن کی سب سے بڑی مخالف جماعت تحریک انصاف کے اُمیدواروں کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالا ہے۔ سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کی اپنے آبائی حلقے NA-57 سے کامیابی یقینی سمجھی جا رہی تھی ۔ اسی طرح NA-59 کے بارے میں عام گمان یہی تھا کہ یہاں سے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے والے سابق وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان سرور خان کو شکست دینے میں کامیاب رہیں گے لیکن انہیں NA-59 اور NA-63 دونوں حلقوں سے سرور خان کے مقابلے میں علی الترتیب 22766 اور 35657 ووٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ چوہدری نثار علی خان سے اس سے قبل ماضی میں لگا تار 8 بار قومی اسمبلی کا انتخاب جیت چکے ہیں اور سرور خان کو بھی کئی بار ہرانے میں کامیاب رہے ہیں لیکن اس بار مسلم لیگ ن کی چھتری جب اُ ن کے سر سے ہٹ گئی تو وہ دونوں حلقوں NA-59 اور NA-63 سے ایک جیسے ووٹ لے سکے جنہیں اُ ن کا ذاتی ووٹ بینک بھی کہا جاسکتا ہے۔ وہ مسلم لیگ ن کے نظریاتی کارکنوں کے ووٹوں سے ہی محروم نہیں رہے بلکہ مسلم لیگ ن نے اُ ن کی شکست میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔
راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے نتائج کا یہ جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے اُمیدوار بہر کیف تحریکِ انصاف کے اُمیدواروں کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ماضی میں انہی اُمیدواروں کی اکثریت انتخابات میں حصہ لیتی رہی ہے اور کامیابی بھی حاصل کرتی رہی ہے ۔ لیکن یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ انہیں ماضی میں اپنی پارٹی کے ووٹ بینک کے ساتھ اپنی پارٹی کے قومی سطح کے لیڈر چوہدری نثار علی خان کی سرپرستی یا تائید و حمایت بھی حاصل ہوتی تھی۔ اس بار وہ اس سرپرستی یا تائید و حمایت یا اسے کچھ بھی نام دیا جائے سے محروم ہوئے تو وہ اُس کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے جو ماضی میں اُ ن کا خاصا تھی۔ بات ہے ذرا تلخ لیکن حقیقت ہے اور اسے یکسر رد نہیں کیا جاسکتا کہ اسلام آباد راولپنڈی بالخصوص راولپنڈی سے ایک دو استثنیٰ کو چھوڑ کر مسلم لیگ ن کے انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کے بارے میں یہ عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ اپنے ذاتی مفاد کو پارٹی مفاد پر فوقیت دینے والے یہ نمائندگان اپنی محدود سوچ اور ویژن اور کم تر سطح کی ذہنی ، فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کی بنا پر زیادہ سے زیادہ بلدیاتی سطح کی سیاست کے تقاضوں کو تو پورا کر سکتے ہیں لیکن آزادانہ طور پر قومی سطح کی سیاست کے تقاضوں کو پورا کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ مسلم لیگ ن کی راولپنڈی اور اسلام آباد شکست میں یقیناًاس امر کا گہرا عمل دخل ہے۔ جہاں تک راولپنڈی کے صوبائی حلقوں کے نتائج کا تعلق ہے کل 15 حلقوں میں سے 13 حلقوں میں تحریکِ انصاف کے اُمیدوار اور دو حلقوں سے آزاد اُمیدوار جن میں چوہدری نثار علی خان بھی شامل ہیں کامیاب رہے۔ مسلم لیگ ن کو تمام 15 کے 15 حلقوں سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی ناکامی کی وجوہات بھی وہی سمجھی جا سکتی ہیں جن کا تذکرہ اوپر ہو چکا ہے۔


مزیدخبریں