اپوزیشن :پانچ سال انتظار کرے
05 اگست 2018 2018-08-05



مولانا فضل الرحمن مروجہ سیاست میں ایک طاق شخصیت ہیں ۔20 برس بعد وہ پاور پالیٹکس تو کیا قومی اسمبلی کے ایوان میں بھی پہنچنے میں ناکام رہے۔ دو دو نشستوں پر کھڑے ہوئے اور دونوں نشستوں میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ وہ بینظیر کے دوسرے دور حکومت سے اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے ۔ اب جب وہ دونوں نشستوں سے ہار چکے ہیں تو’’ میں نہیں تو کوئی نہیں‘‘ کے احساسِ بے جا میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ان دنوں ان کا وہی حال ہے جو پانی کے بغیر مچھلی کا ہوتی ہے۔ وہ ماہی بے آب کی طرح مضطرب اور کباب سیخ کی طرح بے قرار ہیں۔ ایک خبر کے مطابق وہ دل کے عارضے میں بھی مبتلا ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود پیر کووہ پشاور کے دورے پر روانہ ہوئے ، جہاں وہ حالیہ انتخابات میں شکست خوردہ امیداروں اسفند یار ولی خان، حیات محمد شیر پاؤ اور حاجی غلام محمد بلور اور جماعت اسلامی کے سراج الحق سے رابطے کر کے انہیں احتجاجی اور اشتعالی سیاست کے لیے اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بد قسمتی سے یہ سب لیڈر ضعیف العمر ہیں۔ نہ مارچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئیک مارچ۔۔۔ سب مختلف بیماریوں اور عارضوں میں مبتلا ہیں لیکن سیاست وہ شراب ہے کہ چھٹتی نہیں منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ ان سب نے کبھی سو چا بھی نہ تھا کہ صوبہ کے پی کے ان کے ہاتھ سے یوں نکل جائے گا ۔ مولانا اے پی سی کے2 اجلاس بلاچکے ہیں۔ ہر اجلاس کے اعلامیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ ن لیگ سمیت تمام جماعتوں کو حیران کن اور ان کے نزدیک پریشان کن شکست ہوئی ہے اور عوام نے انہیں مسترد کردیا ہے کہ اس لیے یہ انتخابات دھاندلی زدہ ہیں۔ لہٰذا دوبارہ عام انتخابات کرائے جائیں، تمام حلقے کھولے جائیں اور انہیں جس طرح بھی بن پڑے ، کامیاب کرایا جائے اور اقتدار رکابی میں رکھ کر ان کے ہینڈ اوور کر دیا جائے تاکہ مولانا فضل الرحمن کشمیر کمیٹی کی چیئر مینی کی ہیٹرک کر سکیں۔ ان کی بلائی ہوئی اے پی سیز میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل، اے این پی، پشتونخوا میپ، قومی وطن پارٹی کے رہنما شریک ہو چکے جبکہ انہوں نے ایم کیو ایم، پاک سرزمین پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)کو بھی مدعو کیا ۔ دوسری اے پی سی میں قومی اسمبلی میں وزیراعظم، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے متفقہ امیدواروں کے نام فائنل کر لیے گئے۔ اے پی سی میں وزیراعظم کی حلف برداری اور احتجاج کی حکمت عملی بھی طے کی جاچکی جبکہ الیکشن کے مبینہ دھاندلی کے خلاف وائٹ پیپر کی تیاری کے لئے کمیٹی بھی تشکیل پاچکی ہے۔یہ رہنما تو چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا بھی مطالبہ کر چکے ہیں۔ اسے کہتے ہیں انو کھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند رے۔۔۔ جبکہ بعض ستم ظریفوں کا کہنا ہے کہ کھسیانی بلیاں کھمبے نوچ رہی ہیں۔
عالم یہ ہے کہ تھک ہار اور مایوس ہوکر مسلم لیگ (ن) کی قیادت بھی پنجاب میں حکومت سازی کی تمام تر کوششوں کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھنے کے دوسری آپشن پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ سچ تو یہ کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے چند دنوں تک تمام امیدیں نہیں توڑیں لیکن اب انہیں محسوس ہوچکا ہے کہ حالات پی ٹی آئی کی حمایت میں ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) پہلی مرتبہ پنجاب میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ انہیں خوش فہمی ہے کہ پنجاب میں شہباز شریف کی خدمات کے باعث پی ٹی آئی کو بہتر طریقے سے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں نومنتخب 20 ارکان کی غیرحاضری سے بہت کچھ پتہ چل رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی کامیابی کا مسلم لیگ (ن) کیسے مقابلہ کرے گی۔
ادھرالیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا گرینڈ اپوزیشن کا مطالبہ بیک جنبش لب مسترد کردیا ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد کا کہنا ہے کہ ’صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے بارے میں بغیر کسی ثبوت کے اس طرح کے بیانات افسوسناک اور حقائق کے منافی ہیں، پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کا بغیر کسی جواز اور ذاتی مفاد کی بنیاد پر احترام نہ کرنا جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، پورے ملک سے الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے اب تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، انتخابات کے دوران عوام نے آزادانہ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، الیکشن کمیشن تمام امیدواروں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے انتخابی نتائج کو نہ صرف تسلیم کریں بلکہ جمہوری عمل کے تسلسل کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں، الیکشن نتائج میں تاخیر پر تمام صوبائی الیکشن کمشنرز‘ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران سے وضاحت طلب کرلی گئی ہے۔ چند روز قبل الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر اے پی سی میں شامل چند سیاسی رہنماؤں کی جانب سے جاری کردہ غیر ذمہ دارانہ بیانات کہ چیف الیکشن کمشنر کو مستعفی ہوجانا چاہئے پر الیکشن کمیشن نے افسوس کا اظہار کیا اور اس مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایسے بیانات کی سختی سے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ صاف شفاف اور غیرجانبدار انتخابات کے بارے میں بغیر کسی ثبوت کے اس طرح کے بیانات افسوسناک اور حقائق کے منافی ہیں۔ انتخابات کے دوران عوام نے آزادانہ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، پورے ملک سے الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے اب تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی،پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کا بغیر کسی جواز اور ذاتی مفاد کی بنیاد پر احترام نہ کرنا جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، اگر کسی امیدوار کو کسی بھی حلقہ یا پولنگ سٹیشن کے حوالے سے کوئی شکایت ہے تو اس کے ازالے کے لئے قانون کے مطابق راستہ اختیار کریں، عام انتخابات کی شفافیت اور اس کے آزادانہ‘ منصفانہ‘ غیر جانبدارنہ انعقاد کو جانچنے کے لئے تیس ہزار مبصرین نے انتخابات کا مشاہدہ کیا، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل میں لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کے لئے متعدد ہدایات جاری کیں اور اپنے اختیارات کا بھی استعمال کیا، مسلم لیگ (ن) کی درخواست پر نیب سے درخواست کی گئی کہ انتخابی امیدواروں کو انتخابات کے انعقاد تک لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کیا جائے، این اے 60 میں (ن) لیگ کے ایک امیدوار کو عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے اس حلقے میں انتخابات کو معطل کردیا تاکہ کوئی جماعت انتخابی عمل میں شمولیت سے باہر نہ رہے، الیکشن کمیشن نے اہم سیاسی شخصیات کے قافلوں کو روکے جانے کے عمل کا بھی نوٹس لیا اور انکوائری کا حکم دیا، ملکی تاریخ میں پہلی بار 85 ہزار سے زائد پولنگ سٹیشنوں کا سروے کرائے جانے کے بعد وہاں صوبائی حکومتوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہدایات جاری کی گئیں، انتخابی مواد کی کمی یا اس کے معیار کے بارے میں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، تقریباً آٹھ لاکھ انتخابی عملے کو جامع تربیت دی گئی، عام انتخابات کے پرامن انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن کو افواج پاکستان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مکمل تعاون حاصل رہا، پولنگ کے دن شکایات کے ازالے کیلئے الیکشن کمیشن کے سیکرٹریٹ اور صوبائی الیکشن کمشن کے دفاتر میں خصوصی شکایات سیل بنائے گئے جو چوبیس گھنٹے کام کرتے رہے جہاں پر 674 شکایات موصول ہوئیں جن کا فوری ازالہ کیا گیا‘۔
عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ شکست خوردہ جماعتیں جن میں مسلم لیگ (ن) بھی شامل ہے، کس منہ سے تمام حلقے کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ عمران خان نے جب صرف 4 حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا تو (ن) لیگی قیادت اور اس کے اتحادیوں محمد خان اچکزئی، فضل الرحمن ، غوث بخش بزنجو وغیرہ وغیرہ نے اس مطالبے کو انتہائی جارحانہ انداز میں مسترد کر دیا تھا۔ باقی رہی بات دھرنے دینے، جلوس نکالنے یا جلسے کرنے کی تو واضح رہے کہ یہ جماعتیں انتخابات کی طرح ان محاذوں پر بھی ناکام رہیں گی کیونکہ ان کے پاس وہ کارکن نہیں ہیں جو عمران خان کے پاس تھے جنہوں نے تمام تر ریاستی جبر، تشدد اور رکاوٹوں کے باوجود جب چاہا دھرنا دیا اور اسے جتنا طول دینا چاہا طول دیا۔گرینڈ اپوزیشن کے تلوں میں وہ تیل نہیں جو احتجاجی سیاست کا دیا روشن کر سکے۔ میری رائے ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو پانچ سال انتظار کرنا چاہیے اور جس طرح پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو اس کا آئینی دورانیہ پورا کرنے کا موقع دیا گیا تھا ، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جو کروڑوں عوام کے دل کی دھڑکن ہیں اور جنہیں ووٹرزپاکستان کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں انہیں کام کرنے دیا جائے تا کہ پاکستان نئے روشن دور میں داخل ہو سکے۔



ای پیپر