’’میڈم ٹپ ٹپ، عید کی آمد اور شادی کی فرمائش ۔۔۔؟‘‘
05 اگست 2018 2018-08-05



میں ہر سال عید پر ’’پاگل خانے‘‘ جاتا ہوں ۔۔۔!
آپ کو حیران ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ میرا دوست ڈاکٹر گلزار سائیکاٹری کے شعبہ میں ہے اور طویل عرصہ پاگل خانے کے وارڈوں کا انچارج بھی رہا ہے۔ ہماری دوستی کا تقاضہ ہے جہاں وہ ۔۔۔ وہاں میں ۔۔۔!
’’اوئے ڈاکٹر ۔۔۔ تو نے کہا تھا میں تیری صائمہ سے شادی کروں گا‘‘ ۔۔۔؟!؟
اووف ۔۔۔ اللہ ۔۔۔ مجھے یاد آ گیا ۔۔۔ میں جب سال پہلے عید پر پاگل خانے آیا تھا تو اس پاگل نے واقعی (یا اس سے ملتے جلتے) مجھے یہ فرمائش کی تھی ۔۔۔ یہ یاد نہیں کہ میں نے شادی یا رشتہ یا ۔۔۔ کروانے کی حامی بھری تھی یا نہیں؟ ۔۔۔
ڈاکٹر گلزار ۔۔۔ یہ کیسے پاگل ہو سکتا ہے ۔۔۔ جسے سال پہلے ہوا وعدہ یا Commitment یاد رہی ۔۔۔ اور پھر اُس نے مجھے ہی یہ کیوں یاد دلایا ۔۔۔ آپ کو یا کسی دوسرے کو کیوں نہیں اس پاگل نے گلہ کیا ۔۔۔ یا شکوہ کرتے ہوئے درخواست گزاری یا تو یہ پاگل ۔۔۔ پاگل نہیں ہے ۔۔۔ یا پھر یہ فراڈ ہے یا کم از کم یہ پاگل قابل علاج تو ضرور ہے ۔۔۔؟
ڈاکٹر گلزار ہنس دیا ۔۔۔ وہ ’’ ٹپ ٹپ ‘‘ کرتی عورت یاد ہے ۔۔۔؟
’’ہاں ہاں‘‘ ڈاکٹر وہ جو میو ہسپتال میں آئی تھی جس پر ہم نے شرط بھی لگا لی تھی ۔۔۔ اور ہار بھی گیا تھا ۔۔۔ ’’Yes‘‘ ڈاکٹر بولا ۔۔۔
ہم ایسے ہی آوٹ ڈور میں بیٹھے تھے کہ ایک عورت آتی دکھائی دی نہایت خوبصورت، فل میک اپ، اور دور سے ’’ ٹپ ٹپ ‘‘ کی آواز بھی اُس کے حلیے سے آ رہی تھی ۔۔۔ میں نے اُس کا نام ’’ میڈم ٹپ ٹپ ‘‘ رکھ دیا ۔۔۔ اُس وقت میری شادی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ اس قدر خوبصورت اور نہایت سمارٹ حسین عورت دیکھ کر میں نے ڈاکٹر گلزار سے کہا ۔۔۔ ’’ڈاکٹر جیسا کہ تم اور پھر میرے دوستوں کے ساتھ ساتھ گھر والے بھی میرے لیے رشتہ تلاش کر رہے ہیں ۔۔۔ کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ تم لوگ اس خوبصورت عورت سے میری شادی کی بات کرو ۔۔۔!؟
’’اووف‘‘ ۔۔۔ جاہل شخص یہ عورت تو پاگل ہے ۔۔۔ اور تمہارے سمیت گھر میں پھر ڈیڑھ پاگل ہو جائے گا اور ویسے ایک دو ماہ میں یہ تمہیں بھی پورا پاگل تو بنا ڈالے گی؟ ۔۔۔ ’’نہیں ڈاکٹر ۔۔۔ ڈئیر ۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے میڈم ٹپ ٹپ ۔۔۔ پاگل ہو۔۔۔ مریض ہو‘‘ ۔۔۔؟ کسی کے عشق میں پاگل ہو سکتی ہے؟ ۔۔۔ ’’لگا شرط‘‘ ۔۔۔ ڈاکٹر نے ہاتھ پہ ہاتھ مارا اور ۔۔۔ Done۔۔۔
وہ عورت ادھر اُدھر گھومتی رہی اور مسحور کن ’’ ٹپ ٹپ ‘‘ کی آواز لگاتار ہسپتال کے کھلے ماحول میں صاف سنائی دیتی رہی۔۔۔
اس دوران وہ ڈاکٹر گلزار کا پوچھتے پچھاتے ہمارے ہی آفس میں آ گئی ۔۔۔ میں ادب سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔
ادا کار ۔۔۔ محمد علی ؟ ۔۔۔ آپ اداکار محمد علی ہیں ناں؟ ۔۔۔ اُس نے مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
میڈم جی ۔۔۔ میں تو پانچ فٹ پانچ انچ کا بندہ ہوں اور ہمارے پیارے اداکار محمد علی صاحب تو لمبی ہائٹ کے خوبصورت انسان ہیں ۔۔۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہو گئی ۔۔۔؟
’’اوہ سوری‘‘ ۔۔۔ ڈاکٹر امجد پرویز ۔۔۔؟!
ہاں ۔۔۔ البتہ یہ بات آپ نے میڈم ٹپ ٹپ صاحبہ ٹھیک کہی ۔۔۔ آپ نے کیا کہا ۔۔۔ یہ ’’ میڈم ٹپ ٹپ ‘‘ آپ نے کیسے کہا ۔۔۔؟ وہ سنجیدہ ہو گئی ۔۔۔؟!آپ نے میری چپل کا مذاق اڑایا ۔۔۔؟ جاہل ۔۔۔ وہ شخص عرف ڈاکٹر امجد پرویز (میں آج تک نہیں سمجھ پایا کہ ڈاکٹر امجد پرویز اور مجھ میں کیا مماثلت ہے؟) ۔۔۔
اس سے پہلے کے معاملہ ہاتھ سے نکل کر پورے ہسپتال میں گھوم جاتا میں نے ڈاکٹر کے سامنے رکھی ٹھنڈی بوتل میڈم ٹپ ٹپ کو پیش کی اور میڈم نے ایک ہی سانس میں ساری بوتل چڑھائی غٹا غٹ ۔۔۔؟
پھر اچانک ڈاکٹر کے سامنے اپنا بڑا سا موبائل فون رکھا اور خوفزدہ انداز میں بولی ۔۔۔ ڈاکٹر ۔۔۔ یہ دیکھ مجھے زمین سے آوازیں آ رہی ہیں یہ ایک ساتھ سینکڑوں لوگ آپس میں باتیں کر رہے ہیں شور مچا رہے ہیں ۔۔۔ اس شور سے میرا سر گھبرانے لگتا ہے ۔۔۔ ان کو سمجھاؤ ۔۔۔ روکو ۔۔۔ ڈاکٹر روکو ۔۔۔؟ وہ چیخنے لگی شور مچانے لگی ۔۔۔
میں افسردہ ہو گیا ۔۔۔ گھبرا سا گیا ۔۔۔ یہ کیسے امراض ہیں سائنس ایٹم بم، ہائیڈروجن بم اور لاکھوں انسانوں کی ہلاکتوں کے لیے بم بنانے والوں کی راہنماء بنی ہوئی ہے ۔۔۔ سائنس انسانوں کو مار ڈالنے کا قبیح خواب دیکھنے والوں کی ممد و معاون ثابت ہو چکی ہے ۔۔۔ یہ جو لاکھوں زندہ لاشیں گلی محلے اور ان کی کہیں زیادہ تعداد بند گھروں میں چھپی بیٹھی ہے۔ سائنس اُن کے لیے کیوں کچھ نہیں کر پا رہی ہے ۔۔۔؟ گاڑی بیچ سڑک بند ہو جائے کمپیوٹر سسٹم ڈسٹرب ہو گیا ہے ۔۔۔ ایک پڑھا لکھا بابو سامنے کمپیوٹر پر بیٹھ کے اُس کے سسٹم میں دو کو چار کی جگہ زیرو کی جگہ تین لگاتا ہے تو سب کچھ ’’اِن آرڈر‘‘ ہو جاتا ہے ۔۔۔ گاڑی پھر سے فراٹے بھرنے لگتی ہے ۔۔۔؟ کمپیوٹر Error نے سسٹم جام کر دیا تھا ۔۔۔
’’Now its OK‘‘ کہاں کمپیوٹر کروڑوں سے 2 ارب لوگوں کو آپس میں جوڑنے کا باعث بن چکا ہے ۔۔۔ کیا شوگر، بلڈ پریشر اور ذہنی امراض کے شکار دو تین ارب لوگوں (آپ پلیز یہاں عرب نہ سمجھ لینا؟) کو ہندسوں کے چکر سے تندرست نہیں کر سکتا کیا ۔۔۔ کمپیوٹر نریندر مودی کو نہیں سمجھا سکتا کہ انسان گائے سے زیادہ قیمتی ہے؟ تم اپنے کمپیوٹر میں گائے کی جگہ انسان کو جگہ دے دو؟ ۔۔۔ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ ہیں جو ’’قابل علاج‘‘ ہیں ۔۔۔ جو ہمارے ساتھ بیٹھ کے کام کرتے ہیں ۔۔۔ جو سڑک پر دو سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑیاں چلا رہے ہیں ۔۔۔ کہیں کہیں وہ حکومتیں بھی چلا رہے ہیں ۔۔۔ کہیں کہیں وہ لاکھوں کے مجمع کو خطاب بھی کر رہے ہیں لیکن ۔۔۔ ہیلتھ سائنس اِنھیں پاگل گردانتی ہے؟ ۔۔۔
اگر ہم دنیا میں امن چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہر سال ہر فرد کا جنوری میں پہلی تاریخ کو میڈیکل چیک اپ کرایا جائے ۔۔۔ جو تھوڑے سے علاج سے ’’رفو‘‘ ہو سکتے ہیں اُن کو محبت سے سمجھایا جائے ۔۔۔ جو ناقابل علاج ہیں اُن کے گھر والوں کو بتا کے ریاست اپنی ذمہ داری پوری کر لے اور عوام کو اُن کے شر سے بچا لے ۔۔۔
ایک پاگل صحافی کروڑوں لوگوں کو غلط خبر سنا کر پریشان کر سکتا ہے ۔۔۔ ایک پاگل راہنماء قوم کی الٹی سمیت راہنمائی کر کے پوری قوم کے بگاڑ کا باعث بن سکتا ہے ۔۔۔ ایک پاگل سائنس دان کروڑوں اربوں لوگوں کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل سکتا ہے اور ایک اکیلا مودی ۔۔۔ گائے کے چکر میں انسانوں کو سوچنے پر مجبور کر سکتا ہے کہ ’’عقل بڑی کے گائے‘‘ ۔۔۔؟! میں ہر سال عید پر اپنے نفس کا تجزیہ کرنے ’’پاگل خانے‘‘ پھل، مٹھائی لے کر جاتا ہوں پاگل مجھے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔۔۔ اور آپس میں کھسر پھسر کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔۔۔
’’یہ پاگل پھر سے آ گیا ۔۔۔ ہر عید پر آتا ہے تا کہ ہم اُسے دیکھ کر تالیاں بجائیں کیونکہ ہم عید پر چڑیا گھر جا کر جو اسے نہیں دیکھ سکتے‘‘ ۔۔۔؟!




ای پیپر