35-Aاور مظلوم کشمیریوں کی پاکستان سے توقعات
05 اگست 2018 2018-08-05



بھارت سرکار کی طرف سے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت والی دفعہ 35-Aختم کرنے کی کوششوں کیخلاف آج6اگست کو مکمل ہڑتال کی جائے گی اور پورے کشمیر میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ اس سلسلہ میں کشمیر میں احتجاجی مہم عوامی سطح پر زبردست عروج پر ہے اور حریت کانفرنس سمیت تمام کشمیری جماعتوں، وکلاء، تاجروں، طلباء ، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی جانب سے اس احتجاجی تحریک کی حمایت کی جارہی ہے۔ بھارت میں برسراقتدار آنے والی مختلف حکومتوں نے ماضی میں دفعہ35-Aختم کرنے کیلئے بہت کوششیں کیں لیکن پوری کشمیری قوم نے اس معاملہ میں اتحادویکجہتی کا مظاہرہ کیا اور عوامی سطح پر شدید مزاحمت دیکھ کر بھارتی حکمرانوں کو ہمیشہ دفاعی رویہ اختیار کرنا پڑا جس پر یہ سازشیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ اب ایک مرتبہ پھر جب بی جے پی سرکار نے کشمیر میں گورنر راج نافذ کر دیا ہے اور ریاستی دہشت گردی کے دوران کشمیریوں کی قتل و غارت گری جاری ہے‘ ہندوانتہاپسند تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ ایک تھنک ٹینک نے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں دفعہ 35-Aختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جب سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بی جے پی سے اتحاد کر کے ریاست میں حکومت بنائی تو دونوں کے مابین معاہدہ طے پایا تھا کہ بی جے پی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت والی دفعہ 370کے تحت کشمیر کو دیے گئے اختیارات کو موضوع نہیں بنائے گی لہٰذا گزشتہ تین برسوں میں چانکیائی سیاست پر عمل پیرا بی جے پی نے مذکورہ دفعہ ختم کرنے کی بات تو نہیں کی لیکن دفعہ 35-Aختم کرنے کیلئے چور دروازے سے آر ایس ایس کے تھنک ٹینک سے رٹ پٹیشن دائر کروادی گئی جس کی سماعت آج ہو رہی ہے اور اسی بنیاد پر حریت کانفرنس کے مرکزی قائدین، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ، تاجروں اورطلباء کی جانب سے پانچ اور چھ اگست کو ہڑتال کی کال دی گئی۔ قانونی طور پر یہ دفعہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کے تحت مقبوضہ کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کیلئے یہاں جائیداد خریدنے، ووٹ ڈالنے اور نوکری وغیرہ حاصل کرنے پر پابندی ہے لہٰذا اگر یہ دفعہ ختم ہو تی ہے تو اس کے نتائج انتہائی بھیانک ہوں گے۔ بھارت سرکار بآسانی کشمیر میں ڈیوٹی سرانجام دینے والے ریٹائرڈفوجیوں اور غیر کشمیریوں کو جنت ارضی کشمیر میں بسا سکے گا۔ سینک (فوجی) کالونیاں بنانے سے متعلق اس کا دیرینہ خواب پورا ہو گا اور انڈیا کیلئے کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا قطعی طور پر مشکل نہیں رہے گا ۔ یہ وہ خوفناک سازش ہے جس پر عمل درآمد کیلئے بھارت کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کے بعد سے عمل درآمد کی کوششیں کر رہا ہے تاہم اللہ کے فضل وکرم سے آج تک اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
بھارت میں مودی سرکار کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت والی جس دفعہ کو ختم کرنے کیلئے پوری ریاستی مشینری استعمال کی جارہی ہے اور اب عدلیہ کو استعمال کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے اس طرح کی مختلف شقیں ناگالینڈ، میزورام، اروناچل پردیش، سکم، آسام، منی پور، گوا اور آندھرا پردیش سمیت دیگر ریاستوں میں بھی نافذ ہیں جس کے ذریعہ مذکورہ ریاستوں کو منفرد حیثیت حاصل ہے۔ وہاں بھی ریاستی قوانین کے مطابق دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے جائیداد خریدنے پر پابندی عائد ہے یا اس کیلئے خاص طور پر اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا ہے لیکن کشمیر میں مسئلہ چونکہ مسلمانوں کا ہے اور بھارت سرکار اپنے غاصبانہ قبضہ کو طول دینے، کشمیر کی مسلم حیثیت وشناخت ختم کرنے اور وہاں مسلمانوں کے مقابلہ میں ہندوؤں کی آبادی کا تناسب بڑھانا چاہتا ہے اس لئے بھارت سرکار کو دیگر ریاستوں میں نافذ اس قسم کے قوانین نظر نہیں آتے اور آئے دن مقبوضہ کشمیر میں اس ایشو کو چھیڑ کر فساد برپا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ اس مرتبہ بی جے پی سرکار نے نیا حربہ اختیا رکیا ہے۔ وہ بظاہر خود سامنے نہیں آرہی اور آر ایس ایس کے تھنک ٹینک سے رٹ پٹیشن دائر کرواکے اسے فرنٹ لائن پر رکھا گیا ہے تاکہ اگر انہیں بھارتی سپریم کورٹ سے بی جے پی سرکار کی پسند اور مرضی کے مطابق فیصلہ کروانے میں کامیابی ہوتی ہے تو وہ دنیا میں اس امر کا ڈھنڈورا پیٹ سکتے ہیں کہ یہ فیصلہ تو ہندوستانی سپریم کورٹ نے کیا ہے اس لئے وہ عدالت کے اس فیصلہ پر عمل درآمد کی پابند ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ وہ لاکھوں ہندوستانی فوجی جو کشمیر میں ڈیوٹی کرتے رہے ہیں ان کیلئے سری نگر سمیت دیگر علاقوں میں کالونیاں بنا کر آباد کر دیا جائے تاکہ ایک تو مسلمانوں کے مقابلہ میں ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہو اور دوسرا جب لاکھوں فوجی مزید یہاں آباد ہو جائیں گے تو عوامی سطح پر تحریک آزادی کچلنا آسان ہو جائے گا۔ اس سوچ اور فکر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سارا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے ان دنوں یہ پروپیگنڈا بہت زیادہ کیا جارہا ہے کہ کشمیر کی ترقی میں دفعہ 35-Aبہت بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ بھارت کے دیگر علاقوں سے لوگ یہاں آکر آباد نہیں ہو سکتے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں ہوتی اور ترقی کا عمل رکا ہوا ہے لیکن یہ سارا پروپیگنڈہ جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جس طرح مقبوضہ جموں میں ہندوؤں کو بہت بڑی تعداد میں لاکر بسایا گیا وہی کھیل اب وادی کشمیر میں بھی کھیلنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ بی جے پی کے حالیہ دور حکومت میں یہ سلسلہ اس لئے بھی تیز ہو گیا ہے کہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنااور اس خطہ میں مسلمانوں کی بجائے ہندوؤں کی آبادی بڑھانا ہندو انتہا پسند تنظیموں کا دیرینہ خواب رہا ہے ۔ اسی لئے سبھی انتہاپسند دفعہ 35-Aختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب پورے کشمیر میں ایک ہیجان کی کیفیت ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کی خبریں میڈیا پر آنے کے ساتھ ہی حریت کانفرنس کے مرکزی قائدین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد یٰسین ملک، شبیر احمد شاہ، محمد اشرف صحرائی، سیہ آسیہ اندرابی اور دیگر قائدین نے دوروزہ ہڑتال اور احتجاج کی کال دے دی تھی اور جموں کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور تنظیموں نے اس احتجاجی تحریک کی ناصرف حمایت بلکہ بھرپور انداز میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ دفعہ 35-Aجسے ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں درحقیقت بھارتی آئین کی دفعہ 370کی ہی توسیع اور توضیح ہے۔ سٹیٹ سبجیکٹ کا یہ قانون جموں کشمیر میں 1927سے نافذ ہے جبکہ 35-Aجموں کشمیر میں 1954میں نافذ کی گئی تھی۔کشمیری قوم ریاست کی خصوصی حیثیت والی دفعہ کو اپنے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ شق ختم کی گئی تو اس سے کشمیر میں بھی مقبوضہ فلسطین جیسی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ جموں کشمیر کے عوام سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ چونکہ براہ راست ان کے حق خودارادیت سے جڑا ہوا ہے اس لئے وہ جرأتمندی اور اتحادویکجہتی کے ساتھ اسے ناکام بنانے کیلئے پوری طرح متحد و بیدار ہیں۔ حریت قیاد ت نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگردفعہ 35-A ختم کی گئی تو مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنی سرزمین اور منفرد شناخت کے تحفظ کیلئے اپنا لہو بہانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے اور پورے کشمیر میں ایسی مضبوط تحریک کھڑی ہو گی کہ جسے روکنا بھارت کے بس میں نہیں رہے گا۔ کشمیر میں جدوجہد آزادی اس وقت پورے عروج پر ہے۔ مظلوم کشمیری پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے قربانیاں پیش کرنے سے گریز نہیں کر رہے ۔ رواں ماہ پاکستان میں عمران خان کی قیاد ت میں نئی حکومت قائم ہو رہی ہے۔ کشمیری قوم کی ان سے بہت توقعات وابستہ ہیں۔ حریت کانفرنس سمیت دیگر جماعتوں کی طرح کشمیر کی سکھ برادری نے بھی عمران خان کے کشمیر سے متعلق بیانئے کی تائید کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور مبارکباد دی ہے۔ کشمیرکی سکھ کمیونٹی نے دفعہ 35-Aسے بھی چھیڑ چھاڑ مسترد کرتے ہوئے بھرپور احتجاج کا اعلان کیا ہے لہٰذا عمران خان کو چاہیے کہ وہ سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کشمیریوں کے جس اعتماد کوسخت ٹھیس پہنچی تھی اسے بحال کریں‘ ان کی جدوجہد آزادی کا کھل کر ساتھ دیں اور مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 35-Aختم کرنے کی کوششوں کیخلاف بین الاقوامی سطح پر بھرپور آواز بلند کریں تاکہ تحریک آزادی کشمیر کو سبوتاژ کرنے اور کشمیریوں کو غلام بنا کر رکھنے کی سازشیں ناکام بنائی جاسکیں۔



ای پیپر