امتحان کا وقت
05 اگست 2018 2018-08-05

انتخابی عمل مکمل ہو چکا جس پر اُنگلیاں اُٹھانے والے بھی بہت ہیں خیر ہمارے ملک میں ایسے انتخابی عمل کی کوئی نظیر نہیں جسے سب نے شفاف تسلیم کر لیا ہوبلکہ ہارنے والے دھاندلی کے الزامات لگاتے ہیں اور جیتنے والے خوشی کے شادیانے بجاتے عوامی اعتماد کا مظہر قرار دیتے ہیں جس طرح دکھ کا متضاد سُکھ ہے اسی طرح الیکشن عمل کو جانبدار اور غیر جانبدار ثابت کرنے والے بھرپور دلائل دیتے ہیں اسی طرح روتے دھوتے پانچ سال بیت جاتے ہیں اور انتخاب کا نقارہ بج جاتا ہے جس کے بعد ایک بار پھر تنقید و تعریف کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے لیکن کوئی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتا اور خود احتسابی کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اِس امتحان میں سبھی ناکام ہیں۔

حالیہ انتخاب کاجو پہلو خوش کن ہے وہ قومی سوچ کا فروغ ہے لسانیت،صوبائیت اور قبائلیت کا عنصر کم ہوا ہے بلکہ مزہب کے نام پر ووٹ بٹورنے والے بھی بُری طرح شکست سے دوچار ہوئے ہیں مزہبی جماعتوں کے اتحادکو ایسی ہزمیت ہو گی کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا مگر عمران خان کی کرشماتی شخصیت نے کئی بڑے سیاستدانوں کا مستقبل تاریک کر دیا ہے ماضی میں اقتدار کے مزے لینے والی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ بالترتیب سندھ اور پنجاب تک محدود ہو کررہ گئی ہیں توجیتنے والی جماعت تحریکِ انصاف کی مقبولیت کراچی سے لیکر خیبر تک پھیل چکی ہے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ شکست سے دوچار ہوئی ہیں ظاہر ہے اگر یہ مقبول ہوتیں تو ضرور ملک کے دوسرے علاقوں سے بھی عوامی اعتماد حاصل کرتیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ عرصہ سے پیپلز پارٹی نے خود کو سندھ تک محدود کر لیا ہے مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں جیسے نعرے لگانا اور تقسیم کی تجاویز دینے والوں کی مٹی پلید کرنا ہی فرض سمجھ لیا ہے افلاس کا شکار عوام کے منہ سے بھٹو زندہ ہے کے نعرے لگوانا منشور کا درجہ دے دیا ہے اسی طرح مسلم لیگ کی قیادت نے لاہور کو ہی سب کچھ تصور کر رکھاہے جس کی بنا پر جنوبی پنجاب میں الگ صوبے کی سوچ پروان چڑھی ہے مگر ہار کر بھی جنھیں اپنی خامیوں کا جائزہ لینے کا وقت نہیں مل رہا وہ جیت کے امتحان کے بعد سبھی سے یکساں سلوک کیسے کریں گے؟

عمران خان کے امتحان کا وقت آگیا ہے اور اگلے آٹھ دس دن تک وہ عنانِ اقتدار سنبھال لیں گے اگر انھوں نے منشور پر عمل کرنے کی بجائے شہباز شریف کی طرح دوستوں پر خزانہ لُٹانا شروع کردیا تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا کہ اگلہ الیکشن وہ بُری طرح ہار جائیں گے کے پی کے کی طرح نظام میں بہتری لے آئے کرپشن کے سیلاب کے آگے بند باندھ لیا پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کر لیا انصاف میں تاخیر کا باعث بننے والے عوامل میں کمی لے آئے تو آنے والے انتخابات میں کامیابی کے مزید زینے طے کر لیں گے عمران خان کے بارے عام لوگوں کی رائے یہ ہے کیونکہ وہ موروثی سیاست پر یقین نہیں رکھتے اور اپنی اولاد کو سیاسی جانشین بنانے کے خواہشمند نہیں اِس لیے وہ کرپشن نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی ساتھی کو خزانے پر ہاتھ صاف کرنے دیں گے مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پرویز خٹک جیسے لوگ بھی پی ٹی آئی میں بکثرت ہیں جو پارٹی کو امتحان میں دیکھ کر وزارتِ اعلٰی کی لابنگ کر کے مزید مصائب بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں نیز عمران خان کے خاندان سے کوئی جانشین نہ ہونے کی بنا پر شاہ محمود قریشی جیسے لوگ پارٹی چیئرمین کی جگہ لینے کے متمنی ہیں ملکی مسائل حل کر نے کے ساتھ عمران خان کو پر ویز خٹک اور شاہ محمود قریشی جیسے عناصر پر بھی نگاہ رکھنا ہو گی وگرنہ کرپشن بھی ختم نہ ہوگی اور جماعت کی سربراہی پر بھی ڈاکہ پڑ سکتا ہے ۔

انتخابی عمل میں جانے سے قبل عمران خان نے منشور میں ایک کروڑ ملازمتیں ،پچاس لاکھ سستے گھر ،غیر سیاسی پولیس،نئے ڈیموں کی تعمیر،معیشت کی بحالی کے وعدے کیے جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کا وعدہ کیا آٹھ ہزار ارب ٹیکس اِ کٹھا کرنے کا عزم ظاہر کیاجب وہ وزیرِ اعظم کا منصب سنبھالیں گے تو اُنھیں منشور اوروعدوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا پی ٹی آئی کو اقتدار ایسے حالات میں مل رہا ہے جب قرضوں کی ادائیگی کے لیے آٹھ ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے اگر زرِ مبادلہ کے زخائر سے ادائی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ ممکن نہیں اگر لیت و لعل سے کام لیا جاتا ہے تو گروی رکھے ائرپورٹ،ریڈیو ،ٹی وی کی عمارتیں غیروں کی دسترس میں چلی جائیں گی ہم ایسے شاہ خرچ ہیں کہ موٹر وے بنا کر بھی گروی رکھ دیا ہے یہ بہت مشکل امتحان ہے ٹیکس اکٹھے کرنے کے لیے سختی کی جاتی ہے تو ملک میں مظاہرے شروع ہو سکتے ہیں افہام وتفہیم سے کام نکالنے کی کوشش اِس لیے کامیاب نہیں ہو سکتی کہ ہمارے سرمایہ کار منافع کے عادی ہو چکے ہیں وہ ٹیکس کے نام پر کچھ دینے میں حجت سے کام لیں گے نیز مسلم لیگ ن ایسے لوگوں کو حکومت کے خلاف اُکسا سکتی ہے اب نئی حکومت کا امتحان ہے کہ وہ کیسے اندرونی استحکام برقرار رکھتی ہے اور معیشت بہتر بنانے کے لیے امیروں سے کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کا بجٹ چھ ہزار ارب کے لگ بھگ ہے لیکن ٹیکس تقریباً 3361 ارب اکٹھا ہوتا ہے یہ نصف بجٹ سے کچھ زیادہ ہے بجٹ کی بقیہ رقم پوری کرنے کے لیے حکومت کو عالمی اِ داروں اور حکومتوں کے آگے دامن پھیلانا پڑتا ہے اگر نئی حکومت اپنے منشور کے مطابق گھر اور ڈیم بنانا چاہتی ہے تو اُسے ٹیکس کا دائرہ بڑھانا ہو گاملک کی بائیس کروڑ آبادی میں سے صرف اٹھارہ لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں عمران خان اگر ٹیکس دہندگان کی تعداد دو گنا کرنے میں کامیاب ہو تے ہیں تب بھی ملک کا خسارہ ختم ہو گا مگر سستے گھر اور ڈیم بنانے کے لیے مزیدپیسے کی ضرورت ہوگی جسے قرضہ لے کر پورا کیا گیا تو ملک کے بقیہ اثاثے گروی رکھنے پڑٰیں گے کیونکہ اب کوئی ملک ہمیں قرضہ دینے کے لیے آسانی سے تیار نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ادائیگی کی اسظاعت سے محروم ہوتے جارہے ہیں یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ اب امریکہ ہمارا مشکلات کا دوست نہیں رہا بلکہ آئی ایم ایف کو انتباہ کر رہا ہے کہ پاکستان کو قرض نہ دیں یاد رہے کہ پاکستان نے ابھی تک مزید قرض کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ سے رجوع ہی نہیں کیاگرے لسٹ میں پاکستان کا نام شامل کرانے میں بھی امریکی کردار ڈھکا چُھپا نہیں ایسے نامساعد حالات میں امتحان مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

انتخاب میں دیگر اسباب کی طرح جنوبی پنجاب صوبہ کا وعدہ بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کاایک سبب بناہے لیکن قومی اسمبلی ہو یا پنجاب اسمبلی نو منتخب جماعت کو کہیں بھی دو تہائی اکثریت نہیں مل سکی ظاہر ہے اُسے کسی نہ کسی جماعت کی طرف دستِ تعاون بڑھانا پڑے گا عمران خان کی بے لچک طبعیت یہ کیسے کڑوا گھونٹ پیئے گی؟ آیار حمایت کے بدلے میں ایم کیو ایم کی طرح کچھ دینے پر راضی ہوں گے ؟اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے کِن مصلحتوں کا شکار ہونا پڑے گا اور منشور کا کیا بنے گا؟ امتحان کا وقت آگیا ہے وعدوں کی بجائے اب تو کچھ ڈلیور کرنا ہوگا پی ٹی آئی کسی خلاف دھرنا بھی نہیں دے سکے گی بلکہ امتحان میں ناکامی کی صورت میں اُسے دھرنے کا سامنا ہو سکتا ہے ۔


ای پیپر