ڈیم ایسے نہیں بنتے
05 اگست 2018 2018-08-05


میں نے ہمیشہ اپنے آپ کو ترقی پسند رکھنے کی کوشش کی ہے اور اپنی سوچ کو بھی اپنے ساتھ چلانے کی تگ و دو کی۔ اس پورے عمل میں میں حتی المقدار کامیاب بھی رہا ہوں۔ میں نے منفی سے منفی حالات میں بھی مثبت پہلو نکالنے کی کوشش کی اور سمندر کی گہرائیوں میں بھی سورج کی کرنوں کو اتارنے کی کوششیں کی۔ مگر بسا اوقات ایسے پہلوؤں سے واسطہ پڑا کہ یاسیت اور فتوطیت کی امر بیل دل و دماغ کے شجر پر پھیلی گئی۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ دکھ کُرب اور حساسیت نقطہ برداشت سے آگے بڑھنے لگی۔
بقول مرزا غالب:
یوں ہی دکھ کسی کو دیا نہیں خوب رونہ کہتا
کہ میرے عدو کو یا رب ملے مری زندگانی
ملک عزیز کی تین تہائی آبادی غربت کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ ان کی حالت گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا کے مترادف ہے۔ اور یہ صورت حال پچھلی دہائیوں پر مبنی ہے۔ اس صورت حال میں کمی ہونا تو دور کی بات رہی حد درجہ اضافہ ہوا ۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جناب نواز شریف نے 1996 ء میں قرض اتارو ملک سنوارو کی مہم چلا کر اربوں روپیہ اکٹھا کیاتھا۔ قارئین میرا مقصد یہ کیچڑ دوبارہ اچھالنا نہیں ہے۔ بقول میر۔
پاس ناموس عشق تھا ورنہ
کتنے آنسو پلک تلک آئے تھے
عوام نے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی بساط سے زیادہ ارباب بست و کشاد کو خوش کیا۔ اس کے علاوہ جب کبھی بھی کوئی آفت نازل ہوئی عوام نے چشم ما روشن دل ماشاد کا کردار ادا کیا۔ ملک میں زلزلے جیسی آفت نے 2005 ء میں تباہی مچا دی مگر غیور عوام نے دامے، درمے سخنے، قدمے اپنے ہم نفسوں، ہم بھائیوں کی مدد میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔ جہاں تک ممکن ہو سکا ان کے دکھ اور درد میں شرکت کی۔ اسی طرح 2010 ء میں ملک میں شدید سیلاب آیا۔ اس سیلاب نے جنوبی پنجاب میں تباہی مچا دی۔ جانی ، مالی، فصلی اور نہ زمینی نقصان ہوا۔ یہاں تک کہ بیرون ملک سے بھی امداد آنا شروع ہو گئی۔ ہماری عوام نے بھائی چارے ، ایثار اور قربانی کی وہ مثالیں قائم کیں کہ جن کی مثالیں ملنا مشکل ہیں۔
میں چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کے تمام فیصلوں کی قدر کرتا ہوں اور تہہ دل سے قبول بھی کرتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ انہوں نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ سے کہ ملکی تاریخ میں یہ پہلا چیف جسٹس ہے جس کے دل میں ملک و قوم کا درد موجود ہے۔ جس کے دل میں اداروں کی قدر موجود ہے۔جو کرپشن ، بے ایمانی، ملاوٹ، منی لانڈرنگ، لاقانونیت کو بڑا سمجھتا ہے۔ جو یہ بھی سمجھتا ہے کہ عوام غریب ہے۔ جو یہ بھی سمجھتا تصور کرتا ہے کہ عوام کے پاس تعلیم اور صحت جیسی سہولتیں ہونی چاہئیں۔ جو یہ بھی چاہتا ہے کہ عوام کو خالص ملاوٹ سے پاک ادویات اور خوراک میسر ہونی چاہیے۔ مگر یہ تمام باتیں الگ اہمیت کی حامل ہیں۔ مجھے چیف جسٹس سے اس بات پر اختلاف ہے کہ ڈیم بنانے کے لیے غریب عوام کیوں فنڈز دیں؟ملازمین اپنی تنخواہوں سے اس فنڈز میں کیوں کٹوتی کروائیں؟۔ جناب عالی ! ہم عوام بہت ٹیکس دیتے ہیں۔ ہم بجلی، گیس ، تعلیم ، ادویات ، اشیائے خورونوش، پٹرول، ڈیزل، سواری، سفر پر ٹیکس دیتے ہیں۔ ہم پیدائش سے لے کر موت تک ٹیکس دیتے ہیں۔ ہم کفن سے لیکر قبر تک ٹیکس دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہم ہر سانس پر ٹیکس دیتے ہیں۔ جناب عالی! ہمارے ان ٹیکسوں پر ان حکمرانوں نے عیاشیاں کیں۔ انہوں نے آف شور کمپنیاں بنائیں۔ انہوں نے جاتی امرا محل بنائے۔ انہوں نے لندن میں فلیٹ بنائے۔ انہوں نے ایئر لائنز بنائیں۔ انہوں نے سوئس اکاؤنٹس بھرے۔ 70 کلفٹن میں گھوڑے مربے کھاتے رہے۔ بہتی گنگا میں سب نے ہاتھ دھوئے۔ ملک کی جڑوں کو کھو کھلا کر دیا۔ قرضوں کے انبار لگا دیئے۔ 200 ارب روپے میٹرو پر لگا دیئے۔ اسلام آباد ایئر پورٹ کو بارش کا پانی لے ڈوبا۔ جناب عالی کیا نہیں ہوا؟ اور ڈیم کے لیے فنڈز غریب عوام دیں۔ ہر دفعہ ، ہر بار ، ہر آفت میں غریب عوام ہی قربانی کا بکرا کیوں بنیں؟ غریب عوام ہی کیوں قصاص ادا کرے؟
پنجابی کی ایک کہاوت ہے ’’ نانی خصم کیتا دوہتیاں نوں چٹی‘‘ یعنی نانی بیوہ ہونے کے بعد شادی کرے اور شادی کے تمام اخراجات اس کے نواسے ادا کریں۔ جناب چیف جسٹس صاحب احتساب کا عمل شروع کریں۔ کرپٹ مافیا کو پکڑیں۔ جنہوں نے ملک و قوم کا پیسہ ہڑپ کیا ہے۔ ان کو پکڑیں۔ ٹیکس چوروں کو پکڑیں۔ قرضہ معاف کروانے والوں کو پکڑیں۔ منی لانڈرنگ کرنے والوں کو پکڑیں۔ ان تمام گرگوں کو پکڑیں، ان سے لوٹی ہوئی قومی رقم بر آمد کروائیں۔ اس رقم سے ڈیم بنائیں۔ اس رقم سے ملکی قرضے واپس کریں۔غریب عوام کیا کرے۔ وہ ڈیم کے لیے فنڈز دے یا روٹی پوری کرے۔ جناب عالی ڈیم بنانے کے لیے اس سے اچھا اور مؤثر طریقہ اور کوئی نہیں ہے۔ ملازموں کی چند دنوں کی تنخواہ زبردستی کاٹنے سے ڈیم ہر گز نہیں بنیں گے۔ بقول احمد فراز
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
جناب عالی ہم پہلے ہی بہت لٹ چکے ہیں۔ لہٰذا ان لٹیروں سے مالِ مسروقہ بر آمد کریں۔ ان کے اکاؤنٹس اور ان کی جیبیں چیک کریں۔ بلکہ ان کی ڈب کلاں چیک کریں۔ بہت سا روپیہ نکلے گا۔ جو ملک اور قوم کا پیسہ ہو گا۔ اور ملک و قوم پر ہی کھلے دل اور کھلے عام خرچ کیا جا سکے گا۔


ای پیپر