کرپشن :چیف جسٹس پاکستان کا اظہار تشویش
05 اگست 2018 2018-08-05


پرسوں ملتان بار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا’پانی کا بحران اس لئے آیا ڈیمز پر توجہ نہیں دی گئی ڈیم سے متعلق میں نے کوئی احسان نہیں کیا یہ ڈیم پاکستان کیلئے ناگزیر ہیں، ڈیم کی تعمیر کے پاکستان کے عوام محافظ ہیں، پاکستان سے زیادہ عزیز میرا کوئی مفاد نہیں، دورہ گلگت میں مجھے بتایا گیا دیامر میں کوئی چوری، قتل کا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا جب ڈیم کی آواز دی تو 12تعلیمی ادارے جلا دئیے گئے، ڈیمز بنانے کے اعلان پر مخالفت شروع ہو گئی،سازشوں کو کچلنا پڑے گا، ڈیمز بننے سے روکا جا رہا ہے کسی پر الزام نہیں لگاتا، ڈیمز بنانا ہیں اور اس کے خلاف فنڈ بناکر کوئی احسان نہیں کیا‘۔واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے گلگت بلتستان میں سکول نذر آتش کرنے کے واقعہ پر ازخود نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے 48گھنٹوں میں واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔ سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری گلگت بلتستان و کشمیر افیئرز کو بھی نوٹس جاری کر دئیے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’ ہم نے اپنے فیصلے میں کالاباغ ڈیم کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ اس پر اتفاق رائے پہلے ہونا چاہئے جیسے ہی اتفاق رائے ہوا کالاباغ ڈیم فوری بنانا چاہئے، 40سال تک اس ڈیم کو نہیں بننے دیا گیا اب عوام اس ڈیم کے محافظ ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا ’ہمیں تمام سازشوں کو مل کر کچلنا اور معاشرے سے کرپشن کے ناسور کو ختم کرنا ہوگا، کرپشن کے ناسور کے خاتمہ اور ڈیموں کی تعمیر نہ کی تو ہم اپنے بچوں کو کچھ نہیں دے سکیں گے، پاکستان تحفے میں نہیں ملا،قائداعظم کی کوششوں کا نتیجہ ہے،ملک بنانے کے لئے بہت زیادہ قربانیاں دی گئیں،کیا ہم نے اس کی قدرکی؟ انہوں نے بتایا ملک میں صرف ایک چیزنے راج کیا وہ صرف کرپشن کرپشن اور کرپشن ہے، کرپشن اوراقربا پروری معاشرے کے ناسور ہیں، بدقسمتی سے قائد اور لیاقت علی خان کے جانے کے بعد صرف کرپشن رائج رہی ہے، کرپشن کیخلاف جہاد کرنا ہے، کرپشن اور پسندیدگی ہمارے ملک میں رچ بس گئی ہے، میں نے لوگوں کے مسائل اور تکالیف دیکھیں جب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو گا نئی نسل کا کوئی مستقبل نہیں،بنیادی حقوق پر عدلیہ کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتی‘۔انہوں نے مزید کہا ’’ہم بچوں کو تعلیم دے نہیں بیچ رہے ہیں ہم تعلیم کو کاروبار نہیں بننے دیں گے صبح اْٹھ کر نماز پڑھ کر خود سے ضرور کہتا ہوں میں پاکستانی ہو، پاکستان کے بعد آزاد ہونے والے ممالک کی ترقی دیکھیں وہ کہاں کھڑے ہیں اور ہم کہاں کھڑے ہیں ملائیشیا، چین اور کوریا ہم سے آگے نکل گئے سرکاری تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے آنے والی حکومت سے مطالبہ ہو گا تعلیم کو اپنی ترجیح بنائے، سکولوں میں 35ہزار روپے فیس ہے ہم ایسے نہیں چلنے دیں گے، تعلیم ایک بنیادی حق ہے آنے والی حکومت بنیادی حق فراہم کرے، بچوں کو تعلیم دینا ریاست کی ذمے داری ہے۔ انہوں نے کہا کئی ہسپتالوں میں الٹرا ساؤنڈ مشینیں تو ہیں مگر وہ ناکارہ ہیں جہاں جاتے ہیں فنڈز کی کمی کا بتایا جاتا ہے۔ بھائی یہ فنڈز جاتے کہاں ہیں کہاں خرچ ہوتے ہیں لوگوں کی تعلیم اور صحت کیلئے فنڈز خرچ نہیں ہوتے تو کہاں جاتے ہیں‘‘۔یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ جناب چیف جسٹس آف پاکستان نے 31جولائی2018ء کو یعنی ایک ہفتہ قبل سپریم کورٹ میں شمالی علاقہ جات کے لیے پی آئی اے کے زائد کرایوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی تھی ۔ ازخو نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا ’’ اٹارنی جنرل صاحب آپ نے اس معاملے پر عدالت کی معاونت کرنی ہے، گلگت اور سکردو کے لوگ ہم سے زیادہ محب الوطن ہیں، ان علاقوں میں ہر پتھر پر پاکستان لکھا ہے، گلگت میں دو سال میں نہ چوری ہوئی نہ قتل ہوا، اتنے پیارے لوگوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ اٹارنی جنرل کاکہنا تھاکہ ’’ 2018ء میں وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو دئیے گئے تمام حقوق واپس لے لئے، یہ وہاں کے لوگوں کے ساتھ بہت زیادتی ہے‘‘۔ چیف جسٹس نے کہا ’’سپریم کورٹ کا ایک حکم نامہ ہے اس پر عمل نہیں ہوا، ہم دو ہفتوں کے لیے کیس ملتوی کر رہے ہیں، اگر آپ اٹارنی جنرل نہ بھی ہوئے پھر بھی ا آپ نے عدالتی معاون کے طور پر عدالت کی معاونت کرنی ہے‘‘۔
عالمی خبررساں ادارے ’’بلوم برگ ‘‘کو ایک انٹرویو میں ) تحریک انصاف کے مرکزی رہنما، متوقع وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا’’ گزشتہ 13 ماہ میں چین نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے برابر قرض دیا، پاکستان کو فوری طور پر 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی، رقم کا بندوبست آئندہ 6 ہفتوں میں کرنا ہوگا، تاہم کوشش ہوگی انتظام اس سے کچھ زیادہ ہو تاکہ خدشات کم رہیں، رقم کے انتظام کے لیے اقدامات حکومت سازی کے بعد کریں گے، رقم حاصل کرنے کے لیے عالمی مارکیٹ میں بانڈز فروخت کیے جاسکتے ہیں، دوست ملکوں سے تعاون لیا جاسکتا ہے اور آئی ایم ایف پروگرام میں بھی جا سکتے ہیں،خراب معاشی صورتحال عمران خان کے لئے چیلنج ہے،تحریک انصاف نے کسی بھی ملک یاعالمی ادارے سے ابھی بات نہیں کی کیونکہ حکومت کی تشکیل تک کوئی باضابطہ کام شروع نہیں کیاجا سکتا،نئی حکومت پاکستان میں ایک خطہ ایک شاہراہ راہداری کے 60ارب ڈالر سے زائد مالیت کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں مزید شفافیت لائے گی،ہمارے بیرونی قرضوں کی صورتحال سنجیدہ ہے لیکن ہمیں چینی قرضوں کا مسئلہ نہیں، نئی انتظامیہ اپنے پہلے سودن کے اندر سنگاپور کی طرح سرکاری سرپرستی میں چلنے والی کمپنیوں کوویلتھ فنڈ میں تبدیل کرے گی تاکہ ان میں سیاسی مداخلت ختم کی جاسکے‘‘۔۔ انہوں نے امریکہ کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا’’ امریکہ ہماری فکر کم، خود چین سے لئے گئے قرضوں کی فکر کرے، چین کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدوں کو منظر عام پر لایا جائے گا‘‘۔ ایک خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکہ، چین کا لگ بھگ 1200 ارب ڈالر کا مقروض ہے جبکہ امریکہ نے چاپان سے بھی 1000 ارب ڈالر قرض لیا ہوا ہے۔ واضح رہے حال ہی میں امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا وہ اس بات کی نگرانی کریں گے آیا عمران خان کی نئی حکومت چینی قرضوں کی ادائیگی کے لئے آئی ایم ایف کے قرضوں کا استعمال تو نہیں کرے گی۔اس حوالے سے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا وہ پاکستان میں 60 ارب ڈالر سے زائد کے بیلٹ اینڈ روڈ انفراسٹرکچر منصوبوں میں مزید شفافیت لائیں گے اور مائیک پومپیو کے اس بیان کا جواب دیں گے۔ میرے نزدیک وقت آگیا ہے کہ ملک کی اجتماعی بہتری میں ہر فرد واحد اپنا حصہ ڈا لے۔


ای پیپر