Mushtaq Sohail, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
05 اپریل 2021 (11:41) 2021-04-05

تین سال ہونے کو آئے عذاب ہیں کہ تواتر سے نازل ہو رہے ہیں، بھوک اور خوف کے جان لیوا عذاب، مہنگائی کے عذاب نے تو زندگی کی خوشیاں چھین لی ہیں، غریب پریشان، متوسط طبقہ یعنی وائٹ کالر ملازم پیشہ حیران، جبکہ امیر مستقبل کے خوف سے انگشت بدندان۔ معاشرے میں سکھ چین کا فقدان، وزیر اعظم نے کئی ماہ پہلے عوام سے کہا تھا کہ گھبرائیں نہیں لیکن خود ان کی گھبراہٹ جھنجھلاہٹ میں تبدیل ہوگئی، تین سال میں دو وزیر خزانہ آئوٹ تیسرا ان، تین سال تک کابینہ اجلاسوں اور نجی محفلوں میں عبدالحفیظ شیخ کی تعریفیں معیشت مستحکم کر رہے ہیں، مستحکم ہوگئی ہے۔ دنیا بھر میں تعریف و توصیف کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ موڈیز کے تعریفی بیانات دیتے گلے خشک ہوگئے ہیں عالمی بینک اور آئی ایم ایف شیخ صاحب پر ہزار جان سے فدا ہو رہے ہیں۔ اچانک منظر بدل گیا یک بیک یاد آیا کہ معیشت تو تباہ ہو گئی وزیر خزانہ نے تو اپنی پالیسیوں سے اتنی مہنگائی کردی کہ عوام بلبلا اٹھے۔ تکلف برطرف، استعفی طلب کرلیا۔ بقول شخصے ایک کپ چائے تک نہ پوچھی، سینیٹ الیکشن میں ہارے تھے تو خود انہوں نے مستعفیٰ ہونے کی پیشکش کی تھی۔ کہا آپ کام جاری رکھیں چشم زدن میں آنکھیں پھیر لیں اور گھر بھیج دیا ایک تجزیہ کار نے تو پوری فہرست گنوا دی۔ اسد عمر، فردوس عاشق، فیاض چوہان، شہرام ترکئی، عامر کیانی سمیت کتنے لوگوں سے استعفیٰ لیے گئے، جانے والوں کے خلاف غضب کہانیاں، چند دن بعد ہی انہیں واشنگ مشین میں ڈالا اور ڈرائی کلین کر کے دوبارہ نوکری پر بحال کردیا، ون مین شو اور سپر مین ٹائپ حکومتوں میں یہی کچھ ہوتا ہے، کسی بھی وزارت سفارت کے لیے عالی جاہ کی خوشنودی ازبس ضروری، شاہد خاقان عباسی نے چٹکی لی کہ حکومت تین سال بعد بھی وزیر خزانہ ڈھونڈ رہی ہے سراج الحق بولے تین سال بعد پتا چلا کہ وزیر خزانہ نا اہل ہے۔ ناکامیوں کا ذمہ دار اکیلا وزیر خزانہ نہین پورا ٹبر (کنبہ) ہی چندے آفتاب چندے مہتاب ہے۔ ٹھیکے پر لائے جانے والے درآمدی ماہرین کب کامیاب ہوئے ہیں۔ حافظ حسین احمد نے پتے کی بات کی کہ ’’درآمدی ٹڈی دل معاشی کھیت کھا گیا‘‘۔ یادش بخیر تین سال قبل آئی ایم ایف نے نگاہ کرم کی اپنا ’’ٹڈی دل‘‘ بھیج دیا۔ کھیت کے رکھوالے کنستر اور ڈھول بجا بجا کر انہیں بھگانے کے جتن کرتے رہے لیکن انہیں چور ڈاکو قرار دے کر نیب کے حوالے کردیا گیا ،تین سال بعد پتا چلا کہ پھل پھول کجا معاشی کھیت کی جڑیں کھوکھلی ہوگئیں ،کرونا وائرس کے باعث چند دن گھر میں کیا رہے چودہ طبق روشن ہوگئے، رزلٹ منفی آنے تک سارے مثبت ریمارکس اور رویے بھی منفی ہوگئے۔ روحانی فیوض و برکات سے پرتیں کھلتی جاتی ہیں، آتے ہی احساس ہوا کہ ساری مہنگائی کا ذمہ دار وزیر خرانہ تھا ان کی پالیسیوں نے عوام کو مہنگائی کے تپتے صحرا میں پھینک دیا۔ لوگوں 

نے پوچھا کیا وزیر خزانہ عالی جاہ کی منظوری کے بغیر عملدرآمد کیا کرتے تھے؟ سوال غیر ضروری لیکن جواب واضح، قصیدہ خوانی سے نوحہ خوانی کے مراحل حیرت انگیز، طے کیا پایا؟ حالات کا ادراک نہیں، معیشت کی گھمن گھیریوں کا پتا نہیں، اللہ میاں خوش رکھے کہا کرتے تھے ہمارے پاس مکمل ٹیم ہے ہوم ورک کر رکھا ہے آتے ہی تین ماہ  میں ملک کی تقدیر بدل دیں گے، گستاخی معاف ٹیم تھی نہ ہوم ورک، اپنے سارے گفتار کے غازی، جس نے جو کہہ دیا اس پر اعتبار کرلیا، تو بھی اچھا تو بھی اچھا، جو لشکر میں شامل ہوا وہ ماہر امراض معیشت، پہلا وزیر خارجہ چند دن بعد ہی بدلنا پڑا۔ ماہرین باہر سے درآمد کیے گئے انہوں نے اپنے اداروں اور باسز کی ہدایات کے مطابق ملک چلانے کی کوشش کی۔ اعتراف کرنا چاہیے کہ پہلی حکومت ہے جس نے بجلی گیس پیٹرول اور دیگراشیائے صرف مہنگی کر کے عوام کی جیبوں سے کھربوں روپے نکلوالیے آئی ایم ایف عش عش کر اٹھا اس نے خوش ہو کر قرضوں کے منہ کھول دیے اور پوری معیشت کو سودی اژدھے کے شکنجے میں جکڑ دیا۔ عالی جاہ نے بار بار مہنگائی کا نوٹس لیا۔ ہر نوٹس پر مہنگائی بڑھتی چلی گئی۔ آٹا، گھی، دالیں، مہنگی چینی سنچری سے دس پندرہ روپے زیادہ یعنی 115 روپے کلو، مہنگائی 20.5 فیصد ہوگئی۔ معاشی پالیسیوں کا کمال ہے کہ مہنگائی بڑھنے عوام کی جیبوں سے کھربوں نکلوانے کے باوجود افراط زر میں کمی نہ ہوسکی۔ نوٹ چھاپنے کی رفتار بھی برقراربرآمدات میں بھی اضافہ نہ ہوسکا۔ترسیلات زر میں اضافہ برحق لیکن درآمدات و برآمدات کے فرق نے معیشت کو سنبھلنے نہ دیا۔ ٹیم کا ہر کھلاڑی ہر فن مولا، آل رائونڈر لیکن نتائج صفر ،جو آیا یا لایا گیا اس نے باتوں سے رام کیا، ٹی وی چینلوں پرجانے والوں پر ایسی لعنتیں بھیجیں ایسے کرتب دکھائے کہ ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔اپنے حصہ کا رزق کھایا اور استعفیٰ دے کر راندہ درگاہ ہوا۔ چند دنوں کے لیے پچھلی صفوں میں براجمان رہا اچانک پرانے ’’چوروں ڈاکوئوں‘‘ کو گالیاں دینے کے لیے اسی ماہر کی ضرورت پڑی اسے بلایا بٹھایا اور جھاڑ پونچھ کر مشیر، معاون یا وزیر کے عہدے پر بحال کردیا۔ اب تک یہی ہو رہا ہے۔ وزارتوں کا قلم بھی ’’دان ‘‘کیا جا رہا ہے۔ جنہوں نے معیشت سدھارنے اور اسے مستحکم کرنے کے لیے دن رات ایک کیے تھے وہ دور بیٹھے شکوہ کر رہے ہیں کہ ’’ہم پربتوں سے لڑتے رہے اور چند لوگ ۔گیلی زمین کھود کر فرہاد ہوگئے‘‘ لطیفہ ہوگیا۔ نئے وزیر خزانہ حماد اظہر نے قلمدان سنبھالا، قلم کو ڈبویا اور پہلا حکم جاری کیا کہ چینی کپاس اور دھاگہ بھارت سے درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اجازت دے دی کہ بھارت سے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرلی جائے دوسرے ہی دن وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تو چار وزیروں نے اللہ انہیں خوش رکھے اس کی پر زور مخالفت کی کہ بھارت سے کشمیر کا تنازع طے ہونے تک تجارت بحال نہ کی جائے۔ باقی وزیروں نے بھی ماسک چہروں سے ہٹائے اور ان کی ہاں میں ہاں ملادی۔ وزیر اعظم کو بھی ادراک ہوگیا اور انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ کا پہلا حکم ہی مسترد کردیا۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ سرمنڈاتے ہی اولے قسم کی کوئی چیز پڑی، شبلی فراز کہتے ہیں کہ مہنگائی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح، لیکن مہنگائی اتنی بے شرم ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ حبیب جالب نے 80ء کی دہائی میں کہا تھا۔ ’’وہی حالات ہیں فقیروں کے، دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے، ہر بلاول ہے قوم کا مقروض، پائوں ننگے ہیں بے نظیروں کے‘‘ چالیس سال بعد بھی ’’وہی حالات ہیں فقیروں کے‘‘ اس دور میں ہوتے تو شاید ان محرومیوں کا ذکر نہ کرتے بھوک لگتی تو لنگر خانوں سے کھانا کھا کر اللہ کا شکر بجا لاتے، ساری باتیں اپنی جگہ درست مگر حال ہی میں معاشی ٹیم کا حصہ بنائے جانے والے ایک اور ماہر معیشت کی بات قابل غور ہے۔ شوکت ترین کے بارے میں حافظ حسین احمد ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ وہ بھی درآمدی ٹڈیوں میں شامل ہیں یا نہیں لیکن انہوں نے آتے ہی بات بڑے پتے کی کی ہے کہ معیشت کی سمت کا پتا ہی نہیں، کپتان کو مضبوط ہونا پڑے گا ورنہ کشتی آگے نہیں بڑھے گی۔ ہم نے ڈھائی سال میں اپنا گھر ٹھیک نہیں کیا شروع میں آئی ایم ایف مذاکرات میں غلطی کی گئی، صرف ٹیرف بڑھانے سے کرپشن میں اضافہ ہوگا ایکس چینج ریٹ اور شرح سود بڑھانے سے معیشت کا بیڑہ غرق ہوا۔ اللہ خیر کرے ایسی باتوں پر تو استعفیٰ لے لیا جاتا ہے۔ 


ای پیپر