Sumera Malik, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
05 اپریل 2021 (11:29) 2021-04-05

آج ہم بحیثیت قوم انتہائی مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ کورونا وائر س کی وبا ایک عالمگیر مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔اس کا فوکس انسان ہے۔ کورونا ایک ایسا مہلک وائرس ہے اب کرونا کی تیسری لہر خطرناک طریقے سے حملہ وار ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان اس کرونا کی زد میں ہیں۔یہ کرونا  ایک انسان سے دوسرے انسان میں تیزی سے منتقل ہوتا ہے۔ اس سے بچائو صرف احتیاطی تدابیر سے ہی ممکن ہے۔ ہر فرد اپنی روزمرہ زندگی کا معمول حکومت کی ہدایات کے مطابق ترتیب دے۔ان ہدایات پر عمل درامد یقینی بنایا جائے۔ سماجی فاصلہ سے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکا جا سکتا ہے۔ لوگ سماجی فاصلے برقرار رکھیں۔ قربت نہ رکھیں۔ ایک دوسر ے سے ہاتھ نہ ملائیں۔ گلے نہ ملیں۔شہری گھرو ں میں رہنے کو ترجیح دیں۔ 14دن کے لئے خود کو گھروں تک محدود کر لیں۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے جب قوموں پر مشکل وقت آتا ہے۔تو وہ  اپنے حوصلوں کے ساتھ مشکل وقت کو شکست دے کر کامیابی سے آگے بڑھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پنجاب میں کورونا سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات شروع کرتے ہوئے 14جنوری کو پنجاب کی سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔اس کمیٹی نے روزانہ کی بنیاد پر کوروناوائرس کا مقابلہ کرنے اور اس وبا کو روکنے کے حوالے سے میٹنگ کی۔کوروناوائرس چین کے شہر ووہان سے اٹھنے والا مہلک ترین وبا کا وہ طوفان ہے جو دنیا کی ایک ارب آبادی کو متاثر کرتا ہو ا چین کے بعد ایران او رپھر 26جنوری کو ایران سے آنے والے زائرین کی شکل میں پاکستان میں داخل ہوا تھا۔جہاں کورونا وائرس کا پہلامریض رپورٹ ہوا۔اس کے فوری بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے زیر اہتمام ایک ارب روپے کا ہنگامی فنڈ دینے کا اعلان کیا۔تاکہ کورونا وائر س کے پھیلائو کو روکا جائے۔اس فنڈ کے تحت کئی اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ جن میں پنجاب میں قرنطینہ سینٹرز ،ڈیرہ غازی خان ،لیبر کالونی ملتان، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، کالاشاہ کاکو میں بنائے گئے۔ ضرورت پڑنے پر پنجاب کی مختلف یونیورسٹیوں ،کالجز کے ہوسٹلز کو بطور قرنطینہ سینٹرز استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ جن میں مزید افراد کو قرنطینہ کرنے کی سہولت فراہم کی جاسکے گی۔پنجاب میں 36اضلاع میں 41آئیسولیشن سنیٹرز بنائے گئے جبکہ کورونا وائرس کے حوالے سے جدید طرز کے ہسپتالو ں کومکمل طور پر کورونا وائرس کے علاج کے لئے مختص کیا گیا۔اس مقصد کے تحت  PKKIہسپتال راولپنڈی، میوہسپتال لاہور، سول ہسپتال بہاولپور ،طیب اردگان ہسپتال مظفر گڑھ اور ایکسپو سنٹر کو قرنطینہ ہسپتال بنایا گیا۔ لاہور اور راولپنڈی میں سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹوں کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے 217ملین روپے کا حفاظتی سامان خریدا۔ جس میں گائون ، N-95ماسک ،عینکیں،شوز کور،لانگ شوزاور سرجیکل گلوز شامل ہیں۔ کورونا وائر س کے خاتمے کی جنگ جیتنے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایک اور دانشمندانہ فیصلہ کیا۔ ان دانشمندانہ اقدامات میں پنجاب بھر میں اسکول ، کالج کو بند کردیا گیاپھر پنجاب میں جزوی لاک ڈائون کیا گیا ہے۔جس کے تحت صوبہ کے تما م شاپنگ مال،مارکیٹس ، پارکس اور حجام کی دکانیں جمعہ اور ہفتہ بند کی گئیں اور باقی پانچ دنوں میں شام چھ بجے تک کھلی رہے گی۔۔۔ اسی طرح دفعہ 144نافذکرکے ہرقسم کے اجتماعا ت پر پاپندی عائد کی گئی ہے اور ماسک نہ پہننے پر FIR کا اندراج کیا گیا تاکہ عوام کو احساس ہو کتنا مہلک وائرس ہے۔ یاد رہے کہ پنجا ب میں کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے اور ممکنہ مریضوں کی تعدا د میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب نے کابینہ کے 28ویں اجلاس میں (punjab infection disease prevention  & control ordinance,2000)کی منظوری دی گئی تھیں۔ یہ آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل کردیا گیا ہے۔جس کے بعد پنجاب میں کسی بھی نقل و حمل کو روکا جاسکے گا۔آرڈیننس کی خلاف ورزی پر 10ہزار روپے سے 50ہزار روپے جرمانہ یا 6ماہ کی قید کی سزا دی جائے گی اور اس پر عمل کیا گیا۔۔ قرنطینہ سنٹر سے بھاگ جانے والے کو 6ماہ کی قید اور 50ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔پنجاب میں لیول تھری کی 5نئی لیبز قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔اس لیبارٹری کے قیام سے کرونا وائرس کے ٹیسٹ میں سہولت ہوگی۔واضح رہے کہ لیول تھری کی یہ لیبارٹریاں فیصل آباد، بہاولپور ، گوجرانوالہ ، راولپنڈی اور ملتان میں بنائی جارہی ہیں۔10ہزار ڈاکٹرز پیرا میڈیکل اسٹاف کی بھرتی کی اجازت بھی دی گئی تھی۔جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے 50ارب روپے کے اکنامک پیکیج کے ذریعے کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈائون کے دوران 50لاکھ افراد کو ماہانہ 3ہزار روپے دیئے گئے۔پنجاب میں ڈسٹرکٹ مارکیٹ کمیٹیوں کے ٹیکس کو دو ماہ کے لئے معاف کردیا گیا۔صوبہ پنجاب میں قرضوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرتے ہوئے رعایتی وقت بھی دیا گیا۔اسی طرح بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے حوالے سے فیکٹریوں اور بڑے اداروں کے دو ماہ کے بلز کو ایک سال کے بلز پر تقسیم کر کے دیا گیا۔ کورونا وائرس کی روک تھا م کے لئے پنجاب کے ہر شہری کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔ موجودہ صورتحال میں عوام گھر کے اندر رہیں تاکہ انہیں ہسپتال جانے کی ضرورت نہ پڑے۔ شہری حفاظتی تدابیر کے طور پر منہ اور ناک پر ماسک لگائیں، دن میں بیس سے پچیس بار صابن سے ہاتھ دھوئیں، سینیٹائزر لگائیں، بلاوجہ اور غیرضروری گھر سے باہر ہرگز نہ نکلیں،شہری اگر خود میں کورونا وائرس کی علامتیں دیکھیں تو وہ ٹال فری نمبر 1033پر کال کرسکتے ہیں۔ خود کو آن لائن چیک کرائیں ،ٹیلی میڈیسن کے لئے ویب پورٹل یا فون نمبر 042-99231669 پر رابطہ کیا جائے۔ مشکل کی اس گھڑی میں متحد رہیں۔ بلاشبہ حکومت ،عسکری قیادت ،سول انتظامیہ مل کر عوام کے تعاون سے کورونا وائرس کی وبا کو شکست دے سکتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کورونا وائرس کے خلاف یہ جنگ جیتنے کے لئے جو اہم اور مثالی اقدامات اٹھائے ہیں۔ وہ قابل تعریف ہیں۔ بحیثیت پاکستانی ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ حکومت وقت کا ساتھ دیں تاکہ مشکل وقت سے نکل سکیں۔۔۔


ای پیپر