دیدۂ بے نور…
05 اپریل 2020 2020-04-05

دنیا میں انقلاب اور بڑی تبدیلیاں جنگوں اور فوجی یلغاروں سے نتھی ہوتی ہیں۔ جن سے ’ورلڈ آرڈر‘ بدل جائیں، وہ مہیب قوتیں ہوا کرتی تھیں۔ پہلی جنگ عظیم کی کوکھ سے ایک نئی دنیا ابھری تھی۔ دنیا کا نقشہ بدلا۔ خلافت عثمانیہ ختم ہوئی۔ مشرق وسطیٰ چھوٹے ٹکڑوں (قومیتوں) میں بانٹ دی گئی۔ یورپ کی قوت کو شدید دھچکا لگا۔ اسی کے بعد روس اٹھا، امریکہ عالمی قوت بن کر ابھرا۔ دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں یورپ کی رہی سہی سکت ختم ہوئی، امریکہ اور روس سپر پاور بن کھڑے ہوئے۔ بعد ازاں ہم روس کو افغانوں کے ہاتھ ٹوٹتے دیکھتے ہیں، دس سالہ جنگ کے نتیجے میں۔ روسی ریچھ آہستہ آہستہ خون بہتے (Bleed Out)سوویت یونین کی جگہ صرف ’روسی فیڈریشن‘ رہ گیا۔ دنیا میں اگلا بھونچال 9/11 کے واقعے سے آیا۔ جس نے دنیا کو ہلا مارا۔ انیس سال نئی صدی کے اس کی نذر ہو گئے۔ انیسویں سال کے آخر میں پوری دنیا ایک عالمی بلا کے مقابل Covid-19کے نام سے کھڑی پائی گئی۔ 2020ء میں تمام عالمی لیڈر جنگی اصطلاحیں استعمال کر رہے ہیں ’ہمیں جنگی حالات کا سامنا ہے‘۔ ’ان دیکھے حملہ آور کے خلاف جنگ لڑنی پڑ رہی ہے‘۔ ٹرمپ ، بورس جانسن، نیتن یاہو اور ان کی دیکھا دیکھی ہمارے والے بھی یہی زبان استعمال کر رہے ہیں! یہ ایسی جنگ ہے جس کے آگے اقوام متحدہ کی کوئی اوقات نہیں۔ ویٹو پاور صفر ہو چکی۔ جنگ کب تک چلے گی، نتیجہ کیا نکلے گا؟ ختم کیسے ہو گی؟ کتنا خراج وصول کرے گی، کوئی نہیں جانتا! طبل جنگ بجانے والا گونگا، بہرا کورونا، دنیا کی نگاہوں سے اوجھل کمزور ترین ایسا بے آواز مخفی دشمن جس کے آگے عالمی سپر طاقتیں سجدہ ریز ہوئی پڑی ہیں۔ (کمال یہ ہے کہ کورونا نیم جان Semi-living ہے۔ کیمیائی اور حیاتیاتی کے مابین ایک وجود۔) ہر حکم بجا لا رہی ہیں۔ اس کے ایک حکم پر ساری جنگیں بند ہو گئیں۔ لیبیا، شام، یمن۔ مردوں کے خلاف برسر پیکار دنیا بھر کی چیختی چلاتی ہا ہا کار مچاتی ’می ٹو‘ اور بے محابہ آزادی کے پھریرے لہراتی عورتیں! سیاسی جماعتوں کی سر پھٹول، امریکی انتخابات۔ سبھی کی سٹی گم ہو گئی۔ بات سمجھنے کو دیدۂ عبرت نگاہ درکار ہے۔ جب نگاہ نظارۂ غیر کی آوارگی کی مریض ہو جائے تو بصیرت کی آنکھ بے نور ہو جایا کرتی ہے۔ دیدۂ بے نور مثل نرگس اند۔ ہاتھ کو ہاتھ سمجھائی نہیں دیتا۔ دلوں پر مہر لگ جاتی ہے۔ کانوں میں گرانی پیدا ہو جاتی ہے۔‘ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں، وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں‘۔ (الاعراف۔ 179) سپر پاوری کے زعم میں اللہ کا انکار اور خم ٹھونک کر اس کی کبریائی کو للکارتے رہے۔ ان کی رسی دراز ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ آج اللہ نے ایک ایسی غیر مرئی، نادیدہ شرلی چھوڑی ہے جو پوری دنیا کی قوت کو للکار رہی ہے۔ دنیا حواس باختہ ، سانس روکے اس کی بڑھتی پھیلتی کارفرمائی کو دیکھ رہی ہے۔ اس کے مفتوحہ علاقے پورے گلوب پر محیط ہیں۔ شدت سے جن پر حملہ آور ہے ان کے مابین قدر مشترک مسلمانوں پر قہر برسانے، اسلام کو مٹانے اور اس کے نام لیواؤں پر زمین تنگ کرنے کا جرم ہے۔ خواہ وہ جنگی جرائم کی صورت خون ریزی ہو۔ عورتوں بچوں خاندانوں کو پہاڑوں، صحراؤں، سمندروں میں رلنے پر مجبور کرنے والے یا ان دیکھے حراستی مراکز میں ظلم و جبر کی چکیوں میں پیسنے

والے ۔عالمی لیڈر سارے تقریباً گرفت میں آئے۔ اب باری ہے پیوٹن کی، نیتن یاہو دوبارہ قرنطینہ میں ہے۔ (اللہ کا عذاب دیکھ کربھی ہمارے سیکولروں کی آنکھ نہ کھلی!) اللہ کی گرفت لرزا دینے والی ہے۔ گردن دبائی ہے۔ سانس گھونٹا ہے۔ امریکی فوج نے پہلے نہتے طالبان کے پیچھے نادیدہ قوت کی کارفرمائی کا ذائقہ چکھا۔ اب دیکھئے کہ امریکی طاقت کا سر پر غرور کس حال کو پہنچا ہے۔ تھیوڈر روز ویلٹ، جنگی ہوائی جہاز بردار، نیو کلیر بحری بیڑہ ہے جو افغانستان، عراق، شام میں استعمال ہوتا رہا۔ سمندر کی وسعتوں میں کھڑے اس پر ہیبت جنگی بحری جہاز پر لدے ہوائی جہاز باری باری اڑان بھرا کرتے۔ جب یہ تیسری دنیا کے کمزور ترین ملک افغانستان کی کچی بستیوں پر کارپٹ بمباری کرتے تو امریکہ کے نتھنوں سے تکبر کے مرغولے اٹھتے دنیا پر لرزا طاری کر دیتے تھے۔ ہم ایٹمی پاکستان میں اسی خوف کے ہاتھوں امریکہ کے آگے سجدہ ریز ہوئے۔ اس کے فرنٹ لائن اتحادی بن کر اخوت اسلامی کے تقاضے بھلا بیٹھے۔ آج دیکھئے یہ بحری بیڑہ یہ اور امریکی فوج دونوں کس حال میں ہیں۔ جس جہاز سے ٹاماہاک کروز میزائل داغے جاتے رہے جن پر امریکی داغنے سے پہلے بڑا بڑا لکھتے۔ ’طالبان کے نام محبت کے ساتھ‘۔ اسی جہاز کو ننھے جلاد کورونا، نے جا پکڑا۔ چار ہزار نفری میں تیزی سے وائرس پھیلا۔ یکایک عملے کے 100 افراد میں بیماری پھیل گئی۔ عملہ چلا اٹھا۔بالآخر ڈھائی ہزار کو یہاں سے اتارا گیا۔ آن لائن (فوجی روایات کے برخلاف) کہا گیا کہ چونکہ ہم اس وقت روایتی جنگ کی حالت میں نہیں ہیں اس لیے کام ٹھپ کر دیا جائے۔ امریکی افواج میں وائرس بہت تیزی سے پھیلا ہے۔ پینٹاگون سے لے کر بحری بیڑوں اور بیرون ملک تعینات دستوں میں بھی۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے تفصیلات ظاہر کرنے سے انکار کیا کہ سرکاری طور پر ہم ملٹری اعداد و شمار نہیں دیں گے۔ رائٹر کی رپورٹ (26 مارچ) میں گھر، خاندان کی سطح پر بھی فوج میں ابتری پھیلی ہے۔ مرد قرنطینہ میں ہیں۔ (عام امریکی گھروں میں بھی تشدد، جھگڑے، طلاقیں، خودکشیاں، نفسیاتی ہیجان برپا ہے۔) امریکہ میں وبا کے اثرات شدید تر ین اور گھمبیر ہیں۔ نیشنل پبلک ریڈیو سروس (یکم اپریل) کے مطابق فوج کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ امریکہ دنیا بھر میں فوجی آپریشنز بند کر دے وائرس سے نمٹے۔ (اللہ نے اسے اپنی ڈال دی)۔ وزیر دفاع نے وہائٹ ہاؤس پریس بریفنگ میں کہا کہ فوج کو شٹ ڈاؤن کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ ایسپر کی ہوائیاں اڑی صورت دیکھنے میں سبھی کچھ کہے دیتی ہے۔ امریکی قوت کا حشر نشر صرف فوج تک محدود نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام ہچکیاں لے رہا ہے۔ کریش کرتی معیشت پر اب کھلے عام یہ بحث شروع ہے کہ انسانی جانیں بچانے کی خاطر لاک ڈاؤن کے نتیجے میں معاشی نظام کیا ڈھیر ہونے دیا جائے؟ یا معیشت بچانے کی خاطر (انسان مرنے دیں) ختم لاک ڈاؤن کر دیا جائے؟ وبائیں تو انسانی تاریخ میں آتی رہیں لیکن عالمی سطح پر پوری دنیا پر وبا کا عذاب بن کر چھا جانا ہیبت انگیز ہے۔ دنیا جس بلا میں گرفتار ہے، اس کا سرا ہاتھ نہیں آ رہا۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم مسلمان انجان بنے بیٹھے ہیں! پاکستان امریکی جنگ لڑتا لڑتا اپنی شناخت بھلا بیٹھا۔ آج اللہ کے خوفناک عذاب کے مقابل وہی جہالت کی زبان بولی جا رہی ہے حکمرانوں کے ہاں جو دنیائے کفر کی ہے۔ ’کورونا کے خلاف جنگ لڑیں گے‘۔ سارا زور نماز کی بندش پر ہے۔ ملک بھر میں جا بجا راشن کی لائنیں اور جمگٹھے موجود ہیں۔ (نمائشی احتیاط کے چند سپر سٹورز، دوائیوں کی دکانیں چھوڑ کر۔) مساجد میں تمام انتظامات کرنے کے باوجود نماز جمعہ سے روکنا ’ریاست مدینہ‘ کی ترجیح اول ہے۔ قوم کی رہنمائی کے لیے ناچنے گانے والیاں ہدایات جاری فرماتی رہتی ہیں۔ والیٔ ریاست نے پچھلے جمعے کی بندش تو کروائی۔ ساتھ ہی قوم کو سرکاری طور پر (موبائیلوں پر) ڈرامہ ’حج اکبر‘ دیکھنے کا حکم صادر فرمایا۔ صدقات، خیرات اور خدمت خلق کی تلقین قرآن حدیث کی بجائے اللہ رسولؐ کی بتائی حدیں توڑ کر ڈرامہ بینی کے ذریعے ہو گی؟ کیوں اللہ کے غضب کو (اپنی دینی جہالت اور حدود اللہ سے نا آشنائی کی بنا پر) آوازیں دے رہے ہیں مزید؟ لگاتار دو دن اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں زلزلہ آیا۔ بے موسم شدید بارشوں اور ژالہ باری ہم نے دیکھی۔ علماء کے دیوار سے لگنے لگانے کا رویہ دیدنی ہے۔ تبلیغی جماعت کے اکا دکا ناگہانی واقعات کو سیکولر میڈیا نے ڈھول پیٹ پیٹ بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ تفتان کا قضیہ بھلانے کو، جو حکومتی نا اہلی اور بد انتظامی کا بدترین ثبوت تھا۔ حضور والیان حکومت! ملکی سربراہی 22 کروڑ عوام کے جان و مال کی مکمل ذمہ داری کا نام ہے۔ دنیا کی بد نامی اور بد دعائیں تو الگ رہیں۔ اکیلے اکیلے اللہ کے حضور حاضری اور جواب دہی کتنی ہولناک ہے؟ کبھی تو قرآن کھول کر پڑھنے کی زحمت فرمائیے۔ ضرورت ہے اجتماعی توبہ کی۔ سجدہ ریزیوں کی۔ سجدے سلب کرنے کی نہیں! فحاشی کے میڈیائی سیلاب بند مقید کرنے کی۔ ہوش کے ناخن لیجیے ملحدانہ لب و لہجے اور رویوں کو لگام دیں۔ کورونا کا کوڑا بڑا بے رحم ہے۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔ (آمین)


ای پیپر