وزیراعظم صاحب ہمیں لڑنا نہیں بچنا ہے
05 اپریل 2020 2020-04-05

وزیراعظم کے قوم سے ابتک کے آخری خطاب اور اسد عمر کی کورونا میں انٹری کے بعد سے لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں سڑکوں پر رونق بڑھ گئی ہے۔ جمعہ کی بندش اچھی رہی تاہم سڑکوں، گلیوں اور بازاروں کی حد تک رونق بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ لگتا ہے وزیر اعظم اور قوم نے کورونا سے سڑکوں اور گلیوں میں لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وہ وباء جس کے ساتھ امریکہ نہیں لڑ سکا اور اب بچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے تو پھر ہماری کی اوقات ہے۔

عالمی سطح پر اب تک گیارہ لاکھ سے اوپر لوگ کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں ان میں 60 ہزار جان کی بازی ہار چکے اور دو لاکھ کے قریب ٹھیک بھی ہوئے ہیں۔ باقی متاثرہ تقریباً 8 لاکھ افراد میں پانچ فیصد شدید بیمار ہیں۔ امریکی صدر نے تو امریکہ میں ہی کم ازکم ایک لاکھ اموات کی پیشینگوئی کی ہے۔ اٹلی اور اسپین میں ہسپتال اور قبرستان بھر چکے ہیں۔امریکہ اور برطانیہ میں اموات کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کینیڈا نے بھی مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔

پاکستانی حکومت نے لاک ڈاؤن میں 15 اپریل تک توسیع کر دی ہے۔ عالمی حالات کو دیکھ کر یہ ایک درست فیصلہ ہے۔ اس میں کس حد تک اور توسیع ہوگئی اس کا فیصلہ تو حالات ہی کریں گے تاہم توسیع کا واضح امکان موجود ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہر قسم کا کاروبار ٹھپ اور دکانیں بند پڑی ہیں۔ ملک میں معاشی، معاشرتی اور ذاتی زندگی اچانک منجمد ہوگئی ہے۔

دیہاڑی لگانے والوں کے روزگاری مواقع میں 95 فیصد کمی آ گئی ہے۔ تاہم حکومت ابھی تک اعلانات اور ٹائیگر فورس سے باہر نہیں نکلی ہے۔ فرنٹ لائن پر موجود ڈاکٹروں کو حفاظتی سامان تک نہیں مل سکا ہے۔ فواد چوہدری صاحب نے بھی اس کی نشاندہی کی ہے۔ ہماری وزیر موسمیات نے ڈاکٹروں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ ایک تصویر بنائی ہے۔ وزیر کی خادمہ نے این۔95 ماسک پہنا

ہوا ہے جبکہ باقی تمام ڈاکٹر صاحبان جنوں نے اس کورونا کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر رہنا ہے عام ماسک میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ہمارے مخیر حضرات بھی ابھی تک مایوس کن رویہ اپنائے ہوے تھے اس لیے وزیراعظم کو خود میڈیا پر آنا پڑا۔ ان کورونا زدہ حالات میں وزیر اعظم کے دربار میں کچھ عوامی گزارشات پیش خدمت ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان سے پہلی عوامی گزارش ہے کہ ہم سب کا ایمان اپنی جگہ مگر تدبیر کے بارے میں بھی قوم کو بتائیں۔ براہ کرم ایک حکمت عملی اپنائیں جس کی بنیادی خاصیت غیر مرکزیت ہونی چاہیے۔ این ڈی ایم اے کا کام اپنی جگہ پر اچھا ہے مگر صوبوں اور بڑے شہروں کی بنیاد پر پیسے، وسائل اور اختیارات کو منتقل کریں تاکہ زمین پر ہوتا کام عوام کو بھی نظر آئے۔ عوام وزیراعظم کی آگاہی اور اس پر خطابات کی داد دیتے ہیں۔ اگر فروری سے حکومت کام کر رہی ہے تو اب اپریل میں کام کرنے کا طریقہ کار اور کام دونوں زمین پر نظر آنے چاہیے۔

اس وقت سب سے بڑا اور اہم کام کورونا متاثرین سے باقی لوگوں کو دور رکھنا ہے۔ اب تک خطرناک علاقوں کی جو نشاندہی ہو چکی اگر ان علاقوں کو مؤثر طریقے سے بندش میں نہ لایا گیا تو یہ وباء پنجاب میں تباہی پھیلا سکتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار اپنی جگہ مگر اصل میں متاثرین کتنے ہیں اور کہاں کہاں ہیں اس کا پتہ نہ وزیر اعظم کو اور نہ ہی خود ان لوگوں کو کوہی خبر ہے۔ اس لیے دو ہفتے کی بندش میں سختی کی اشد ضرورت ہے۔ جو جیسی زبان سمجھتا ہے اسے ویسی انتظامی دوا دی جائے۔ بندش کو ایک قومی فریضہ سمجھ کر سخت اور بے رحم ہونا پڑے گا۔

پاکستان میں کس کے گھر میں کتنی دیر سے چولہا نہیں جلا اور کب سے بچے بھوکے ہیں اس کے بارے میں حکومت کے پاس کوئی پیمانہ نہیں ہے۔ بد ترین حالات کی صورت میں عوام کی بنیادی ضروریات کا تخمینہ لگانے کی ضرورت ہے۔ کیا موجودہ وسائل پر بھروسہ کر کے پیسے یا راشن پہنچانے کی ذمہ داری حکومت پوری نہیں کر سکتی۔ وزیراعظم پاکستان کے پاس پانچ لاکھ کے قریب ٹائیگر فورس موجود ہے جس نے ہر موقع پر قوم کا ساتھ دیا ہے۔ وہ تمام علاقوں سے واقف بھی ہیں اور قدرتی آفات سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی عوام کو ریلیف دینے کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ میری وزیراعظم سے عوامی گزارش ہے کہ ٹائیگر فورس کے بارے میں ذرا دوبارہ غور کرلیں۔

امریکہ جیسے ملک میں بے روزگاری 4.5 ملین پر پہنچ جانے کا امکان ہے۔ ہمارا ملک جو جوان آبادی میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور جہاں پہلے ہی 51 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔ اگر کورونا کی وباء میں تیزی آئی تو یہ بیروزگاری انتہائی سنگین حالات پیدا کر سکتی ہے۔ کیا حکومت کے پاس ان حالات کے لیے کوئی حکمت عملی ہے؟

وزیر اعظم کی کورونا ٹیم اب تک متعدد بار میڈیا کے سامنے آئی ہے جس میں ایک بھی پیشہ ور ڈاکٹر نہیں۔ وزیراعظم صاحب ذرا اپنا کورونا کا طبی حلقہ احباب شوکت خانم اور اسلام آباد سے وسیع کریں۔ ہو سکے تو صحت کی ٹاسک فورس پر نظر ثانی بھی کریں اور برائے کرم کسی پیشہ ور ڈاکٹر کو ان دنوں ساتھ رکھیں جو زمینی حقاہق سے واقف ہو اور جس نے پاکستانی حالات میں خدمات سر انجام دی ہوں۔ وزراء اعلیٰ اور چیف سیکرٹری صاحبان کو بھی ایسا ہی مشورہ دیں۔

وزیراعظم صاحب سے ایک اور عوامی گذارش یہ بھی ہے کہ آئندہ اپنے خطابات میں لاک ڈاؤن کا ذکر کم اور "فیس بک" کا ذکر بالکل ختم کردیں۔ یہ والا طبقہ دو تین ماہ گھر میں گزار لے گا۔ جنکے لیے پورے لاک ڈاؤن کا اعلان نہیں کر رہے ہیں وہ غریب اس وقت بھوکے ہیں۔ اس سے پہلے کہ انسانیت اپنے بھوکے اور ننگے مظاہرے سڑکوں، گلیوں اور چوراہوں پر دکھانا شروع کر دے آپ اپنی حکمت عملی کو زمین پر بچھا دیں۔ یہ قوم کا حق ہے اور آپ کا فرض بھی۔

آخری عوامی گزادش یہ ہے کہ آپ نے انتخابات میں سب ادارے مضبوط کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ملکی ادارے ہمیشہ بحرانوں میں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ اگر ہو سکے تو سب اداروں کو ذمہ داری دیں اور سب کو ساتھ لے کر چلیں۔ یہ طبی ایمرجنسی ہے جنگ نہیں۔ اس دشمن سے کیسے لڑیں گے جو نظر نہیں آتا۔ وزیر اعظم صاحب ہمیں کورونا سے لڑرنا نہیں بچنا ہے۔


ای پیپر