کورونا آئے یا جائے اللہ کو راضی رکھیں
05 اپریل 2020 2020-04-05

آپ کے پاس کتنی جائیداد ہے۔آپ کا بینک بیلنس کتنا ہے۔ آپ کتنی شہرت کے مالک ہیں۔ آپ کی عزت کے چرچے کہاں تک ہیں۔ آپ کے پاس کتنے سوٹ ہیں۔ آپ کے پاس کس برینڈ کے کتنے جوتے ہیں۔ آپ کے پاس کونسے ماڈل کی کتنی گاڑیاں ہیں۔ آپ کے پاس کس برینڈ کے کتنے پرفیوم ہیں۔ آپ کے پاس نایاب نسل کے کتنے گھوڑے ہیں۔ آپ کے کتنے فارم ہائوس ہیں اور ان فارم ہائوسز میں کتنی نسلوں کے نایاب اور بیش قیمت جانور ہیں۔ آپ کے دوستوں کی فہرست میں کون شامل ہے۔ کتنے منسٹرز آپ کے تعلق والے ہیں۔ کتنے بیوروکریٹ آپ کے بہترین دوست ہیں۔ آپ کی فین فولونگ کتنی ہے۔ فیس بک، انسٹا گرام، ٹوئٹر پر آپ کے کتنے فالورز ہیں۔ آپ کی گفتگو کتنی مدلل ہے۔ لوگ آپ کو کتنی توجہ سے پڑھتے ہیں۔ آپ کا گھر کتنا وسیع و عریض ہے۔ اس میں کتنے رنگ اور نسل کے پودے ہیں۔ آپ کے ڈرائنگ روم میں آپ کے ہاتھ سے شکار کیے گئے شیروں کے کتنے مجسمے محفوظ ہیں۔ آپ نے کس نسل کے کتنے ہرن شکار کیے ہیں۔ آپ کی ڈائننگ ٹیبل اٹلی سے امپورٹ کی گئی ہے یا اس کا تعلق ترکی کے شاہی خاندان سے ہے۔ آپ کا بیڈ روم کسی شہنشاہ کی آرام گاہ کا منظر پیش کرتا ہے یا آپ کا ڈرائنگ روم مغلیہ دور کی جھلک دکھاتا ہے۔ آپ کے پردادا کتنے بڑے حاتم طائی تھے۔ آپ کے دادا کتنے بڑے سورما تھے۔ آپ کتنے بڑے چنگیز خان ہیں اور آپ کی اولاد کتنی ذہین و فطین ہے۔ آپ دنیا کے کتنے ملک گھوم چکے ہیں۔ آپ نے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب کتنے چکر لگائے ہیں۔ آپ کے پاسپورٹ پر کتنی ہزار مہریں لگ چکی ہیں۔ دنیا کے کس ملک میں آپ کے کتنے دوست موجود ہیں۔ کتنے لوگ آپ کے ایک اشارے پر اپنی جان قربان کرنے کے لیے حاضر ہو سکتے ہیں۔ دنیا کے کتنے بہترین ڈاکٹرز، سائنس دان آپ کے دوست ہیں۔ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو کتنی دیر میں حل کر سکتے ہیں۔ آپ کی گھڑی میں ہیرے کے بٹن ہیں یا آپ کا کمورڈ سونے سے بنا ہوا ہے۔

آپ کتنے بہترین کالج یا یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔ آپ کتنے کامیاب بزنس مین ہیں۔ آپ کامیاب کاروبار کرنے میں کتنی مہارت رکھتے ہیں۔ آپ مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو وہ سونا ہو جاتی ہے۔ جہاں قدم رکھتے ہیں وہاں خوشحالی آ جاتی ہے۔ آپ کتنے بڑے برینڈ کے مالک ہیں۔ آپ نے کتنی محنت سے یہ برینڈ بنایا اور کامیاب کروایا ہے۔ آپ لوگوں کو بیوقوف بنانے کے ہنر میں کتنی مہارت رکھتے ہیں۔ آپ دنیا کے بہترین پائلٹ ہیں۔ ایتھلیٹ ہیں۔ کھلاڑی ہیں۔ تن ساز ہیں۔ محقق ہیں۔صاحب علم و قلم ہیں۔آپ نے زندگی میں کتنے معاشقے کیے ہیں۔ کتنی عورتیں ایک نظر میں آپ پر دل ہار بیٹھی ہیں یا کسی عورت نے کتنے مردوں کو اپنا گرویدہ کر رکھا ہے۔کتنے لوگ صرف آپ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے سارا دن قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔ کتنے لوگ آپ سے ایک ملاقات کرنے کے لیے جان کی بازی تک لگا جاتے ہیں۔ کتنے لوگ آپ کے ساتھ تصویر اتروانے کے لیے لاکھوں میل کا سفر کر کے آتے ہیں۔ آپ کتنے بڑے آدمی ہیں یا کتنی مشہور خاتون ہیں۔ آپ کتنے ہینڈسم ہیں۔ آپ کی مردانہ وجاہت کتنی پرکشش ہے۔ آپ کتنی حسین و جمیل ہیں۔ آپ کی آنکھیں جھیل کی مانند ہیں۔ آپ کے ہونٹ کتنے رسیلے ہیں۔ آپ کے بال کالے بادلوں کی گھٹاؤں جیسے ہیں۔ آپ کی سمارٹنس اور حسن کے چرچے پوری دنیا میں ہیں۔ آپ سے ملنا بہت سے لوگوں کی زندگی کی آخری خواہش ہے۔

کورونا آنے کے بعد دنیا کے لیے یہ سب کامیابیاں اور خواہشات بے معنی ہو گئی ہیں۔دنیا صرف فکر مند ہے کہ کورونا سے کیسے بچنا ہے۔ یہ اللہ کا نظام ہے اور اللہ ہی بہتر کارساز ہے۔ اپنی زندگیاں اللہ کے حکم کے مطابق گزاریں۔ صرف اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے آپ جو محنت کریں گے اور کامیابی حاصل کریں گے وہ کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔ چاہے کورونا آئے یا جائے۔

ان حالات میں آپ نے آج تک اللہ کے احکامات پر عمل کرنے، اللہ کی مخلوق کو خوش رکھنے،ان کی خدمت کرنے، غریبوں کی امداد کرنے، بے سہارا لوگوں کا سہارا بننے، سفید پوش ضرورت مندوں کے گھر راشن مہیا کرنے،لوگوں کو راہ راست پر آنے کی تلقین کرنے، مشقت کر کے زکوٰۃ کی رقم ان کے اصل حقداروں کے حوالے کرنے، بیوائوں کے سر پر ہاتھ رکھنے، غریب کی بیٹیوں کی شادیاں کروانے، مستحق لوگوں کا مفت علاج کروانے، اللہ کے نام کی محفلیں منعقد کروانے،رشتہ داروں سے صلہ رحمی رکھنے، ہمسائیوں کے حقوق کا خیال رکھنے،بیوی کی ذمہ داریاں پوری کرنے، والدین کے حقوق کا خیال رکھنے، اولاد کی درست تربیت کرنے، رزق حلال کمانے، اچھائی کا حکم دینے، برائی سے روکنے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے، بھٹکے ہووں کو راہ راست پر لانے، مثبت سوچ کو عام کرنے کے لیے اقدامات کرنے، سچ بولنے،سچ کی طاقت کو اجاگر کرنے، جھوٹ سے توبہ کرنے، جھوٹ کے نقصانات سے لوگوں کو آگاہی دینے، منفی معاشرے کا مثبت اپروچ کے ساتھ مقابلہ کرنے، مثبت سوچ کی طاقت کو اصل روح کے ساتھ پیش کرنے، اپنی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرنے، اپنے اور دوسروں کے گناہوں کی تشہیر سے باز آنے،معاشرے کے اصلاح کے لیے گناہ کی پردہ پوشی کرنے، چغلی سے باز آنے، غیبت سے توبہ کرنے،حسد سے بچنے، دوسروں کی خوشی میں خوش اور غم میں غمگین ہوجانے، اپنے جائز مقاصد کے حصول کے لیے ناجائز طریقوں کے استعمال سے بچنے، اللہ کے دین کے پھیلائو کے لیے محنت کرنے، سیرت نبیؐ کو زندگی گزارنے کے لیے مشعل راہ کے طور پر استعمال کرنے، قرآن کے احکامات کوکامیابی کے لیے بہترین فارمولے کے طور پر استعمال کرنے، اپنے ہاتھ اور زبان سے خلق خدا کو محفوظ رکھنے کے لیے کوشش کرنے، اپنے نفس پر قابو رکھنے، اپنی ضرورتیں حلال کاموں کے ذریعے پوری کرنے اور اپنے اہل وعیال، رشتہ داروں، دوستوں اور ملنے والوں کو بھی ان اقدامات پر عمل کرنے کی تلقین کر کے جو کامیابیاں سمیٹی ہیں، وہی باعث اطمینان ہیں۔ وہی باعث خوشی ہیں اور وہی آپ کا اصل اثاثہ ہیں۔


ای پیپر