سیاستدانوں میں اتنا ظرف کہاں !
05 اپریل 2020 2020-04-05

آج کل کورونا وائرس (Corona virus) کی وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں اپنی عوام کی زندگیوں کو بچانے کی خاطر اپنے تمام ذرائع استعمال کرنے میںجتی ہوئی ہیں۔ زیادہ تر ممالک میں تو کوئی مثبت نتائج سامنے نہیںآرہے ما سوائے چین کے۔لیکن ہر ملک کے حکمران اپنے اپنے اندازمیں ہر کوشش بروئے کار لانے میں لگے ہوئے ہیں۔

اس خدائی آفت سے چھٹکارا پانے کے لیے ایک چیز جس کی اہمیت سے کوئی انکاری نہیں ہو سکتا وہ یہ ہے کہ ہر قوم کو یک جان اور یک مشت ہو کر لڑنا ہوگا۔یہی بات ہماری پاکستانی قوم پر بھی لاگو ہو گی۔اس کے لیے ہر قسم کے اختلافات چاہے وہ سیاسی ہوں یا مذہبی ان کو بالائے طاق رکھنا ہو گا، ورنہ اس جنگ میں ناکامی کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑیگی۔اپنی ارض پاک میں بھی یہ وباء بڑی سرعت سے پھیل رہی ہے ا ور ہر روز درجنوں مریض سامنے آ رہے ہیں۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی حکومت بھی کوشاں ہے لیکن اس تباہ کن وباء کا مقابلہ تنہا حکومت کے بس کی بات نظر نہیں آتی۔نہایت خوش آیند محسوس ہوا جب بلاول بھٹو زرداری چیئرمین پیپلز پارٹی نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ اس جنگ میں لیڈ (lead ) کریں ہم ان کا ساتھ دیں گے۔ ایسی ہی باتیں تقریباًٍــتمام اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران نے کیں۔مسلم لیگ (ن ) جو اس ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے کے صدر شہباز شریف نے بھی پاکستان پہنچتے ہی اس جنگ میں حکومت کا ساتھ دینے کی بات کی۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے initiative لیا اور قومی اسمبلی میں موجود تمام سیاسی پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈران سے رابطے کیے ، انھیں دعوت دی کہ سب پارٹیوں کے لیڈران ایک وڈیو لنک ( video link ) کانفرنس کر لیں اور اس قومی وباء سے نبٹنے کی خاطر ایک مشترکہ پالیسی بنا لیں۔اسد قیصر سپیکر قومی اسمبلی بظاہر ایک reasonable آدمی لگتے ہیں( ویسے کسی سیاستدان کی تعریف کرتے ہوئے انسان بے اعتمادی سی محسوس کرتا ہے)۔ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ کاروبار قومی اسمبلی فہم و تفہیم سے چلے اور اسمبلی ہم آہنگی اور یگانگت کے جذبے سے اپنے آئینی فرائض سے عہدہ براء ہو ۔ اسی کارن انھوں نے اپوزیشن کے جیل رفتگان کے وقتاًفوقتاً پروڈکشن آرڈر جاری کرکے ان کے زخموں پر کچھ مرہم رکھنے کی سعی بھی کی۔ بعد میں محسوس ہوا کہ ان کے وزیراعظم کو ان کی یہ ادا کچھ خاص نہ بھائی۔خیر سپیکر قومی اسمبلی کی کوشش سے ایک روز قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈران کی وڈیو لنک کانفرنس کا آغاز ہو گیا۔

حکمران پارٹی کے پارلیمانی لیڈر جناب عمران خان نے اپنی تقریر فرمائی اور یہ جا وہ جا۔اپوزیشن لیڈر جناب شہباز شریف نے اپنا خطاب شروع کیا تو دوران خطاب انہیں محسوس ہوا کہ وزیراعظم تو موجود نہیں ہیں۔تو پھر انھوں نے پوچھا کہ کیا وزیراعظم اس وڈیو کانفرنس میں تشریف رکھتے ہیں یا نہیں ۔ جب انہیں معلوم پڑا کہ وہ تو جا چکے ہیں تو وہ shocked ہوئے اور انھوں نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا۔ پھر اس کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی نے بھی یہی کچھ کیا۔ تو یہ انجام ہواسپیکر صاحب کی بلائی گئی وڈیو لنک کانفرنس کا۔ ظاہر ہے سپیکر صاحب کو خاصی خفگی اٹھانی پڑی ہو گی۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اپنے وزیراعظم کے ایسے behaviour سے تو وہ اکثر و بیشتر ایسی صورت حال کا سامنا کرتے ہونگے۔ بظاہر یہ بہت خوش آئیند ہے کہ کوروناوائرس کی وباء کے آغاز ہی سے تمام اپوزیشن پارٹیوں کا رویہ بہت مثبت رہا، لیکن حکومتی کارکردگی کا کیا کریں، وہ ہر جگہ اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ چین میں اس وباء کے پھیلنے کے بعد اس بات کا اندازہ تو ہر کہہ و مہتر کو ہو چکا تھا کہ اس وباء کا ورود پاکستان میں ہوا سو ہوا۔ لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری حکومت نے ذرا بھر تیاری نہیں کی جس کے لیے ہمیں وقت اور موقع مل گیا تھا۔ ایک تو بدقسمتی سے وزارت صحت وزیراعظم نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے، دوسرے اس وزارت کے لیے وہ حسب روائت ایک مشیر ڈاکٹر ظفر مرزا کسی دوسرے ملک سے ڈھونڈ کر لے آئے ہیں۔ یہ پاکستان سے باہر کسی ملک میں ڈبلیو ایچ او (WHO ) کی نوکری کرتے تھے۔ ان کی کارکردگی ڈینگی کے سیزن میں واضح ہو گئی تھی۔ وزیراعظم کی ناک کے نیچے یعنی راولپنڈی اور اسلام آباد میں ڈینگی کیوجہ سے ریکارڈ اموات ہوئی تھیں۔ میں نے تو اس وقت وزیراعظم سے یہ عرض کی تھی کہ کم از کم اسلام آباد اور پنڈی میں ڈینگی سے مرنے والوں کی نماز جنازہ ہی پڑھ لیا کرٰیں ۔ تفتان کے بارڈر پر ایران سے آے زائرین کی واپسی پر جو mismanagement کی گئی اس کے نتیجے میں تو اپنے ملک میں کورونا وائر س کے floodgates ہی کھل گئے ۔لوگ اس تمام کارکردگی کی ذمہ داری وزیراعظم کے ایک چہتے مشیر اور دوسرے اس سپیشل اسسٹنٹ برائے صحت پر ڈالتے ہیں۔آپ اس سلسلے میں ہانگ کانگ کی مثال کو د یکھیں جنہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جو بھی باہر سے آئیگا اس کی سب سے پہلے سکریننگ کی جائے گی ۔پھر اسے قرنطینہ میں رکھا جائیگا، اور اس سلسلہ میں کوئی استثناء بالکل نہیں ہوگا۔ اور پھر اس ملک میں اس کارکردگی کے نتائج دیکھیں۔سچ پوچھیں موجودہ حکمران ٹیم میں اتنی استطاعت ہی نہیں ہے کہ وہ اتنے بڑے بحران سے عہدہ براء ہو سکیں ۔ اس حکومت نے تو خاصا وقت ملنے کے باوجود ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملے کے لیے حفاظتی لباس اور دیگر ضروری سامان کا بندوبست تک بھی نہیں کیا۔ ڈاکٹرز اور نرسز جنہیں اب فرنٹ لائن فورسز کے خطاب سے بہلایا جا رہا ہے اپنے چہروں پر شاپرز چڑھائے پھرتے ہیں۔ ذہن نشیں رکھیں کہ یہ کوئی عام بحران نہیں ہے بلکہ یہ اس صدی کا سب سے بڑا اور تباہ کن بحران ہے۔ اس نے پوری دنیا کی ہیت ہی تبدیل کر دینی ہے۔خدا را اسے lightly نہ لیں ۔ ہمارے حکمرانوں کے بقول اس ملک کی معیشت تو ابھی ventilator سے اتر کر وارڈ میں آئی ہے۔خدا را تمام سیاسی تعصبات کو ایک سائیڈ پر رکھ دیں اور پورے ملک کی سیاسی قیادت سر جوڑ کر بیٹھے ۔ ساتھ ہی ملک کے تمام معاشی اور انتظامی امور کے ماہرین کو بٹھا کر اس بحران سے نبٹنے کی ایک قومی پالیسی وضع کریں ۔اور پھر اس پالیسی پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی مقرر کی جائے۔ گزرے کل کے اخبار میںسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا بیان چھپا ہوا تھا جس میں انھوں نے کہا کہ کورونا وباء کے پیش نظر ملک کی موجودہ صورت حال میں سیاسی اتحاد وقت کا اہم تقاضا ہے۔ اسی سلسلے میں شہباز شریف اپوزیشن لیڈر نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس روزانہ کی بنیاد پر منعقد کیا جائے، لیکن خانصاحب اپنی نرگسیت میں ڈوبے کسی کو ساتھ لے کر چلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔وہ تو لاک ڈاون کی definition کی باریکیوں میں پڑے ہوئے تھے، یہ تو بھلا ہو ہمارے اداروں کا جنہوں نے تمام صوبوں میں یکساں لاک ڈاون پالیسی کا اجرا ء کراکے قوم کو اس مخمصے سے نکالا۔خانصاحب ہر پریس کانفرنس میں لاک ڈاون کے نتیجے میں نچلے طبقے کی پریشانیوں کا ذکر کرتے تھے لیکن عملی طور پر نچلے طبقے کے لیے وہ جو پالیسیاں سامنے لائے ہیں وہ غریب قوم کے پیسوں کے ضیاع کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔وٹسیپ (Whatsapp) اور Appکے ذریعے جو رقوم لوگوں کے اکاونٹس میں بھیجی جا رہی ہیں اس میں کوئی شفافیت نہیں ہے ۔ کسی کو نہیں معلوم کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لاک ڈاون کے نتیجے میں مزدوری کرنے سے محروم ہو گئے ہیں ۔اس ملک کے سیاستدان اتنے جوگے بھی نہیں کہ وہ قوم کی مشکل گھڑی میں یک مشت اور ایک ٹیم بن کے قوم کو مشکل سے نکالنے میں لگ جائیں ۔ پھر یہ باتیں کرتے ہیں اداروں کو کہ وہ ہمیں چلنے نہیں دیتے۔ بھلا ہو اداروں کا کہ وہ پھر اس مشکل گھڑی میں سامنے آئے ہیں اور اس سے نبٹنے کیلیے انھوں نے ایک خصوصی ادارہ نیشنل کو آرڈی نیشن اینڈ آپریشن سنٹر تشکیل دے دیا ہے جو اس سلسلے میں تمام فیصلے برق رفتاری سے کرنے میں مکمل بااختیار ہو گا۔ اس ادارے کو آپریٹ کرنے کے لیے ایک لیفٹیننٹ جنرل کو نیشنل کو آرڈی نیٹر بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔ آج آرمی چیف جنرل باجوہ وزیر اعظم عمران خان کو وہاں لیکر گئے ہیں تاکہ انہیں اس سلسلے میں بریفنگ دی جائے۔یہ ہیں اس ملک کے سیاستدان۔


ای پیپر