کوئی رحم، کوئی خدا ترسی ہوتی ہے!
05 اپریل 2019 2019-04-05

کتنی سزا، آخر کتنی بڑی سزا ملے گی ہمیں ہماری غلطی کی؟ صرف سات ماہ میں 70 سال کی کسر نکل گئی، کوئی ڈریکولا بھی اتنا خون کیسے پی سکتا ہے ؟

عالیجاہ! حالات کو ضبط تحریر میں لانا کبھی اتنا مشکل نہ تھا، لیکن کیسے لکھوں کہ آپ کے آنے سے غربت و افلاس کی ایسی خزاں چھائی ہے کہ میرے سیکڑوں بھائی مایوسی کے کنوئیں میں ڈوب کر مر چکے، میری کتنی بہنیں اپنے بچوں سمیت نہروں میں کود کر جان دے چکیں، کس طرح بتاؤں میرے بچے جو مہینے میں ایک آدھ بار اچھا کھانا کھالیتے تھے، اب انہیں روکھی سوکھی کبھی ملتی ہے کبھی نہیں ملتی، کیسے سمجھاؤں کہ میرے اندر اپنے ضعیف والدین کی دوائیاں خریدنے کی سکت نہیں رہی، وہ جن کے کندھوں نے ساری زندگی میرا بوجھ اٹھایا، آپ کی کرم نوازی سے آج وہی کندھے مجھے بوجھ لگنے لگے ہیں۔ میں اتنا ٹوٹ چکا ہوں کہ اب تو چھونے سے بکھر جاؤں گا۔

شہنشاہ عالم! آپ تو کہتے تھے، غربت ختم کریں گے، یہاں تو غریب ختم ہونے لگے۔

آپ کہا کرتے تھے، "میں ان کو رلاؤں گا، انہیں تکلیف پہنچاؤں گا" کاش آپ بتا دیتے، آپکے "ان" سے مراد ہم غریب عوام ہیں۔

آپ نے ہمیں بتایا، نوازشریف کرپٹ ہے ، آصف زرداری سب سے بڑا ڈاکو ہے ، ہم نے مان لیا، آپ نے فرمایا، شہباز شریف نے ترقیاتی منصوبوں میں لوٹ مار کی، ہم نے صدقنا کہا۔ لیکن یہ کیا؟ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں نوازشریف پر قومی خزانہ لوٹنے کے الزامات ثابت نہ ہوسکے، شہباز شریف سے متعلق آپ کے ماتحت ادارے رپورٹس دے رہے ہیں کہ پنجاب کے کسی منصوبے میں کرپشن نہیں ہوئی۔ آصف زرداری نے 11 برس قید میں گزارے، پھر نیب نے سارے مقدمات سے بری کردیا، اب پرانی فائلیں دوبارہ کھل رہی ہیں، نئے مقدمات بن رہے ہیں، پہلے کیا ملا جو اب ملے گا؟ محض الزامات لگانے کا فائدہ؟

بادشاہ سلامت! الزامات کا کیا ہے ؟ میں آپ پر لگائے دیتا ہوں، میں کہتا ہوں آپ دنیا کے سب سے کرپٹ انسان ہیں، آپ اربوں روپے کی زکوٰۃ اور صدقے کی رقم ہڑپ کرگئے۔ آپ کی شخصیت اور کردار انتہائی پست ہے ۔ لیکن میرے پاس آپ کے خلاف کوئی ثبوت یا گواہ موجود نہیں، چند سنی سنائی باتیں اور قصے کہانیاں ہیں، جنہیں میرا دل سچ مانتا ہے ، کیا کوئی بھی عدالت، کوئی بھی تحقیقاتی ادارہ میرے دل کی مان لے گا؟؟؟

جہاں پناہ! زمام اقتدار آپ کے ہاتھ میں ہے ، تمام ریاستی ادارے آپ کے ماتحت ہیں، ثابت کریں، جو آپ کہتے تھے وہ سچ تھا، وگرنہ جھوٹے الزام لگانے پر ملزموں اور قوم سے معافی مانگیں۔

قرض اتارنے کیلئے قرض لینے والا حکمران کرپٹ ہوتا ہے ، یہ آپ کہتے تھے، لیکن آپ تو صادق اور امین ہیں، آپ کیوں قرض پر قرض لے رہے ہیں؟ نوازشریف نے جتنا پانچ سال میں قرض لیا، آپ نے پانچ ماہ میں لے لیا، ابھی آئی ایم ایف کے پاس جانا باقی ہے ? پٹرول، بجلی گیس پانی سب پہلے ہی بہت مہنگا ہو چکا، ڈالر آسمان پر روپیہ پاتال کی گہرائیوں میں گم ہوچکا، آئی ایم ایف سے قرض لینے کے بعد مزید کیا کیا ستم ڈھائیں گے؟؟؟ آپ کا فرمان تھا، اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کیلئے حکمران غریب عوام کو ٹیکس کے بوجھ تلے دبا دیتے ہیں، ایک سال میں دو دو بجٹ پیش کرکے جتنے ٹیکس آپ نے لگا دئیے، اس کی نظیر کہاں سے لاؤں؟

مہنگائی میں 60 فیصد اضافہ ہوچکا، ایک دہائی بعد پہلی بار شرح مہنگائی دوہرے ہندسے میں پہنچ گئی، حالات پر گہری نظر رکھنے والے معاشی ماہرین چھ ماہ بعد شرح مہنگائی 20 فیصد سے زائد ہونے کی پیشگوئی کررہے ہیں، ایسا ہوا تو ڈالر 200 روپے کے آس پاس اور پٹرول 150 روپے فی لٹر سے اوپر پہنچ جائے گا، ایک تولہ سونا لاکھ کا ہندسہ پار کر جائے گا۔ مہنگائی کا سونامی غریب کی جھونپڑیاں نگلنے اور سفید پوشوں کا بھرم توڑنے کے بعد امراء کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہوگا۔ آپ کی حکومت ایک کے بعد ایک نیا ریکارڈ اپنے نام کرتی جائے گی، لیکن کیا آپ واقعی اتنے خوش گمان ہیں کہ عوام پھر بھی آپ کو میری طرح بے بسی لاچاری کی تصویر بنے برداشت کرتے رہیں گے؟

سلطان معظم! اپنے مشیر خاص کا کچھ کریں، روز کہتا ہے اگلے تین سال تک مہنگائی، غربت، بے روزگاری مزید بڑھے گی، اس کے بعد حالات ٹھیک کرنا شروع کرینگے، وہ بھی دھیرے دھیرے۔ کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک۔ وہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ، وہ اپنے گھر کا سپنا کیا ہوا؟ وہ فلاحی ریاست کا خواب، وہ ریاست مدینہ کی بنیاد کہاں کھو گئی؟ میرے شہر میں روز انسان بھوک سے مر رہے ہیں، ریاست مدینہ کا داعی اس قتال کا ذمہ اپنے سر کیوں نہیں لیتا؟ میرے شہر میں نہتے شہریوں کو بچوں کے سامنے بھون ڈالا گیا، شہدائے ماڈل ٹاؤن کا انصاف مانگنے والا اپنے دور میں ہونے والے ظلم پر کیوں خاموش ہے ؟ ٹھیک ہے ، 70 برس کا کچرا 7 ماہ میں صاف نہیں ہوسکتا، لیکن جس شعبے نے آپ کو یہاں تک پہنچایا، اسے ٹھیک کرنے میں آپ کو کتنی صدیاں درکار ہیں؟ ملک میں کرکٹ مکمل طور پر بحال نہ ہوسکی، نہ ہو، آپ جب آئے ورلڈ کپ میں ایک سال تھا، لیکن اب ورلڈ کپ میں جس دھوم سے قومی کرکٹ کا جنازہ اٹھنے والا ہے ، وہ دنیا دیکھے گی۔ آپ جس شعبے کو سب سے زیادہ جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں، اگر اسے ٹھیک نہیں کرسکے تو ملک کیسے ٹھیک کریں گے؟

معلوم تو ہو ہماری منزل کیا ہے ، آپ جو بلند و بانگ دعوے کررہے ہیں، وہ پورے کیسے کرینگے؟ ملک کو گروی رکھ کر ملکی مفاد میں پالیسیاں کیسے بنائیں گے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ نے اب تک پرانے منصوبوں پر نئی تختیاں لگانے کے سوا کچھ نہیں کیا، پچاس لاکھ گھروں کیلئے 50 ایکڑ زمین بھی حاصل نہیں کرسکے، لیکن تجاوزات کے نام پر چند ماہ میں ہزاروں خاندانوں کے سر سے چھت چھین لی، لاکھوں افراد کو روزگار سے محروم کردیا، سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت ختم ہونے لگی، اسکول جاتے بچے اسکول چھوڑ کر ننھے منے ہاتھوں سے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

خدارا ظل سبحانی! کوئی رحم ہوتا ہے ، کوئی خدا ترسی ہوتی ہے ، کیا آپ میں ذرہ بھی نہیں؟


ای پیپر