وزیراعظم کے سیاسی مقاصد اور ترقیاتی پیکیج
05 اپریل 2019 2019-04-05

سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر سندھ بھر میں سرگرمی نظر آئی۔پیپلزپارٹی کی اپیل پر تمام علاقوں سے لوگ قافلوں کی شکل میں گڑھی خدابخش پہنچے اور سابق اور پیپلزپارٹی کے بانی کوخراج عقیدت پیش کیا۔پارٹی کارکنوں اور حامیوں کو سرگرم کرنے کے لئے دو ہفتے قبل بلاول بھٹو نے کراچی سے لاڑکانہ تک ٹرین مارچ کیا۔یہ سرگرمی صرف پیپلزپارٹی کی حد تک نہیں تھی۔ سندھ کے اخبارات نے بھی بھٹو پر اداریے لکھے اور بغیر سرکاری سرپرستی کے برسی کے روز تین تین چار چار مضامین بھی شائع کئے۔لگتا ہے کہ بھٹو سیاسی طور پر ابھی بھی زندہ ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت میں سے سابق صدر آصف علی زرداری، فریال تالپور اور دیگر کیخلاف جعلی اکاؤنٹس کیس کا پہلا نیب ریفرنس باقاعدہ سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی محمد حسین سمیت تمام ملزمان کو 19 اپریل کوطلب کرلیا ہے۔ سندھ میں سیاسی سرگرمی اس کے لئے ضروری بھی ہو گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا دورہ سندھ سیاسی اور میڈیٰا حلقوں میں زیر بحث ہے۔’’ وزیراعظم کا کراچی کے لئے کراچی پیکیج کا اعلان ‘‘ کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ وزیراعظم نے دورہ سندھ کے دوران کراچی کے لئے 162 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا۔یہ پیکیج وفاقی حکومت کے اپنے وسائل اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے تیار کیا گیا ہے اس پیکیج میں 18 منصوبے شامل ہیں، جس میں ٹرانسپورٹ کے دس اور واٹر سیوریج کے سات منصوبے ہیں۔ وفاقی حکومت نے کراچی کے چھ اضلاع کے لئے دو سو آر او پلانٹس لگانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ نئی ٹرانسپورٹ اسکیم متعارف کرائی جائے گی جس کے تحت پانچ سو ٹراسپورٹرز کو پانچ سو نئی بسیں خرید کرنے کے لئے قرضہ دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے حیدرآباد میں نئی یونیورسٹی بھی قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی ذمہ داری سندھ حکومت کی ہے۔ سندھ حکومت اندرون سندھ سے انتخابات جیت کر آتی ہے لہٰذا وہ کراچی کے ساتھ بہتر سلوک نہیں کر رہی۔ وزیراعظم نے گھوٹکی ضلع کے خانگڑھ کے مقام پر بھی جلسہ عام سے خطاب کیا لیکن اس ضلع کے لئے کسی ترقیاتی اسکیم کا اعلان نہیں کیا۔

یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں۔مختلف ادوار میں مختلف اضلاع کے لئے سیاسی بنیادوں پر اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے ترقیاتی پیکیجز کے اعلانات کئے

جاتے رہے ہیں۔ کراچی کے لئے اتنے بڑے ترقیاتی پیکیج کا اعلان خوشی کی بات ہے۔ لیکن یہاں وزیراعظم نے کراچی اور سندھ کے باقی اضلاع میں امتیاز برتا ہے۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ وزیراعظم کو پورے سندھ کے لئے وفاق کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے سیاسی اتحادیوں کو خوش کرنے کے لئے پیکیج کا اعلان تو کیا گیا ہے لیکن خانگڑھ میں سیاسی اتحادی جنہوں نے جلسہ عام کا بندوبست بھی کیا، ان کے علاقے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں دیا گیا۔ تھر سمیت صوبے کے مختلف اضلاع کے لئے پیکیج کی امید کی جارہی تھی۔ حیدرآباد کے لئے بھی یونیورسٹی کا اعلان کیا گیا۔ خانگڑھ میں میزبان نے اپنی استقبالیہ تقریر میں گھوٹکی میں موجود 250 تیل کے کنوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود یہ ضلع پسماندہ ہے۔ گھوٹکی کو اور نہیں تو ایک معیاری ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا ہی اعلان کیا جاتا تاکہ مقامی نوجوان فنی تعلیم حاصل کرکے ضلع میں تیل اور گیس کی کمپنیوں میں روزگار حاصل کر پاتے۔ علاقے میں تیل اور گیس نکالنے کا کام کرنے والی کمپنیوں کومقامی لوگوں کو روزگار دینے کا پابند کرنے کا اعلان کرتے۔اگرچہ یہ کمپنیاں سندھ میں ہی کام کررہی ہیں لیکن وہ سندھ انتظامیہ کی ایک بھی نہیں سنتی۔ یہاں تک کہ ان کمپنیوں کی سیکیورٹی بھی وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ ہے۔ البتہ یہ کمپنیاں علاقے کے بعض بااثر افراد کو اپنے ساتھ ملا لیتی ہیں۔ جو اپنے کارندوں کو سکیورٹی میں بھرتی کرا دیتے ہیں۔جن کی مدد سے مقامی لوگوں کی آواز کو دبادیا جاتا ہے۔ یہ کمپنیاں صوبائی انتظامیہ کے بجائے وفاقی صاحب لوگوں کے کہنے پر چلتی ہیں۔ سندھ میں پانی کی کمی اور زراعت پر انحصار کم ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر بیروزگاری ہے۔ اگر تیل اور گیس کمپنیوں میں نوجوانوں کو روزگار دیا جائے تو بڑی حد تک اس بیروزگاری پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے نوجوانوں کی فنی تربیت کا بندوبست کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا وزیراعطم کو سیاسی بنیادوں پر ترقیاتی اعلان کرنے کے بجائے زمینی حقائق کی بنیاد پر منصوبوں کا اعلان کرنا چاہئے۔

سندھ میں نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات شروع ہو چکے ہیں ۔ امتحانات میں نقل کرنے کے واقعات کی خبریں اور ان پر اہل دانش و فکر کی آراء سامنے آرہی ہے۔روزنامہ عبرت لکھتا ہے کہ امتحانات شروع ہوتے ہی پورا سال خاموش رہنے والے دانشور، صحافی، سماجی کارکن خواب خرگوش سے بیدار ہو کر سامنے آ گئے ہیں۔ بیدار بھی ایسے ویسے کہ اچھا بھلا بندہ پاگل ہو جائے۔ سال بھر یہ سب حضرات اتنے بے خبر رہے کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ پورا سال کونسا اسکول اور کالج بند ہے یا کھلا رہا، اور وہاں پر کیا پڑھائی ہوتی رہی؟ اساتذہ اور طلباء کی حاضری کی کیا صورتحال رہی؟ یہ فکر کسی کو نہیں ہوئی۔ جیسے ہی امتحانات قریب آئے ، سب سے پہلے اساتذہ کی تنظیموں کے عہدیداران بیدار ہوئے۔ اپنے من پسند مطالبات کی بوریاں بھر کر سڑکوں پر نکل آئے۔ کہاں کہاں سے پریس کلبوں تک پہنچے، جدوجہد میں تنظیموں کے رہنما تو چھپ گئے، عام اساتذہ پر لاٹھیاں پڑیں۔ بعد میں مطالبات تسلیم کرانے کا ڈرامہ رچا کر اپنی فتح قرار دے کر داد وصول کر رہے ہیں۔ عام آدمی اس صورتحال کا تماشائی ہے، جو کبھی اساتذہ کی حمایت تو کبھی مخالفت کرتا ہے۔ یہ درست کے امتحانات میں نقل ہوتی ہے۔ اور نقل ایک ناسور ہے۔ یہ سب حضرات جو عین امتحانات کے موقع پر چیخ و پکار کرتے ہیں، ان کے پاس سال کے باقی گیارہ ماہ بھی ہیں جب وہ تعلیم کی صورتحال پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ صرف نقل کا رونا امتحانت کے دنوں میں ہی کیوں؟


ای پیپر