ہونہار بِرواکے چکنے چکنے پات!
05 اپریل 2019 2019-04-05

قارئین محترم! ہم سب نے ایک ضرب المثل اکثر سنی اور پڑھی ہے: ’’ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ‘‘۔ اس کا لفظی مطلب یہ ہے کہ جو پودا تناور درخت بننے کے قابل ہوتاہے، اس کی ابتدائی عمر ہی میں اس کے پتے اور شاخیں یہ پتا دے رہی ہوتی ہیں کہ اس میں پھلنے پھولنے اور بڑا ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس کا حقیقی مفہوم یہ ہوتا ہے کہ عظیم شخصیات جوزندگی میں اعلیٰ کارنامے سرانجام دیتی ہیں، ان کا بچپن بھی عظیم ہوتا ہے ۔ آئیے آج ہم ایک ایسی عظیم شخصیت اور مثالی کردار کا تذکرہ پڑھیں جو اس ضرب المثل پر پورے اترتے ہیں۔

آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں جو نظام بھی قائم ہو، اسے تبدیل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اسے جان سے مار ڈالنے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ حقیقی انقلاب تو اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے جاں نثار صحابہ ہی کے ذریعے عمل میںآیا۔حقیقی انقلاب اور تبدیلی کے لیے انسانی سوچ و فکر اور دل و دماغ میں تبدیلی لانا پڑتی ہے۔ نبی پاک کے گرد جو لوگ جمع تھے، وہ سب انتہائی قیمتی ہیرے تھے۔ آپ نے پتھروں اور سنگ ریزوں کے درمیان سے یہ قیمتی موتی اور ہیرے چنے تھے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا تیار کردہ مسلم معاشرہ بڑا پاکیزہ تھا مگر بد قسمتی سے کچھ لوگ اسلام کا اقرار کرتے تھے،لیکن دل سے اسے نہیں مانتے تھے۔ ایسے لوگوں کو منافق کہا جاتا ہے۔ یہ منافق لوگ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ ہجرت کے دوسرے سال نبی پاکؐ جنگِ بدر کے لیے اپنے جاں نثار ساتھیوں کے ساتھ میدان میں چلے گئے۔ اس وقت آپ کی پیاری بیٹی سیدہ رقیہؓ مدینہ میں شدید بیمار تھیں۔ نبی پاک اپنی بیٹی کی اس سخت بیماری کے باوجود جہاد سے پیچھے نہیں رہ سکتے تھے۔ آپ اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے۔ ہر مسلمان اچھی طرح جانتا ہے کہ بدر کا معرکہ بڑا سخت تھا اور یہ کفر و اسلام کے درمیان پہلا معرکہ بھی تھا۔ کافر فوج کی تعداد ایک ہزار تھی اور مسلمان صرف ۳۱۳ تھے۔ اللہ نے اس قلیل تعداد کو اتنے بڑے اور باوسائل لشکر کے مقابلے میں شاندار اور فیصلہ کن فتح عطا فرمائی۔ اللہ نے یوم بدر کو

’’یوم الفرقان‘‘ یعنی کسوٹی اور فیصلے کا دن قرار دیا ہے۔ فتح کے بعد نبی پاکؐ نے اپنے جاں نثار ساتھی حضرت زید بن حارثہؓ کو اپنی تیز رفتار اونٹنی پر سوار کرکے بھیجا کہ وہ اہل مدینہ بالخصوص مسلمان عورتوں، بچوں اور ضعیفوں کو جا کر فتح کی خوش خبری سنا دیں۔ان کے علاوہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو بھی حکم دیا کہ وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر مدینہ جائیں اور بستی کی دوسری جانب سے لوگوں کو فتح کی خوش خبری سنا دیں۔

اللہ کی رضا یہ ہوئی کہ اسی روز نبی پاکؐ کی لختِ جگر حضرت رقیہؓ کا انتقال ہوگیا اور جنت البقیع میں ان کا جنازہ اور تدفین عمل میں لائی گئی۔ منافقین بھی جنازے اور تدفین میں موجود تھے۔ وہ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے کہ ان لوگوں کو عبرت ناک شکست ہوئی ہے، محمدؐ قتل ہوگیا ہے (نعوذ باللہ)۔ وہ دیکھو، زید بن حارثہؓ اس کی اونٹنی بھگا کر اور جان بچا کر چلا آرہا ہے۔ عین اس لمحے حضرت زیدؓ کا ننھا بیٹا اسامہ بن زیدؓ منافقین کی یہ زہر آلود باتیں سن رہا تھا۔ اسے ان باتوں سے بہت دکھ ہوا۔ اسامہؓ عمرمیں چھوٹا تھا مگر اپنے ایمان میں کامل اور عقل و شعور میں بے مثال تھا!

ذرا سوچیے کہ اسامہؓ نے اس وقت کیا کیا ہوگا؟؟ وہ بھاگ کر اپنے باپ کی طرف گیا اور پوچھا: ’’بابا، جنگ کا نتیجہ کیا رہا؟‘‘ باپ نے اپنے پیارے بیٹے کا اشتیاق دیکھ کر کہا: ’’میری جان اللہ نے ہم کو عظیم الشان فتح عطا فرمائی ہے۔‘‘ اسامہؓ نے کہا ’’بابا جان، پھر آپ کے چہرے پر اتنا غم اور پریشانی کیوں ہے؟‘‘ اس ذہین بچے نے باپ کا چہرہ دیکھ کر ان کی کیفیت بھانپ لی تھی۔ باپ نے کہا ’’بیٹا، میں اپنی بہن اور نبی پاکؐ کی پیاری شہزادی کی موت اور تدفین کی خبر پاکر غمزدہ نہ ہوتا تو کیا کرتا۔‘‘ ذہین اور قابل اسامہؓ ساری بات سمجھ گیا اور ان موٹے تازے منافق سرداروں کے پاس آکر ان سے مخاطب ہوا: ’’اللہ کے نبی صحیح سلامت ہیں اور اللہ نے اپنے وعدے کے مطابق ان کو شاندار فتح سے نوازا ہے اور وہ فاتحانہ تشریف لا رہے ہیں۔ تم اسلام دشمن اور منافق ہو۔ میں نے تمھاری تمام باتیں نوٹ کرلی ہیں اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان کو بلاکم و کاست پیش کروں گا۔‘‘چور اور جھوٹ کی طرح منافقین کے بھی پاؤں نہیں ہوتے۔ وہ بزدل اور ڈرپوک ہوتے ہیں۔ انھوں نے اس نو عمر مجاہدِ اسلام سے نرمی اور لجاجت سے کہا: ’’بچے، تم بہت چھوٹے ہو، تمھاری سمجھ میں بات نہیں آئی۔ ہم نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔‘‘ اسامہؓ اسلام کا جوہرِ قابل اور نبی پاک کا محبوب تھا۔ وہ آنحضورؐ کی گود میں کھیلا کرتا تھا۔ اس نے جواب دیا :’’اے اللہ کے دشمنو! میں عمر میں چھوٹا ضرور ہوں مگر میں سب کچھ سمجھتا ہوں۔ اب تم اپنی خیر مناؤ۔‘‘ اسامہؓ نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر ان کو ساری روداد سنادی۔ آپؐ نے اسامہؓ کے سر پر دست شفقت رکھا اور فرمایا: ’’اسامہؓ میرا محبوب اور میرے محبوب کا بیٹا ہے۔‘‘

ہم سب جانتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم جوہرِ قابل کی قدر کرتے تھے اور اسلامی معاشرے اور گھروں میں بچوں کو وہ ماحول میسر تھا کہ ان کی تربیت کا خود بخود اہتمام ہوجاتا تھا۔ صحابہؓ چھوٹی عمر میں بھی اتنے مضبوط اعصاب کے مالک تھے کہ وہ ہر چیز کا ٹھیک انداز میں تجزیہ بھی کر لیتے اور جرات مندی کے ساتھ اس کا مقابلہ بھی کر لیتے تھے۔ اسی اسامہؓ کو بیس سال سے بھی کم عمر میں آپؐ نے ایک بڑے لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا اور شام کی طرف جہاد کے لیے روانہ کر دیا۔ اس فوج میں بڑے جلیل القدر صحابہ بطور سپاہی شامل تھے۔ اسامہ قابل جرنیل تھے۔

اعلیٰ کردار کے مسلمان اللہ اور اس کے رسولؐ کے محبوب ہوتے ہیں۔ ان پر اللہ اور اس کے رسولؐ کی برکات و رحمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں۔ مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ایک مرتبہ ایک نو عمر بچے کو دیکھا تو کسی سے اس کا تعارف پوچھا۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ اسامہ بن زیدؓ کا بیٹا محمد ہے۔ آپ نے اسے قریب بلایا، اس کا ماتھا چوما اور اس سے بہت پیار کیا۔ پھر فرمایا: ’’برخوردار! اللہ کے نبیؐ تمھارے دادا زیدؓ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ پھر تمھارے باپ اسامہؓ سے بھی اسی طرح پیار کرتے، یہاں تک کہ وہ محبوبِ رسول کے نام سے معروف و موسوم ہوگئے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر نبی پاکؐ تم کو دیکھتے تو تم سے بھی اسی طرح محبت فرماتے۔‘‘

بچو! دیکھا آپ نے، خدا کے خوش بخت اور سعادت مند بندے کیسے ہوتے ہیں۔ جو بھی اسلام کا سپاہی بن جائے، وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کا محبوب ہوتا ہے۔ آؤ عہد کریں کہ ہم بھی اپنے قول و عمل سے یہ مرتبہ حاصل کرنے کی جدوجہد کریں گے۔ جو اللہ اور اس کے رسولؐ کو محبوب ہو، اس کی قسمت کا کیا کہنا!


ای پیپر