آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ
05 اپریل 2019 2019-04-05

حکومت کے خزانہ بھر نے کا سلسلہ جاری ہے مگر اس کے لیے غریب عوام کی ’’ خدمات ‘‘ حاصل کی گئی ہیں کہ وہ اپنی محنت مشقت سے جو کماتے ہیں اس میں سے کچھ نہ کچھ دیں گے لہٰذا وہ اشیائے ضروریہ پر آئے روز ٹیکس لگوا لیتے ہیں اور خزانہ بھرنے میں مصروف ہیں۔ حیرت یہ ہے کہ امیروں، جنہوں نے اپنی دولت میں اب تک ہوشربا اضافہ کیا ہے کو نہیں کہا جاتا کہ وہ اپنی کمائی سے کچھ نہ کچھ دے کر قومی فریضہ ادا کریں شاید اس لیے کہ حکمران طبقے کا تعلق بھی ان سے ہے۔ لہٰذا ایک عوام ہی باقی رہ جاتے ہیں سو وہ خزانے کا خیال رکھ رہے ہیں اور اپنی رگوں سے کشید کیا گیا خون بیچ چوراہے میں لے آئے ہیں کہ جسے جتنا چاہیے خریدلے تاکہ وصول کیے گئے داموں کو بالواسطہ و بلا واسطہ سرکار کے ہاتھ دے کر سُر خرو ہو سکیں۔کہا کسی ایک شاعر نے کہ

آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ

جیسے دوہری دھار کا خنجر چلے

غریب عوام کی حالت مسلسل بگڑ رہی ہے ان کے الم و مصائب میں ہر لمحہ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے وہ ٹیکسوں پے ٹیکس دے دے کر نڈھال و بے حال ہو چکے ہیں اور حکومتی عہدیدار انہیں صبر کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ کہ وہ بس دو برس ایسے تیسے گزاریں اس کے بعد انہیں معطر ہوا کے جھونکے آتے جاتے محسوس ہوں کے چاندنی ہر سو بکھری ہو گی قمریوں کی سریلی آوازیں ان کے کانوں میں رس گھول رہی ہوں گی اور دُکھوں کی چادر لپیٹی جا چکی ہو گی؟

اس وقت مگر عوام اپنا زندگی بھر کا سرمایہ لٹا چکے ہوں گے ان پر حکمرانی کے ہاتھ کی گرفت مضبوط ہو چکی ہو گی انہیں گھائل کر کے مجبور و محکوم کے آخری درجے تک پہنچا دیا جا چکا ہو گا اور پھر انہیں ضروریات زندگی کی کوئی خواہش نہیں رہے گی؟

ارباب اختیار سے پوچھنے والا کوئی نہیں کہ وہ عوام سے وہ خسارہ بھی پورا کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے کیا ہی نہیں وہ جو بیٹھے بٹھائے اربوں کھربوں کا ہیر پھیر کرتے رہے۔ ان سے حساب مانگا جانا چاہیے۔ عوام کی غالب

اکثریت اپنا پیٹ اپنی محنت سے حاصل کی گئی کمائی سے روٹی خرید کر بھرتی ہے۔ مگر امیروں کی طرح اسے سارے لوازمات میسر نہیں۔ ان سے کیوں نقصان کا اذالہ کیا جائے۔ چونکہ وہ بے بس ہیں لہٰذا ان پر ہی حکومت کا بس چلتا ہے۔ موجیں اڑانے والوں کی جانب کوئی ایک آنکھ بھی نہیں دیکھتا ان کی دنیا ہی الگ ہے جو حسیں ہے غم و فکر سے آزاد۔ کبھی کبھی ’ قلم دوست‘ کے پروگراموں میں کسی کلب یا بڑے ہوٹل میں جانا ہوتا ہے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ وہ لوگ ہی مختلف ہیں ان کے چہرے چمک دمک رہے ہوتے ہیں۔ لباس ایسا کہ جسے کوئی غریب نئی نویلی دلہن۔ اور یہ سارا پیسا عوام کا ہے جس سے طاقتور اور عیار طبقہ مستفید ہوتا ہے۔ ان سے کہا جانا چاہیے تھا کہ وہ مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کریں۔ اور وہ جو قابل احتساب ہیں سے لوٹی ہوئی دولت وصول کی جاتی مگر انہیں عدالتوں کے حوالے کر دیا گیا جہاں قانون کو وہ نہایت ہوشیاری سے نرم و ملائم بنانے میں جُت گئے۔ اب شاید وہ بھی اپنی اداسی کو مسکراہٹوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ موسم بدل رہا ہے۔حالات کے چلتے جھکڑ بند ہونے لگے ہیں لہٰذا معمول کی ہوائیں ہوں گی اور پپلی دے تھلے منجیاں ڈا کے ہس کھیڈنے آغاز ہو جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ عوام اس منظر کو قبول کر لیں گے۔

یہ تو آنے والے دنوں میں ہی معلوم ہو سکے گا کہ کیا ہوتا ہے اور کیا نہیں ہوتا۔ مگر اب جو ہو رہا ہے اس سے عام آدمی پریشان ہو گیا ہے اسے موجودہ حکومت سے کوئی امید باقی نہیں رہی کہ وہ اس کے مسائل کو حل کرے گی ریاست کا کردار متزلزل ہے وہ اب بھی ان کے مسائل میں دلچسپی نہیں لے رہی اسے کوئی فکر نہیں کہ عوام کس حال میں ہیں انہیں اس سے باہر لانے کے لیے کوششوں کو تیز تر کرنا ہے وہ گھوڑے بیچ کر سو رہی ہے۔ سبھی ادارے اپنے حوالے ہی سے سوچ رہے ہیں ملک کا وہ حصہ جو مزدوروں محنت کشوں اور کسانوں پر مشتمل ہے اور تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے کے بارے میں بھی کوئی منصوبہ بندی کی جائے۔ اب تو یہ آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں کہ اگر عمران خان کو حکمرانی کی کوئی سمجھ نہیں آ رہی تو اسے گھر چلے جانا چاہیے۔ کیونکہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ وہ شعوری اعتبار سے کمزور ہیں انہیں کہ جو کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کر پا رہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ وہ اقتدار سے الگ ہو جائیں۔ مگر اس سے سیاسی بحران نہیں بیدار ہو جائے گا؟

ایسا ہو سکتا ہے تاہم اگر وہ غیر موافق پالیسیوں پر عمل پیرا رہتے ہیں تو ’’ عوامی بحران ‘‘ بھی جنم لے سکتا ہے جو خراب معیشت کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ لہٰذا جو لوگ عمران خان کو انمول مشوروں سے نواز رہے ہیں تو انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ جو حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں اس سے عوام کے ذہنوں میں جنم لینے والا آتش فشاں ابل سکتا ہے۔ وہ اپنے مفادات کی خاطر عوام کے جذبات اور ان کے مسائل سے چشم پوشی نہ کریں آخر وہ کب تک بھوکے ننگے رہ سکتے ہیں اور کسمپرسی کی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ یہ سب کیا ہے کہ حکمرانی بھی وہی طبقہ اشرافیہ کرے اور مزے بھی وہی لوٹے۔ عوام تو غلام ہوئے جنہیں اس کے لیے زندہ رہنا ہے اگر ایسا نہیں تو کیوں ایک طرف زر کے انبار ہیں اور دوسری جانب کچھ بھی نہیں ویرانے ہی ویرانے ہیں۔

اہل اختیار و اقتدار نہیں جانتے کہ آخر کار تغیر و تبدیل کی آندھیوں کو چلنا ہے۔

لہٰذا یہ نہیں ہو سکتا کہ مفلوک الحالوں کو اسی طرح جینا ہے وہ ضرور خوشحال ہوں گے مگر جب وہ آسائشوں سے پر زندگی سے ہمکنار ہوں گے تو طبقہ اشرافیہ عیش و عشرت کے خواب آ گیں دور سے محروم ہو جائے گا۔ شاید آج جو عوام کے ساتھ کیا جا رہاہے اس کے خوف سے ہی ہے؟

بہر حال یہ تاثر عام ہے کہ امراء نہیں چاہتے کہ لوگوں کو بنیادی حقوق حاصل ہوں اور ایک مساوات کا نظام قائم ہو لہٰذا عوام کو خود اپنی شناخت کرانا ہو گی ایوانوں میں جانے کے لیے جدو جہد کرنا ہو گی ۔حرف آخر یہ کہ عمران خان کو چاہیے کہ وہ اگر عوام کی بھلائی چاہتے ہیں تو صورت حال کا بنظر غائر جائزہ لیں اور کسی بحران کو پیدا ہونے سے روکیں ان کا یہ بائیس کروڑ عوام پر بہت بڑا احسان ہو گا۔!


ای پیپر