پیر صاحب کے دیئے بیس روپے مجید نظامی کا دیا نوٹ اور۔۔۔ ؟!
05 اپریل 2019 2019-04-05

ہر جمعرات ۔۔۔ میانی صاحب قبرستان میں دس بجے دوپہر ۔۔۔ ہم اپنے باس شوکت نواز پیر زادہ کے ساتھ بڑے اہتمام کے ساتھ جاتے ۔۔۔ جہاں پیر صاحب کی والدہ دفن تھیں۔ وہاں وہ خود اپنے ہاتھوں سے صفائی کرتے ۔۔۔ پھول پیش کرتے پھولوں کی چادر احترام کے ساتھ پھیلاتے دعا کرتے اور سفرپر جاتے ہوئے لطائف، تازہ اخباری خبروں پر تبصروں اور شرارت بازی میں گزرتا واپسی پر وہ سفر خاموشی سے سٹارٹ ہوتا ۔۔۔ پیر صاحب کی آنکھوں میں آنسو تیرتے اور ماں کی جدائی اور ماں کی محبت دل میں لیئے ہم لوٹ آتے ۔۔۔ میں نے پیر صاحب سے پوچھا ۔۔۔ ’’بابا جی ۔۔۔ کبھی ناغہ نہیں کیا آپ نے ۔۔۔ یہ کام مینہ بارش ہو، تپتی دوپہر ہو آپ نے ہر حال میں ہر جمعرات کو کرنا ہی ہوتا ہے۔ ہم سب اپنی ماں سے شدید محبت کرتے ہیں لیکن یہ طویل عرصہ سے ریگولر حاضری جناب کا ہی طرۂ امتیاز ہے۔ پیر صاحب عینک اتارتے آنکھوں میں تیرتے آنسو صاف کرتے اور آہستہ سے کہتے ۔۔۔

’’مظفر ۔۔۔ میری ماں کو میری زندگی میں پیرو مرشد کا درجہ حاصل ہے اور میں اپنے پیر کے حضور محبت عقیدت اور احترام کے ساتھ پیش ہونا باعث سعادت سمجھتا ہوں ۔۔۔ ؟؟ ’’میں اپنے پیر کا احترام بھی کرتا ہوں اور محبت بھی ‘‘(میں بڑ بڑایا) ۔۔۔

پیر تو وہی ہوتا ہے ناں جو دلوں پر حکومت کرے یہ ہمارے ہاں رائج اِک قانون ہے اور سب سے بڑا پیر اس جہاں میں ماں ہی ہو سکتی ہے ۔۔۔! یا وہ رشتہ جو لالچ دنیا داری جیسی چیزوں سے پاک ہو۔۔۔؟

ہم واپسی پر اچھرہ سے گزررہے تھے کہ پیر صاحب نے مجھے گاڑی روکنے کو کہا ۔۔۔ اِک بڑا سا سٹور تھا جہاں خوبصورت لائٹیں تھیں، خوبصورت مختلف رنگوں کے گلوب تھے، قمقمے تھے جگمگاتی روشنیوں کا اِک جہاں تھا اس بڑی سی دکان میں ۔۔۔ پیر صاحب نے اپنے گھر کے مین گیٹ کے لیئے دو گلوب طلب کئے ۔۔۔ دوکان کا مالک اور اِک سیل مین آگے آئے اور انہوں نے ہمیں مختلف الماریوں سے نکال کر نہایت خوبصورت گلوب دکھانے شروع کیئے ۔۔۔ اِس دوران ایک چالیس سال کی نہایت باوقار خاتون آگے بڑھیں ۔۔۔ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اُن کو روکا اور ہمیں گلوب دکھانے لگیں ۔۔۔ اس دوران اُن خاتون نے کہا ۔۔۔ ’’اگر یہ آپ کو پسند نہ ہوں تو آپ چھوڑ دیں آپ اپنا ایڈریس مجھے دیں جائیں میں آج رات کی فلائٹ سے انگلینڈ جا رہی ہوں وہاں سے واپسی پر میں چائنہ جاؤں گی ۔۔۔ میں آپ کے لئے نہایت خوبصورت گلوب لے کر آؤں گی ۔۔۔؟؟!!

’’ویسے بائی دا وے ۔۔۔ آپ ا ب تک کہاں تھے ۔۔۔؟!!‘‘ خاتون نے مجھے مخاطب کر کے پوچھا۔۔۔

جی ۔۔۔ میں اِسی شہر میں تھا ۔۔۔؟!! لیکن آپ سے میرا تعارف نہیں ہے ۔۔۔؟؟!! میں نے آپ کو پہچانا نہیں ۔۔۔؟!! میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا ۔۔۔ پیر صاحب او رمیرے دوست اسلم سپرا بھی منہ تکنے لگے۔۔۔!

اِس دوران ہمیں جو س پیش کیا گیا ۔۔۔ جس میں مہمان نوازی سے زیادہ محبت جھلک رہی تھی ۔۔۔

خاتون نے نہایت محبت سے دو نہایت خوبصورت گلوب نکال کر پیک کر کے دیئے اور اُن پر لکھی قیمت سے آدھے پیسے لیئے اور نہایت تپاک سے ہمیں رخصت کیا ۔۔۔ جب ہم سٹور سے نکلنے لگے تو وہ میرے پاس آئیں اور محبت سے بولیں ۔۔۔!

’’میں نے اپنا انگلینڈ جانے کا فیصلہ مؤ خرکر دیا ہے۔ آپ اپنا فون نمبر دے دیں تاکہ رابطہ رہے۔ مجھے آپ سے کچھ بہت ضروری معاملات Discuss کرنا ہیں ۔۔۔؟!!!‘‘

میں نے اپنا موبائل نمبر خاتون کو پیش کیااور گاڑی میں جاکر بیٹھ گیا۔ پیر صاحب مجھے معنی خیز نظروں سے دیکھ رہے تھے اور اسلم سپرا صاحب کی نظروں میں شرارت بھی تھی لیکن سنجیدگی اس سے بھی کہیں زیادہ تھی ۔۔۔!!

ہم اپنے اپنے گھروں میں گئے ۔۔۔ اور سارا راستہ میں یہی سوچتا رہا کہ یہ سب کیا ماجرا ہے یہ خاتون کون تھیں باقی تو ٹھیک ہے لیکن اِس خاتون نے مجھ سے میرا نمبر کیوں طلب کیا ۔۔۔ پھر ملنے کا وعدہ کیا ۔۔۔ بہت سی باتیں Discuss کرنے کا عندیہ بھی دیا اور سب سے بڑھ کر جو بات ۔۔۔ جو مجھے خوفزدہ کر رہی تھی اُس نے کہا کہ میں اپنا انگلینڈ آج رات جانے کا پروگرام Cancel کر رہی ہوں ۔۔۔؟!!

اب مجھے اُس کے فون کا انتظار تھا ۔۔۔ ہر آنے والی کال پر مجھے اُس کی پر سُوز آواز سننے کی خواہش ہو رہی تھی تجسس اس کے علاوہ تھا۔ اگلی شام پیر صاحب کا فون آیا ۔۔۔ ادھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعدمحبت سے مسکراتے ہوئے بولے۔

’’مظفر ۔۔۔ روشنیوں کے شہر سے کوئی فون کال آئی ۔۔۔؟؟!!!‘‘ میری ہنسی نکل گئی ۔۔۔

’’نہیں سر کوئی فون کال نہیں آئی ۔۔۔ نو رابطہ‘‘۔۔۔

پھر سے جمعرات کی صبح پیر صاحب کا فون آیا ۔۔۔ ہاں مظفر تیار ہو ناں والدہ کی قبر پر جانا ہے دس ۔۔۔ ساڑھے دس بجے ۔۔۔؟!!

’’جی میں حاضر‘‘

حسب معمول ہم پیر صاحب کی والدہ کی قبر پر گئے انہوں نے وہاں صفائی کی ۔۔۔ پھول چڑھائے دعا کی اور ہم سب حسب دستور خاموشی سے واپس چل پڑے ۔۔۔

اچانک پیر صاحب بولے ۔۔۔ ’’مظفر گاڑی روشنیوں کے شہر کے باہر روک لینا ۔۔۔ وہ گلوب میں نے ’’ڈکی‘‘ میں رکھے ہیں وہ گھر والوں کو پسند نہیں آئے وہ واپس کرنے ہیں ۔۔۔!!

ہم سب پھر اُس لائٹ سٹور میں داخل ہوئے سیل مین صفائی کر رہا تھا ۔۔۔ مٹی دھول اُڑ رہی تھی وہ چکا چوند نہ تھی ۔۔۔ اس سے پہلے ہم کچھ بولتے ۔۔۔ وہ سیل میں بول پڑا۔۔۔

’’ صاحب جی ۔۔۔ بی بی جی ہماری مالکن تھیں پچھلی جمعرات آپ جب یہ گلوب خرید کر نکلے تو دس منٹ بعد بی بی جی نے اپنے شو ہر سے کہا ۔۔۔ کہ یہ میری ٹکٹ واپس کر دیں میں رات کی فلائٹ سے انگلینڈ نہیں جاؤں گی ۔۔۔!!

اُس کے ساتھ ہی وہ دوکان میں پڑے بینچ پر کراہتے ہوئے لیٹ گئیں اور اِس سے پہلے کہ ہم اُنہیں 1122 میں بٹھا کر لے جاتے ۔۔۔ وہ اللہ کو پیاری ہو گئیں ۔۔۔ ؟؟!!

دوکان چھ دن بند رہی ۔۔۔ ان کے شوہر اب بھی ہسپتال میں داخل ہیں ۔۔۔ ہم نے افسوس کا اظہار کیا اور سر جھکائے باہر نکل رہے تھے ۔۔۔ کہ ملازم نے ہاتھ ملاتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور آنسوؤں سے تر آنکھوں سے مجھے محبت سے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔؟

’’مظفر صاحب جب بی بی جی فوت ہوئیں تو اُن کی دائیں مٹھی سے یہ کاغذ چڑ مڑ ہوا زمین پر گر گیا ۔۔۔ میں نے آپ کی امانت سمجھ کر محفوظ کر لیا تھا ۔۔۔ یہ اپنی امانت رکھ لیں ۔۔۔؟!!! اُس نے میرے ہاتھ سے لکھی وہ پرچی مجھے تھما دی ۔۔۔ جس پر میں نے اپنا نمبر لکھ کر پچھلی جمعرات اس معزز خاتون کو دیا تھا ۔۔۔

میں نے وہ پرچی اپنے پرس میں رکھ لی ۔۔۔ جس میں مجید نظامی صاحب کا دیا ہوا اِک سو کا نوٹ اور میرے پیر صاحب کے دیئے ہوئے بیس روپے پہلے سے محبت کے ساتھ محفوظ ہیں ۔۔۔!!!!


ای پیپر