تبدیلی جان لیوا ثابت ہو گی!
05 اپریل 2019 2019-04-05

وہ کیا کرتا؟ وہ نہایت گھناؤنا کام کرتا۔ سارا دن اسی تاک میں رہتا کہ آج کون عدم سدھارا ہے۔ پھر وہ کیا کرتا؟ وہ رات گئے قبرستان جاتا۔۔۔ وحشی بن کر قبر کھود ڈالتا۔ مردے کو باہر نکالتا۔۔۔ اس کا کفن اتارتا۔ پھر مرد ے کو اسی برہنگی کی حالت میں لحد میں اتار دیتا اور لحد کو مٹی سے ڈھانپ دیتا۔ بازار جاتا اونے پونے داموں کفن فروخت کر دیتا اور ان پیسوں سے ضروریات زندگی کی گاڑی کو رواں دواں رکھنے کی بھونڈی سی کوشش کرتا۔ وقت گزرتا گیا۔ لوگوں کو اس کی اس قبیح عادت کا بخوبی اندازہ ہوہو گیا۔ بہت سے بڑوں ، بزرگوں نے اسے طعن و تشیع سے بھی آشنا کیا۔ اس برے کام سے منع کرنے کے لیے کئی حربے بھی استعمال کیے۔ مگر ہو باز نہ آیا۔ وقت اپنی رفتار کے ساتھ ساتھ اپنے محور پر گھومتا رہااور وہ نزع کی حالت کو پہنچ گیا۔ جب اسے اپنا وقت قریب نظر آنے لگا تو اس نے اپنی اولاد کو اپنے گرد جمع کیا اور کہنے لگا کہ دنیا میں وہ کام کرنا ہے جس سے تمہارے باپ کا نام زندہ رہے۔ لوگ تمہارے باپ کو یاد کرتے رہیں۔ بچے بہت پریشان ہوئے کہ ابا نے ایسا کون سا کام کیا ہے؟ جس کی وجہ سے اس کا حسب ونسب زندہ رہے۔ اور ایسا کون سا کام کریں کہ ابا حضور کا نام زندہ رہ سکے۔ اسی کشا کش میں ابا حضور عدم کی طرف کوچ کر گئے۔ ابا کے جانے کے بعد تمام اولاد بڑی پریشان رہنے لگی کہ ابا کی نصیحت پر کیسے اور کیا عمل کیا جائے؟ کونسا ایسا کام کیا جائے کہ ابا کا نام روشن رہے رخ زیبا لیکر کونسا چراغ ڈھانڈا جائے جو ابا کے نام کو روشن کرنے کے لیے جلایا جائے؟ بڑے بیٹے کے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور اس نے وہ ترکیب باقی بہن بھائیوں کو بتا کر پریشانی کی حالت سے نکال دیا۔ بڑا بیٹا دیکھتا کہ آج کون فوت ہوا ہے؟ رات کو قبرستان جاتا مردے کا کفن اتارتا اور برہنہ مردے کو اس کے وارثان کے دروازے کے ساتھ لا کھڑا کرتا۔ چند دنوں میں یہ بات آس پاس پھیل گئی اور لوگ اس مکروہ شخص کو تلاش کرنے نکل کھڑے ہوئے۔ آخر ایک دن وہ شخص پکڑا گیا۔ چھان بین کے بعد پتہ چلا کہ اس کا باپ بھی کفن چور تھا۔ کافی سرزنش اور سزا کے عمل سے وہ شخص گزرا مگر باز نہ آیا۔ لوگ اس کی اس عادت سے تھک ہار گئے۔ اور بر ملا یہ بات کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اس سے تو اس کا باپ کئی درجے اچھا تھا۔ جو صرف کفن ہی اتارتا تھا اور مردے کو تکلیف نہیں دیتا تھا اور نہ ہی اس کے کفن چور ی کے عمل سے گھر والوں کو انتہائی دلی اور ذہنی تکلیف سے گزرنا پڑتا تھا۔

مجھے عمران خان کی ساری تقریروں کے خلاصے اور متن ازبر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا ۔جب مہنگائی بڑھ جائے تو سمجھ لینا کہ حکمران کرپٹ ہیں۔ اسد عمر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب ہماری حکومت آئے گی تو پٹرول 46 روپے لیٹر ہو جائے گا۔ دعوے سارے کے سارے دھرے رہ گئے۔ پٹرول بڑھا، گیس بڑھی، بجلی بڑھی،اشیائے خوردونوش میں اضافہ ہوا اور سب سے دل گرفتہ بات کہ ادویات میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ جو عوام پہلے ادویات کے بغیر مرتی تھی۔ اب ادویات کھا کر مرنے لگی ہے۔ یعنی نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ اگر سابق حکومت کرپٹ تھی اور اس حکومت نے ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا تھا تو اس میں عوام کا کیا قصور ہے؟ عوام تو اس وقت بھی غربت اور مہنگائی کی چکی میں پس رہی تھی۔ اگر موٹروے، ریڈیو اسٹیشن ٹیلی ویژن اسٹیشن گروی رکھ کر قرض لیا گیا تھا تو اس میں 20 کروڑ عوام کا کیا قصور ہے؟ اگر ایئر پورٹ گروی رکھ کر قرضہ لیا گیا تو غریب عوام کو کیا فائدہ ہوا تھا ؟ اگر پاکستان کو پانچ سالوں میں 37 بلین ڈالر واپس کرتا ہیں اور اس سال واپس کی جانے والے رقم 9 بلین ڈالر ہے اور اسی سال اس رقم پر 1700 ملین ڈالر سود بھی ادا کرنا ہے۔ تو اس میں عوام کا کیا قصور ہے؟ پٹرول، گیس اور دیگر ضروریات زندگی ہی اشیاء میں بے تحاشا اضافہ کر کے یہ رقم واپس کرنی ہے جو سابق حکومتوں اور موجودہ حکومت میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ انہوں نے بھی عوام کا خون نچوڑا اور یہ بھی عوام کو خون کے گھونٹ پینے پر مجبور کر رہے ہیں۔ سابق حکومت عوام کا کفن اتارتی رہی اور موجودہ حکومت کفن اتارنے کے ساتھ ساتھ مردوں کو ذلیل و خوار کر رہی ہے۔ عوا م کو عمران خان کی سادگی اور کفایت شعاری سے کیا غرض ؟ عوام کو اس بات سے کیا لینا دینا کہ کس مل کا وزیر اعظم سائیکل پر دفتر جا رہا ہے؟ اس کو تو اپنی سہولتوں سے غرض ہے کہ روٹی مل رہی ہے۔ پہننے کے لیے کپڑا ہے۔ بجلی گیس آ ٹا ہے۔ پٹرول سستا ہے۔ ادویات ایک نمبر اور سستی مل رہی ہیں۔ بچوں کی صحت اچھی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے بچوں کے پاس سکول ہیں۔ افراد کی متاشرے میں عزت ہے۔ معاشرہ قتل و غارت سے پاک ہے۔ ملک میں آئین اور قوانین کی اجارہ داری ہے۔ ادارے اپنے فرائض کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ عام انسان کو ریلیف مل رہا ہے۔ لوگوں کو انصاف مل رہا ہے۔ حقوق و فرائض کی پابندی ہو رہی ہے۔ عوام اپنے فرائض کو سمجھ رہی ہے۔ عوام ملک کے آئین و قانون کی پابندی کر رہی ہے۔ عوام کو ملاوٹ سے پاک اشیاء مل رہی ہیں۔ زراعت اور صنعت ترقی کی طرف گامزن ہے۔ سرمایہ دار سرمایہ لگانے کو راضی ہے۔ مزدوروں کا کوئی پرسان حال ہے؟ وزیر اعظم یا دیگر وزیروں مشیروں پر لڑنے والی بیرونی اور اندرونی افتاد پر عوام کو وکئی سروکار نہیں ہے۔ عوام نے ہر حکمران کی آواز پر لبیک کہا کہ شاید یہ ہماری قسمت بدل دے گا۔ مگر ایسا کچھ ممکن نہ ہو سکا۔ اگر عمران خان اور اس کی ایسے ہی مہنگائی بم گراتی رہی اور عوام کو مہنگائی کی چکی کے دو پاٹوں میں پیستی رہی تو وہ دن دور نہیں جب یہ تبدیلی عوام کے لیے جان لیوا ثابت ہو گی اور عمران خان کا یہ دور آخری دور حکومت ثابت ہو گا۔ جو عوام عمران کان کے تبدیلی کے نعرے پر لبیک کہہ سکتی وہ عوام عمران خان کو چار شانے چت بھی گراسکتی ہے۔


ای پیپر