نئی صف بندی کے اشارے۔۔۔
05 اپریل 2019 2019-04-05

وزیر خزانہ اسد عمر نے اب دو ٹوک بات کہہ دی ہے کہ ادائیگیوں کے توازن کیلئے 2 آپشنز ہیں، ملک دیوالیہ ہوجائے اور دوسرا آئی ایم ایف کا پروگرام لے لیں۔ اگر دیوالیہ ہوتے ہیں تو پاکستانی روپے کی قدر بہت کم ہو جائے گی ۔ جبکہ آئی ایم ایف کے پاس جا نے اور اصلاحات کا مطلب لوگوں کو ملنے والی سہولیات کم کی جائیں گی۔ وزیر خزانہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہے ۔

تیل گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے پورے ملک کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ نتیجے میں ٹرانسپورٹ سے لیکر اشیائے خوردنی و عام استعمال تک کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ اب مارکیٹ میں کسی بھی چیز کی کوئی ایک قیمت باقی نہیں رہی۔ مصنوعات بنانے والے سے لیکر تھوک تاجروں تک اور نچلی سطح کے چھوٹے دکاندار تک ہر ایک اپنے حصے کی قیمت بڑھا رہا ہے ۔ ہمارے ملک میں غریب طبقہ ویسے بھی کسی حساب میں نہیں ہوتا۔ اب یہ دباؤ درمیانی طبقہ بھی محسوس کر رہا ہے۔ تحریک انصاف نے متوسط طبقے کو پرکشش نعروں کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کر کے قبولیت حاصل کی۔ لیکن اب حکمران جماعت کی پالیسیاں ثابت کر رہی ہیں کہ تحریک انصاف دراصل کن طبقات کی نمائندہ جماعت ہے۔ متوسط طبقہ زیادہ متحرک طبقہ ہوتا ہے، اور کسی بھی تبدیلی کے لئے سرگرم اور پرجوش کردار ادا کرتا ہے۔ یہ طبقہ اوپر جانا چاہتا ہے۔ وہ حکومتی پالیسیوں کا اثر بھی جلد لیتا ہے، کیونکہ مختلف فیصلوں یا پالیسیوں کی وجہ سے ان پر اثر بھی براہ راست پڑتا ہے۔ وہ خود کو نیچے جاتا ہوا دیکھ کر متحرک ہو جاتا ہے۔ حال ہی توانائی کے شعبے سے متعلق مختلف مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے عالمی مارکیٹ کے اسباب نہیں۔ بلکہ ان کے پیچھے ملکی سرکاری و نجی کمپنیوں اور آئی ایم ایف کا دباؤ ہے۔ ان کمپنیوں کے منافع میں اضافہ یا سرکاری شعبے میں چلنے والی کمپنیوں کی خراب کارکردگی خسارے کے بنیادی اسباب ہیں۔یوں سرکاری کمپنیوں کی نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈالا جارہا ہے۔ بڑی وجہ خود حکومت کا مالی مفاد ہے۔ ایف بی آر ٹیکس وصولی کامقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ نتیجے میں حکومت کا مالی خسارہ بڑھ گیا۔ اس رقم کی کسی اور شعبے سے وصولی یقینی نہیں۔لہٰذا آسان ترکیب نکالی گئی۔ اس اضافے سے براہ راست بھی حکومت کی آمدن یقینی ہوگی اور یہ بھی کہ اضافی رقم پر اضافی ٹیکس کے طور پر بھی حکومت کو رقم ملے گی۔ یہ حکوت کی جارحانہ پالیسی ہے۔ امیروں پر ٹیکس لگانا نہیں چاہتے لہٰذا گیس بجلی اور تیل پر ٹیکس لگا دیا اب تو وفاقی وزیر برائے قومی ادارہ صحت عامر محمود کیانی نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا اعتراف کرلیا ہے ۔

ملک کی مالی صورتحال مزید خراب ہونے والی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح

خطے میں سب سے کم اور مہنگائی میں اضافہ ہونے کی پیشگوئی کردی۔بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ترقی کی شرح اس سال کم اور اگلے سال مزید کم ہوگی 2019ء میں شرح نمو خطے کی کم ترین 3.9فیصد رہے گی جبکہ 2020ء میں 3.6 فیصد ہوگی، مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔بینک کی سالانہ رپورٹ کے مطابق خطے میں بھارت کی شرح نمو 7.2 فیصد جبکہ چین کی 6.3 فیصد رہے گی۔ حکومت اگرچہ اپوزیشن کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہی ہے۔لیکن عملی طور پر یہ نظر آرہا ہے کہ اب احتساب کے ڈھول میں اتنی ہوا نہیں کہ وہ مزید بجایا جاسکے یا اس پر لوگ متوجہ ہوپائیں۔ زمینی حقائق مختلف بنتے جارہے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کو ایک حد تک سہولت مل چکی ہے۔ اس کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت بھی خود کو ایسی سہولت کا مستحق سمجھتی ہے۔ایک عشرے تک مراعات کے سایے میں بیرون ملک رہنے والے مشرف کو بھی اب ہاتھ ڈالے جارہے ہیں۔ اگر مشرف کو ڈھیل مل سکتی ہے تو نواز شریف اور آصف علی زرداری کو کیوں نہیں؟ اس سوال پر اب فیصلہ ہونا ضروری ہو گیا ہے۔ ممکن ہے کہ زرادری کو نیب کے مقدمات میں گرفتار کر لیا جائے، لیکن ان کی بھی ضمانت ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سماجی فلاح کا پروگرام ایسے وقت میں دینے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ جب پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف عملاً کوئی بڑی کارروائی کی جارہی ہے ،۔ یا حکومت پیپلزپارٹی کے روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کو قبولیت دے رہی ہے کہ اس پارٹی قیادت کے خلاف کارروائی تو کی جارہی ہے لیکن اس کا منشور تحریک انصاف جاری رکھے گی؟ دوسری تشریح یہ کہ اب احتساب کا ڈھول مزید نہیں بج سکتا ہے۔ اس ضمن یں کوئی موثر یا سنجیدہ کارروائی نہیں ہوگی۔

وقت کے ساتھ حکومت کی سیاسی تنہائی بڑھ گئی نئے اتحادی بنانا دور کی بات حکومت سازی کے مرحلے پر جو اتحادی بنے تھے وہ بھی دور ہورہے ہیں۔ اس تنہائی کو محسوس کرتے ہوئے عمران خان نے بلوچ رہنما اختر مینگل سے ملاقات کی، اور حیدرآباد میں یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی تقریب وزیراعظم سیکرٹیریٹ اسلام آباد میں کی جارہی ہے۔ اور اس یونیورسٹی کا نام حیدرآباد یونیورسٹی نہیں اردو یونیورسٹی رکھا جارہا ہے۔ تقریب کے لئے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو اسلام آباد طلب کیا گیا ہے۔

احتساب کے نام پر کئے گئے اقدامات نے افسرشاہی کو ڈرا دیا ہے۔ وہ خود کو بچ بچا کے کام کررہی ہے۔یعنی معمول کی صورتحال نہیں۔ مشرف دور میں سیاسی منظر پر اسٹیک ہولڈر کے طور پروکلاء نمودار ہوئے ۔ یہ صورتحال جسٹس ثاقب نثار کے ریٹائر ہونے تک رہی۔ عدلیہ کے حالیہ اپروچ کی وجہ سے وکلاء اپنا رول اور دبدبہ کم ہوتا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ لہٰذا وہ بھی احتجاج کے لئے وجہ ڈھونڈ رہے ہیں اور پر تول رہے ہیں۔ میڈیا کے شعبے میں مالکان سے لیکر ملازمین تک حکومت کی پالیسی سے نالاں ہیں۔ حکومتی پالیسی نے اس شعبے کو بستر مرگ پر ڈال دیا ہے۔ اس کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان عوام کا ہو رہا ہے۔ حکومتی کارکردگی پر چیک اینڈ بیلنس نہیں رہا اور اختلاف رائے اور کثیر رخی آراء کا آنا بھی کم ہو گیا۔ صوبوں میں اقتدار سے دوری کا احساس شدید ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخوا بظاہر مطمئن نظر آتا ہے۔ کیونکہ تحریک انصاف مرکز اور صوبے دونوں میں حکومت میں ہے۔ لیکن اس صوبے میں بھی لاوا پک رہا ہے۔ جس کا اظہار دو ماہ پہلے تک زیادہ شدت کے ساتھ نظر آرہا تھا۔ نو ماہ میں پنجاب میں نواز لیگ کو غیر مقبول نہیں بنایا جاسکا، اور نہ ہی پنجاب کے لوگوں میں حکومت میں شراکت داری کا احساس پیدا کیا جاسکا ہے۔ سندھ میں بظاہر پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے لیکن صوبے کے وفاقی حکومت کے معاملات ناخوشگوار ہی ہیں۔ کالعدم تنظیموں کو مین اسٹریم میں لانے کا آئیڈیا دے کر حکومت نے مذہبی سیاسی جماعتوں سے دوری اور لاتعلقی کاا علان کردیا ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جو ایک نئی صف بندی کا اشارہ ہی نہیں دیتے بلکہ اس کے لوازمات کو پورا کرتے ہیں۔سیاسی فضا میں یہ بھی بازگشت ہے کہ آخر ادارے حکومت کوکب تک اور کیا بناکر دیں گے؟ اب تو جسٹس ثاقب نثار بھی ریٹائر ہو چکے ہیں۔


ای پیپر