پٹر ول کی بڑھتی قیمت اور عوا م کی مشکلا ت
05 اپریل 2019 2019-04-05

با ت شروع ہو تی ہے سا لِ رو اں کے تیس اور اکتیس ما ر چ کے روز سے۔ ان دو دنو ں کے دوران یہ افوا ہ گر دش کر تی رہی کہ یکم ا پر یل سے پٹر ول کی قیمت میں گیا رہ رو پے فی لیٹر اضا فہ کیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً پٹر و ل پمپس پہ گا ڑ یو ں، ر کشا ؤ ں، اور مو ٹر سا ئیکلز و غیر ہ کی لمبی قطا ر یں لگ گئیں۔ بہر حا ل جب یکم ا پریل کا سو ر ج طلو ع ہو ا تو معلو م ہو ا کہ پٹر و ل کی قیمت میں گیا رہ رو پے کی بجا ئے چھ رو پے کا ا ضا فہ ہو ا ہے۔ اس کا نتیجہ کیا ہو نا تھا، یہی نا کہ سا دہ لو ح شہر ی پریشا ن ہو نے کی بجائے الٹا نہا ل ہو گئے کہ پٹر ول کی قیمت میں تو گیا ر ہ کی بجا ئے صر ف چھ رو پے کا ا ضا فہ ہو ا ہے۔قا رئین میں آ پ سے پو چھتا ہو ں کہ آ پ اسے کیا کہیں گے؟کیا یہ و ہ ڈ ر امہ نہیں جو آ پ ہر اس مو قع پر ملا حظہ کر تے ہیں جب جب حکومت نے پٹرول کی قیمت میں خا طر خو اہ اضا فہ کر نا ہو تاہے۔؟در اصل یہ و ہ طر یقہ کا ر ہے جس کے تحت حکو مت یہ تا ثر دینے میں کامیاب ہو جا تی ہے کہ بے شک قیمت میں اضا فہ تو ہوا ہے لیکن اس قدر زیا دہ نہیں کہ وہ عو ا م النا س کی پہنچ سے با ہر ہو۔ یو ں عوا م مہنگائی کی چکی میں احسا س ہو ئے بغیر پستے چلے جا تے ہیں۔ پو چھتا ہو ں کہ یہ دھو کہ دہی بھی اگر گنا ہ کے ز مر ے میں نہیں آتی تو پھر گنا ہ کی تعر یف اور تشر یح کیا ہے؟ عو ا م سو چنے پہ مجبو ر ہوچکے ہیں کہ اب وہ اپنے لیئے کیا دعا مانگیں؟ حالیہ دور میں ان پر بھرپور بمباری، وقفے وقفے سے نہیں بلکہ بغیر وقفے کے، کم از کم اگست 2018ء سے جاری ہے۔ یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر الزام تراشی نہیں۔ ہم الزام دھر بھی کیسے سکتے ہیں۔حق کی کہو ں تو میرا خیا ل تھا کہ تحر یکِ انصا ف کی حکو مت کے مسا ئل کی فہر ست کی طوا لت میں وقت گذ رنے کے سا تھ سا تھ کمی وا قع ہو نا شر وع ہو جا ئے گی لیکن ا لٹا اس فہرست کی طوالت روز برو ز بڑھتی جا رہی ہے۔ چنا نچہ اب اس حکو مت کے حا میو ں کی تعدا د میں روز بر وز کمی وا قع ہو تی جا رہی ہے اور اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ جس دور میں عام آدمی پر زندگی تنگ ہوجائے، گزر اوقات مشکل سے مشکل تر اور پھر ناممکن ہوتی چلی جائے، اس حکومت کے حامیوں کی تعداد گرنے اور مخالفین کی تعداد بڑھنے لگتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا شیرازہ منتشر ہے۔ وہ اپنے مسائل میں گھری ہوئی ہیں جبکہ حکومت کی گاڑی ایک غیرہموار سڑک پر مسلسل جھٹکے کھا رہی ہے۔ اقتصادی صورتحال نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ کسی چیز کی قیمت میں اعتدال اور تواز ن برقرار نہیں۔ روٹی مہنگی ہوگئی، کپڑا مہنگا ہوگیا، مکان دسترس سے باہر ہوگیا۔ یہ نعرے نہیں حقیقت یہی ہے۔ سبزیاں، گوشت، آٹا، گھی، پٹرول، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ، تعمیری سامان، دوائیں، سکول کی فیسیں،

سب بڑھ گئی اور بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ خبر یہ نہیں کہ کس کس اشد ضروری شے کی قیمت بڑھ گئی۔ قیمت بڑھنا تو یہاں روزمرہ کا معمول ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ ہم کوئی ایسی چیز ڈھونڈیں جس کی قیمت اگست 2018ء سے پہلی کی سطح پر ہو۔ بوجھو تو جانیں؟ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نیا اضافہ مہنگائی کو نئی انتہا تک پہنچانے کا باعث بنے گا۔ عوامی نقطہ نظر سے مہنگائی ہی موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج سمجھی گئی ہے، مگر اس مسئلے سے بہتر انداز میں نمٹنے کی بجائے حکومت کی جانب سے یکے بعد دیگرے ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں جن سے عام آدمی کا سہولت کے اقدامات اور حکومتی معاشی تدابیر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ توانائی کی قیمتیں جملہ اشیائے صرف اور ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں کے میعار کی بنیاد تصور ہوتی ہیں۔ جب بھی توانائی کی قیمتوں میں ردو بدل ہوگا، پوری معیشت پر اس کے اثرات یقینی ہیں۔ اسی لیے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات بھی وسیع تر سطح پر ظاہر ہوں گے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا اور بڑا اثر بجلی کی قیمتوں پر پڑے گا، جس سے نہ صرف یہ کہ عوام کے گھریلو بجٹ متاثر ہوں گے بلکہ صنعتی پیداوار کی قیمتیں بھی چھلانگ لگائیں گی۔ نتیجے میں ان اشیاء کی مسابقتی قوت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ سبھی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی صنعتی پیداوار کو فروغ دینے اور برآمدات بڑھانے کے دعوتے کرتی ہے مگر عملی طور پر اس کے برعکس اقدامات سامنے آتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے دور میں جب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرانے کا سلسلہ شروع ہوا تو معیشت کے ماہرین کی جانب سے جو خدشات ظاہر کیے گئے، اب اشیاء کی قیمتوں میں بتدریج اضافے کی صورت میں سامنے �آرہے ہیں؛ تاہم حکومت کے معاشی نگران ان خدشات کو رد کرنے پر اپنا زور بیان صرف کرتے رہے۔ الٹا یہ کہا جاتا رہا کہ اس سے برآمدات بڑھیں گی اور ملکی معیشت کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔ تاہم یہ ثابت ہوچکا ہے کہ روپے کی قدر گرنے سے برآمدات میں تو کوئی نمایاں اضافہ نہ ہوا، البتہ پٹرولیم مصنوعات سمیت تمام درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اس حکمت عملی سے خاصہ اضافہ ضرور ہوچکا ہے۔ روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کے پیش نظر اندازہ نہیں کہ مہنگائی کا یہ سلسلہ کہاں جا کر رہے گا۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ قیمتیں بڑھنے کا رحجان اسی طرح برقرار رہا تو عوام میں بے چینی میں ضرور اضافہ ہوگا، حکومت غیر مقبول ضرور ہوگی۔ پہلے آٹھ ماہ کسی حکومت کے لیے اپنی پالیسی کی بنیاد بھرنے کے لیے کم نہیں ہوتے، مگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس عرصے میں اپنا کوئی جاندار، مؤثر اور عوام دوست تاثر قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے اثرات ضرور ہوتے ہیں، مگر اس میں بہت بڑا حصہ حکومتی محصولات کا بھی ہوتا ہے۔ اِدھر ہمارے ہاں ٹیکس کی وصولی کے ناقص نظام کی قیمت پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے صرف پر ٹیکسوں کی شرح بڑھا کر وصول کی جاتی ہے۔ آمدنی کا یہ بندھا ٹکا نظام حکومت کے لیے ریونیو کی کمی کو پورا کرنے کا آسان ترین نسخہ ہے۔ چنانچہ موجودہ حکومت نے بھی ٹیکس اصلاحات اور ٹیکس نظام کے سقم دور کرنے کی بجائے ریونیو بڑھانے کا آسان راستہ چنا اور پہلے مرحلے میں تمام پٹرولیم مصنوعات پر 17 فیصد کی شرح سے جنرل سیلز ٹیکس عائد کردیا۔ اس سے قبل تیل کی مختلف اقسام پر مختلف شرح سے جنرل سیلز ٹیکس لاگو تھا۔ مثلاً لائٹ ڈیزل آئل پر 0.5 فیصد، پٹرول پر آٹھ فیصد اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر 13 فیصد۔ اب سبھی کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جارہا ہے۔ مارے تو غریب صارفین جارہے ہیں۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں اب ہر بار اضافے کے ساتھ جنرل سیلز ٹیکس کی اضافی شرح اثر انداز ہے اور حکومت کے لیے ان قیمتوں میں اضافے کا مطلب اضافی ٹیکس کی وصولی بھی ہے۔ حکومت نہ صرف جنرل سیلز ٹیکس بڑھا کر اور یکساں شرح لاگو کرکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر انداز ہورہی ہے بلکہ ریونیو کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پچھلے دو ماہ سے پٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ اس انوکھی معاشی حکمت عملی سے عوام کی معاشی دشواریوں میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔


ای پیپر