ٹیکس اور جگا ٹیکس
05 اپریل 2019 2019-04-05

کہتے ہیں کہ ٹیکس ادا کر کے آپ معاشی طور پر اوپر اٹھتے ہیں یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک آدمی جو بالٹی کے اندر کھڑا ہے وہ اپنے آپ کو اوپر اٹھانے کے لیے اس بالٹی کا ہینڈل پکڑ کر اسے اوپر کی جانب اٹھانے کی تگ و دو کرتا ہے۔ یہ الفاظ برطانوی وزیر اعظم چرچل کے ہیں جو انہوں نے 100 سال پہلے برطانوی ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لیے کہے تھے۔ امریکہ کے مشہور جج جان مارشل نے ٹیکس کے ایک مقدمے میں امریکی دانشور Daniel Webster کا مشہور قول نقل کیا کہ ’’The power to tax is the power to destroy ‘‘ یعنی ٹیکس لگانے کا اختیار در اصل عوام کو تباہ کرنے کا اختیار ہے۔ یہ مقدمہ 1819 ء کا ہے امریکہ میں آزادی حاصل کرنے کی ایک بڑی وجہ برطانوی King George کے لگائے ہوئے ظالمانہ ٹیکس تھے یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد امریکہ میں ٹیکس جمع کرنے کا اختیار حکومت کے پاس نہیں تھا امریکی ریاستوں کو کہا گیا تھا کہ وہ سالانہ ایک مخصوص رقم فیڈریشن کو ادا کیا کریں۔

ٹیکس دو طرح کا ہوتا ہے پہلی قسم تو ڈائریکٹ ٹیکس ہے جس میں آپ کسی شہری یا کاروباری ادارے سے اس کی ذاتی آمدنی کے حساب سے ٹیکس وصول کرتے ہیں یہ ایک جائزاور قانونی طریقہ ہے لیکن اس ٹیکس کے زمرے میں عام طور پر خوشحالی طاقتور اور مراعات یافتہ طبقے آتے ہیں وہ ٹیکس حکام پر اثر انداز ہو جاتے ہیں جس کی بہت سی شکلیں ہوتی ہیں۔ دوسری قسم Indirect Tax یا بالواسطہ ٹیکس کی ہے جو کہ ٹیکس کی ظالمانہ ترین شکل ہے یہ ٹیکس امیروں کی بجائے غریبوں پر لاگو ہو جاتا ہے جس سے غربت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ ٹیکس ریونیو میں ڈائریکٹ ٹیکس مجموعی ٹیکس کا 20 فیصد ہے جبکہ باقی 80 فیصد غریب عوام کا خون نچوڑ کر حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ٹیکس جمع کرنے کا نظام انتہائی پیچیدہ اور فرسودہ ہے جس میں ٹیکس حکام کے صوابدیدی اختیارات بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے ٹیکس چوری اور رشوت ایک انڈسٹری کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کوئی ریاست جتنی زیادہ کرپٹ ہوتی ہے وہان قوانین کی بھر مار اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ اس

محاورہ کو اگر ہم اپنے ٹیکس لاز کے تناظر میں دیکھیں تو صورت حال واضح نظر آنے لگتی ہے۔ ان ڈائریکٹ ٹیکس اس وقت لگایا جاتا ہے جب آپ اصل ٹیکس دہندگان سے مطلوبہ وصولی کرنے سے ناکام رہتے ہیں مگر آپ نے اپنا سالانہ ٹیکس ہدف پورا کرنا ہوتا ہے لہٰذا حکومت کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ یہ پیسہ کہاں سے وصول کیا جا رہا ہے یہ ایسا ہی ہے کہ ڈاکوؤں کا ایک مسلح گروہ ناکہ لگا کر ہرگزرنے والے راہگیر کی جیب سے جتنے پیسے ہیں وہ گن پوائنٹ پر چھین لیے جائیں ۔ یہی ہمارا ٹیکس نظام ہے یہی ہماری ٹیکس پالیسی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ پاکستان میں موبائل فون کو عام ہوئے 20 سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ حکومت نے موبائل فون کے استعمال پر ٹیکس لگا دیا جو بڑھتے بڑھتے 30 فیصد تک پہنچ گیا جو دنیا کی ٹیکس لاگو کرنے کی بلند ترین شرح تھی۔ عوام لٹتے رہے مگر قافلہ چلتا رہا۔ اس کہانی کا افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ صارفین سے ٹیکس کٹوتی کی رقم چونکہ موبائل کمپنیوں کے پاس جاتی تھی انہوں نے ٹیکس حکام کے ساتھ ملی بھگت کر کے اس میں اربوں کھربوں روپے ناجائز کمالیے۔ بالآخر جسٹس ثاقب نثار نے اس ظالمانہ ٹیکس کا خاتمہ کیا چاہیے تو یہ تھا کہ عوام کو وہ پیسہ واپس کروایا جاتا مگر عوام اتنے میں ہی خوش ہو گئے کہ اب اس جگا ٹیکس سے انہیں نجات دلا دی گئی ہے۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہم ٹیکس ریونیو کو 4000 ارب سے 8000 ارب یعنی دو گنا کر دیں گے ان سے پوچھا گیا کہ آپ یہ کرشمہ کیسے کریں گے تو انہوں نے کہا تھا کہ میں آپ کو کر کے دکھاؤں گا۔ اطلاعات ہیں کہ موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ٹیکس کا پرانا ہدف بھی پورا نہیں ہو سکا۔ پہلے 6 ماہ میں 2000 ارب روپے کی بجائے صرف 1750 ارب حاصل ہو سکے۔ اب حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ نیا FBR لے کر آئیں گے ہمارا خدشہ یہ ہے کہ نئے سسٹم یا نئے چہروں کے لانے سے فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ان کے نفاذ کے لیے آسمان سے فرشتے نہیں اتریں گے۔ ٹیکس قوانین میں اصلاحات اس وقت حکومت کا اولین ایجنڈا ہونا چاہیے۔ ہمارے ملک میں آپ مہران گاری خریدنے جائیں تو FBR سے فون آ جاتا ہے کہ پیسہ کہاں سے لیا ہے مگر فالو دے والا تندور والا ویلڈنگ والا اور رکشہ والا کے نام پر اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہو جاتی ہے مگر FBR کو کانوں کان خبرنہیں ہوتی کئی سال بعد جا کر پتہ چلتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت 45 سے زیادہ ٹیکس ہیں جو عوام کو دینا پڑتے ہیں اس میں خیرات زکوٰۃ اور صدقات شامل نہیں ہیں مگر اس کے با وجود ٹیکس ملکی خزانے میں جانے کی بجائے ٹیکس چوروں اور ٹیکس اہل کاروں کی جیبوں میں جا رہے ہیں۔ ٹیکس چوری پر سزائیں نہیں ہوتیں ٹیکس عملہ خود بد عنوانی کی بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ سرکاری افسران آخر کیوں ٹیکس کے محکمہ میں آنے کے لیے سفارشیں اور رشوت دیتے ہیں۔

پاکستان میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد 18 لاکھ ہے جنہیں ٹیکس فائلرز کہا جاتا ہے۔ حکومت فائلرز کی تعداد میں یعنی Tax Base میں اضافہ کرنے کی بجائے انہی ٹیکس دہندگان کو مزید تنگ کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملکی خزانے کو فائلر کی بجائے نان فائلر کی جانب سے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں زیادہ وصولی ہوتی ہے مگر وہ نا انصافی کی بنیاد ہے اس سے ملک میں غربت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

ٹیکس نہ دینے کی سوچ کے پس منظر میں یہ عوامی رائے بڑی مضبوط ہے کہ ہمارے ٹیکس کا پیسہ ملک پر خرچ ہونے کی بجائے حکمرانوں کی جیبوں میں جا رہا ہے اور اس سے ملک سے باہر ذاتی جائیدادیں خریدی جا رہی ہیں تو شہری ٹیکس چوری کے عادی ہو جاتے ہیں اور ٹیکس چوری کر کے ایک قدرتی اطمینان حاصل کرتے ہیں اس مقصد کے لیے چوری شدہ ٹیکس کا کچھ حصہ ٹیکس اہل کاروں کو دینے پر تیار ہو جاتے ہیں اس کرپشن زدہ نظام میں سیاستدانون کے بعد سب سے زیادہ فائدہ ٹیکس جمع کرنے پر مامور اہل کاروں کو ہو رہا ہے۔

پاکستان سے باہر سرمائے کی منتقلی کے پیچھے بھی یہی بدنیتی کارفرما ہے کہ ناجائز ذرائع پر ٹیکس نہ ادا کیا جائے۔ حالانکہ یہی عناصر بیرون ملک سرمایہ کاری کر کے وہاں بڑی شرافت سے ٹیکس دیتے ہیں مگر اپنے وطن عزیز پر ترس نہیں کھاتے۔ ملک میں منصفانہ بنیادوں پر ٹیکس کلچر کے فروغ کی ضرورت ہے جس کا اطلاق Top-down سطح پر ہونا چاہیے یعنی اس کا آغاز اوپر سے نیچے کی جانب کیا جائے۔


ای پیپر