نئی حکمت عملی: زرداری نے بات کھول دی
05 اپریل 2018

اب نقشہ واضح ہوتا ہوا نظر آتا ہے کہ ملکی سیاست کا منظر کیا بننے جارہا ہے؟ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری جو کہ انتخابات میں حصہ لینے والی پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے چیئرمین بھی ہیں وہ اب یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں وہ نواز لیگ کو حکومت میں نہیں آنے دیں گے۔ انہوں اس ضمن میں بلوچستان میں زہری حکومت کے خامتے کے بعد عبد القدوس بزنجو حکومت کے قیام اور سینیٹ کے انتخابات کا حوالہ دیا، جس میں وہ کہتے ہیں کہ اس فارمولے کو آئندہ انتخابات کے لئے بھی آزمایا جائے گا۔ میاں صاحب سے اب صلح نہیں ہوگی،ان سے جنگ جاری رہے گی۔جب وہ ختم ہوجائیں گے تو پھر بات کرنے پر غور کیا جائے گا۔ ان کے پاس نواز لیگ کے خلاف اس طرح کا رویہ رکھنے کی جسٹیفکیشن یہ ہے کہ چونکہ نواز شریف نے ان کے ساتھ ایسا کیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ جب چاہیں نوازلیگ کی حکومت گراسکتے ہیں۔ اس مرتبہ زرداری صاحب ایک قدم اور آگے بڑھے ہیں کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی نواز شریف کو نہیں لینے دیں گے،آپ کا وزیراعلیٰ بھی لیں گے ،ہم جلدپنجاب میں نکلیں گے اورتخت رائیونڈہلائیں گے۔ ہم کسی کے ساتھ مل کربھی حکومت بنائیں مگر آپ سے نہیں ملیں گے۔
آصف علی زرداری کا ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر یہ خطاب ان تمام باتوں کو واضح کر رہا ہے کہ جو عام طور پر تجزیوں اور تبصروں میں کی جارہی تھیں۔ یاجن کا تاثر مل رہا تھا۔ انتخابات میں ہنگ پارلیمنٹ آئے گی یعنی کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی اور پنجاب میں نواز لیگ آئے گی۔وفاق میں پیپلزپارٹی, نواز لیگ اور تحریک انصاف بڑی پارٹیاں ہونگی۔ تحریک انصاف نواز لیگ کے ساتھ حکومت میں نہیں بیٹھ سکتی۔ لہٰذا دو ہی آپشن باقی رہتے ہیں ایک یہ کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی حکومت بنائیں ، جس کے لئے آصف علی زرداری نے اب واضح طور پر انکار کردیا ہے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی حکومت بنا ئیں۔
سیاسی مارکیٹ میں یہ بات عام تھی اور لوگوں نے ذہنی طور پر اس کو قبول بھی کر لیا تھا کہ چاہے نواز لیگ کو وفاق میں حکومت نہ ملے لیکن پنجاب میں اس کی ہی حکومت بنے گی۔ اب زرداری صاحب یہ فارمولا دے رہے ہیں کہ پنجاب میں بھی نواز شریف کو آنے نہیں دیں گے۔ وہ نواز شریف کے ساتھ لمبی جنگ لڑنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میاں صاحب اب ایک لمبی جنگ کے لئے تیار رہیں ۔ زرداری صاحب کے اس فارمولے کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب میں چاہے کوئی اور حکومت بنا لے، لیکن نواز لیگ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب میں نیا سیٹ اپ بلوچستان جیسا بننے جارہا ہے۔یعنی وہی نسخہ جو بعد میں سینیٹ کے انتخابات میں آزمایا گیا۔ نسخہ یہ ہے کہ ’’ نہ تیر انہ میرا ‘ ‘ یعنی کوئی تیسرا وزیراعلیٰ بن جائے۔ جس کو باقی دو بڑی جماعتیں یعنی پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ووٹ کریں۔
یہ سب کیسے ہوگا؟ اس صورت حال کا عندیہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی بدھ کے روز صحافیوں سے بات چیت سے بھی ملتا ہے۔ انہوں نے اس خطرے کا اشارہ دیا ہے کہ ممکن ہے کہ حلقہ بندیوں کی آڑ میں انتخابات ملتوی کردیئے جائیں۔ انہوں نے سیاسی چائنا کٹنگ میں نیب کے رول کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے نیب کا دباؤ سیاست دانوں پر ڈالا جائے گا۔وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران متعدد اراکین اسمبلی نے وفاداریاں تبدیل کی ہیں۔ جس میں زرداری اور عمران خان ملوث ہیں۔ نواز شریف کو طویل مدت کے نگراں سیٹ اپ کا بھی خطرہ ہے۔ جس کا وہ اظہار کر چکے ہیں۔
نواز شریف اور نواز لیگ کے مؤقف میں عدلیہ کے بارے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ بلکہ پارٹی، اس کی حکومت اور میاں نواز شریف کا مؤقف ایک جیسا ہی ہے۔ اس کا اعادہ ایک بار پھر میاں نواز شریف نے ان الفاظ میں کیا ہے: چیف جسٹس سمجھتے ہیں کہ وہ اکیلے انتظامیہ اور پالیمنٹ کے ملکی معاملات چلا لیں گے۔ پہلے وہ لاکھوں التواء میں پڑے مقدمات تو نمٹالیں۔ وہ ا پنے مقدمے کے بارے میں کوئی زیادہ پرامید ہیں۔ لہٰذا وہ اب اس کو سیاسی بنا رہے نہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمارے مقدمے کی کارروائی لائیو ٹی پر دکھائی جائے۔ تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ مقدمے میں کیا ہو رہا ہے۔ میاں صاحب کے مقدمے کے بارے میں وزیراعظم کچھ یوں کہتے ہیں کہ: میں برملا کہتا ہوں کہ مجھے کوئی توقع نہیں کہ اس نیب عدالت سے نواز شریف کو انصاف ملے گا۔ عدلیہ پنے مؤقف پر قائم ہے۔ سپریم کورٹ میں نیشنل مینجمنٹ کالج لاہور کے 60رکنی وفد کی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے ملاقات، چیف جسٹس نے آئین 1973ء کے تحت بتایا کہ ریاست اور اس کے تینوں ستون مقننہ ، عدلیہ ، انتظامیہ کس طرح فنکشن کرتے ہیں اور وہ کس طرح ایک دوسرے سے مربوط ہیں، ریاست کی مجموعی مشینری اجتماعی طورپر محنت ، ایمانداری، آزادی سے کس طریق کار کے تحت اپنی اپنی حدود میں آئین کے تحت فرائض سرانجام دیتی ہے،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں وہ آئین پر عمل درآمد کرواتی ہے، سپریم کورٹ ملک کی سینئر بیورو کریسی کے ساتھ مل کر شہریوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو ممکن بناتی ہے۔
ایک خیال یہ بھی ہے کہ نواز شریف اب اکیلے ہو گئے ہیں۔ اس ضمن میں شہباز شریف کا چیف آف آرمی سٹاف کے لئے تعریفی کلمات کا خاص طور پر حوالہ دیا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آئندہ انتخابات میں اور اس کے بعد وہ پالیسی اپنانے جارہے ہیں جو بلوچستان اور سینیٹ میں اختیار کی گئی تھی۔ یعنی چھوٹی پارٹیوں، گروپوں اور چھوٹے صوبوں کو ساتھ ملا کر نواز لیگ کے خلاف کھڑا کرنا۔ اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ اہم رول ادا کر سکتی ہے۔ اس رول کو روکنے کے لئے شہباز شریف کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش مسائل کے لئے سویلین اور فوج کو مل کر کام کرنا چاہئے۔
اسی طرح وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کوشاں ہیں کہ نواز لیگ پارٹی میں موجود تمام لہجوں اور رنگوں کو برقرار رکھ سکیں۔ یہاں تک کہ وہ چوہدری نثار علی خان کے لئے بھی پر امید ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چوہدری نثار پارٹی چھوڑ کر کہاں جائیں گے ، شکوے اپنوں سے ہوتے ہیں۔ وہ پر امید ہیں کہ جلد ہی دور ہو جائیں گے۔ شاہد خاقان عباسی کا یہ کہنا زرداری کی حکمت عملی کا توڑ نکالنے کی طرف اشارہ ہے۔ جو نسخہ بلوچستان میں آزمایا گیا، اب یہ نسخہ پنجاب میں آزمانے کی کوشش کی جائے گی۔ اور ملک کے اس بڑے صوبے میں چھوٹے گروپ تلاش کئے جائیں گے اور ان کی مدد لی جائے گی۔


ای پیپر