فلسطین اور کشمیر لہو لہو اور ہما ری بے حسی

05 اپریل 2018

ڈاکٹر ابراہیم مغل

یوں تو فلسطین کے عوام پہ اسرائیلی افواج کا ظلم و ستم اسرائیل کے وجود میں آنے کے وقت سے جاری ہے لیکن آج سے قریباً بیس برس قبل 30 مارچ 1976ء کو جس طور اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کا قتل عام ہوا اس کی تاریخ میں بہت کم مثال ملتی ہے۔ تب سے لیکر آ ج تک فلسطینی عوام، اس قتل عام پہ ہر سال کی 30 مارچ کو صدائے احتجاج بلند کرتے ہو ئے یو مِ سو گم منا تے ہیں۔ اس مرتبہ یو مِ سو گ کے مو قع پر احتجاج میں شدت آ نے کی وجہ 2017ء کے اواخر میں امریکہ کی جانب سے یروشلم کو سارائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنا ہے۔ انٹرنیشنل میڈیا کا ماننا ہے کہ یومِ سوگ کے موقع پر فلسطینی عوام نہتے اور پُر امن تھے ۔ ان پر اسرائیلی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے 17 نوجوان شہید ہوگئے جبکہ زخمیوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ جمعہ کو یوم الارض کے موقع پر فلسطین بھر میں مہاجرین کی واپسی کے لیے اسرائیلی سرحد کے قریب احتجاجی مارچ کیے گئے اور دھرنے دیئے گئے۔ سرحد پر چھ مقامات پر احتجاجی مظاہروں میں 30 ہزار کے قریب فلسطینی نوجوانوں، بچوں اور خواتین نے شرکت کی۔ مگر ہم پاکستانیوں کی بے حسی کا عالم دیکھئے کہ فلسطین میں اتنے بڑے قتل عام پہ سوائے ایک معمولی سی خبر چھپنے کے، کوئی بھی مکتب فکر نوٹس تک لیتا نظر نہیں آیا۔ یومِ سوگ کی یاد تازہ کرنے کی غرض سے غزہ بارڈر پر مظاہرین نے 700 میٹر کے علاقے میں خیمے لگائے تو اسرائیلی فوج نے بلا اشتعال فائرنگ کھول دیا جس سے شہادتیں واقع ہوئیں۔ نوجوانوں کی شہادت کے بعد مظاہروں میں تیزی آنا ایک قدرتی امر تھا۔ اس مقام پہ انٹرنیشنل میڈیا مسلسل صورت حال پہ اپنے طریقے سے روشنی ڈالتا رہا لیکن ہمارے میڈیا کو تو جیسے سانپ سونگھا ہوا تھا۔ ادھر دن بھر صیہونی فوج اور مظاہرین میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ فوج سیدھی گولیاں برسا رہی تھی، ڈرونز کے ذریعے شیل فا ئر کیے جارہے تھے۔ یہی نہیں، بلکہ اسرائیلی فوج نے ٹینکوں اور جنگی طیاروں کے ذریعے تین مقامات پر بمباری بھی کی۔ مگر سلام ہے فلسطینی عوام کے جذبہ حب الوطنی کے کہ انہوں نے گھروں میں واپس جانے سے انکار کردیا اور اسرائیلی فوج کی متعدد گاڑیوں کو آگ لگادی۔ حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ نے بھی دھرنے میں شرکت کی۔ بے شک فلسطینی نوجوان بغیر کسی اسلحہ کے تھے مگر ان کا جذبہ عروج پر تھا۔ اسماعیل ہانیہ نے اپنے خطاب میں دنیا بھر پہ واضح کردیا کہ ہم اپنی ایک انچ زمین بھی اسرائیل کو لینے نہیں دیں گے۔ انہوں نے ٹرمپ اور اسرائیل کے ساتھیوں کو پیغام دیا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ بے شک ترکی اور اردن نے اسرائیلی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، تاہم اب وقت آن پہنچا ہے کہ مسلم امہ احتجاج اور مذمت کرنے کے اقدام سے آگے بڑھ کر کچھ کرے۔ اس بارے میں ہم پاکستانیوں کو بھی اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔ عرب لیگ نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطین پر اسرائیل کا غیر قانونی اور ناجائز تسلط ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور یہ معاملہ حل کرایا جائے۔ عرب لیگ کا احتجاج اور مذمت اپنی جگہ، مگر پاکستان جس کے وجود میں آنے کی وجہ ہی اسلامی نظریہ ہے، بیت المقدس کو آزاد کرانے کی غرض سے اپنا کردار زیادہ تندہی سے ادا کرنا ہوگا۔ اس بارے عوام سے زیادہ ذمہ داری حکومت وقت اور میڈیا پر عائد ہوتی ہے۔ میڈیا کا فرض نہ صرف اپنی حکومت کو جھنجھوڑنا ہے، بلکہ ضرورت ہے کہ وہ عالمی میڈیا کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرائے۔
اور پھر ظلم در ظلم ملاحظہ فرمائیے کہ 17 فلسطینی نوجوانوں کے قتل عام اور آٹھ سو کے لگ بھگ خواتین اور بچوں کے شدید زخمی ہونے کا زخم امت مسلمہ کے سینے پہ ابھی تازہ ہی تھا کہ ماہ رواں کی یکم تاریخ کو بھارتی فوج کی وہ بربریت سامنے آتی ہے جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں 17 نوجوان شہید اور 109 زخمی ہوجاتے ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ 30 مارچ کو فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام ہوتا ہے اور اس کے صرف دو دن بعد مقبوضہ کشمیر میں اس سے بھی بڑی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے؟ نہیں صاحب نہیں۔ واضح نظر آٹا ہے کہ ان دونوں قتل عام کے واقعات کا منبع ایک ہے۔ اور وہ ہے امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ۔ یہ تینوں طاقتیں ایک دوسرے سے مکمل طور پر جدا مذاہب رکھنے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف یک مشت ہوچکی ہیں۔ لیکن وائے افسوس کہ امت مسلمہ کا یہ عالم ہے کہ ہر کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنانے کے درپے ہے۔ مقبوضہ کشمیر ، جس کی حفاظت کی ذمہ داری سب سے پہلے پاکستان پہ عائد ہوتی ہے، وہاں اس وقت بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل ہے۔ یہاں تک کہ کرفیو نافذ ہے۔ بھارت کو انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ وہ بھی سمجھتا ہے کہ آج 2018ء کی دنیا ماضی کی دنیا سے بہت مختلف ہے۔ آج کی دنیا انٹرنیٹ اور موبائل ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ ملکوں میں فاصلے صرف زمینی حد تک رہ گئے ہیں۔ چنانچہ دنیا بھر میں ہونے والا کوئی ظلم ابھی پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ مگر یہاں بھارت کی چانکیہ مکاری نے اسی خوف کی بناء پر مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس کو جام کردیا۔ درست کہ وطن عزیز پاکستان اس وقت اپنے بہت سے پیچیدہ داخلی مسائل سے دو چار ہے، مگر کیا ہم مقبوضہ وادی کے عوام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہہ سکیں گے کہ ہم آپ کی صرف اس لیے مدد نہیں کرسکتے کیونکہ ہمارے اپنے سیاسی بکھیڑے بہت ہیں؟ جہاں تک افواجِ پاکستان کا تعلق ہے وہ ہمیشہ سے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کو اپنا اولین فرض سمجھتی ہے مگر عوامی سطح کی بات کی جائے تو اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ عوام اب اس مسئلہ پہ نسبتاً کم بات کرتے نظر آتے ہیں۔ وجہ؟ اس کی وجہ ہے ہمارے سیاستدانوں کی بے حسی اور مفاد پرستی۔ اسی کا فائدہ میڈیا کا وہ حصہ بھی اٹھاتا ہے جو پاکستان دشمن ہے۔ میڈیا کا یہ حصہ کہتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کا رہن سہن ایک سا ہے، لہٰذا نفرتوں کی فضا ختم کرکے دونوں ممالک کو بھائیوں کی طرح رہنا چاہیے۔ آج میڈیا کے اس حصے کو مقبوضہ وادی کے گھروں سے برآمد ہونے والے سترہ جنازے دکھا کر پوچھا جائے کہ کیا ایک رہن سہن کے یہ معنی ہیں؟ اور پھر اقوامِ متحدہ کے دانشوروں سے بھی پوچھا جائے آیا انہیں فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے حالیہ قتل عام میں کچھ مشترک نظر نہیں آتا؟ وطن عزیز میں امت مسلمہ کا درد رکھنے والا طبقہ کب سے دنیا کی نظریں امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے گٹھ جوڑ کی طرف مبذ و ل کرانے کی کوشش کر رہا ہے مگر اس نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ آج وہ نازک وقت آن پہنچا ہے جب دنیا بھر کے اسلامی ممالک کو باہمی رنجشیں بھلا کر ایک پیج پر آجانا چاہیے۔ اب بھی اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ دن دور نہیں جب ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں

مزیدخبریں