افغانستان :مفادات اور پالیسیوں کا میدان جنگ
05 اپریل 2018

افغانستان ہمیشہ سے عالمی طا قتوں کے مفادات اور پالیسیوں کا میدان جنگ رہا ہے۔عالمی طا قتوں کا کابل پر حملہ آور ہونا ایک طویل تاریخ رکھتاہے۔سخت جان افغان قوم ہر بیرورنی حملہ آور کے خلاف ہمیشہ سے متفق رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی عالمی طاقت افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔لیکن ایک حقیقت اس کے برعکس بھی ہے۔ وہ یہ کہ بیر ونی حملہ آوروں کو شکست کے بعد افغانستا ن میں نہ امن قائم ہوا ، اور نہ ہی افغان قوم آپس میں متحدرہی۔غیر ملکی حملہ آوروں کو شکست دینے کے بعد افغان ہمیشہ سے آپس میں لڑ تے رہے ہیں۔حفیظ اللہ امین،سردار داؤد،نورمحمد ترکئی، ببرک کارمل ،ظاہر شاہ اور ڈاکٹر نجیب کل ہی کی مثالیں ہیں۔سوویت یونین کے بعد افغان مجاہدین جس طر ح آپس میں لڑے اس کی مثال گزشتہ کئی صدیوں کی تاریخ میں نہیں ملتی۔اسی وجہ سے اس خطے میں امن کم اور جنگ کا زمانہ زیادہ ہی رہا ہے۔
سوویت یونین جب افغانستان پر حملہ آور ہوا،تو امریکا نے اپنے مفادات کے حصول کے لئے اس جنگ میں براہ راست فریق بننے کا فیصلہ کیا۔واشنگٹن کی پالیسی یہ تھی کہ پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کا بول بالا ہو۔سپر پاور سوویت یونین کی بجائے امریکا ہو۔ان کے لئے یہ ایک بہترین مو قع تھا۔کمیونزم کو شکست دینے کے لئے اور اپنے آپ کو سپر پاور تسلیم کر نے کے لئے۔پورے مشرق وسطیٰ سے انہوں نے مجاہدین کو اکٹھاکیا۔جہاد کا خوب پر چار کیا۔اس جنگ میں انہوں نے ہر طبقہ فکر پر خوب سرمایہ کاری بھی کی۔پاکستان کے علاوہ خلیجی ملکوں خاص کرسعودی عرب نے امریکا کا ساتھ دیا۔ سوویت یونین کی شکست کے بعد افغان مجاہدین آپس میں لڑائی جھگڑوں میں اس قدر الجھ گئے کہ مجاہدین کو پسپا ہو نا پڑا۔کئی سرکردہ مجاہد رہنما روپوش ہو گئے۔کئی نے جلا وطنی اختیار کی۔جب کہ اقتدار تیسری قوت طالبان کو مل گیا۔اگر سوویت یو نین کے بعد افغان مجاہدین آپس میں حکومت سازی پر متفق ہو تے ،تو ممکن ہے کہ �آج افغانستان میں حالات مختلف ہو تے۔
طالبان حکومت کو پاکستان ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تسلیم کیا۔اس لئے کہ اس وقت ان تینوں ریاستوں اور امریکا کا مفاد اسی میں تھا کہ طالبان کو افغانستان کا حکمران تسلیم کیا جائے۔لیکن بعد میں امریکی پالیسی میں تبدیلی آئی ۔ان کا مفاد اس سے وابستہ تھا کہ کابل کا حکمران طالبان نہیں بلکہ وہ ہونا چاہئے جو امریکی پالیسیوں کے مطابق چلے اور ان کے مفادات کا محافظ بھی ہو۔اس مقصد کے لئے طالبان حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پر پراپیگنڈا شروع کیا گیا۔ ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا۔ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کو طالبان کے خلاف ایک مو ثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔عالمی رائے عامہ کو طالبان کے خلاف نہایت منظم طریقے سے ہموار کیا گیا۔پھر 9/11 کا واقعہ ہوا ،یا کرایا گیا۔اس کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا۔17 سال سے امریکا وہاں مو جود ہے لیکن نہ جنگ جیتنے کے کو ئی آثار نظر آرہے ہیں اور نہ ہی جنگ ختم ہونے کے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما اور ان کے فوجی جنرلوں کو جب اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ افغانستان میں جنگ جیتنا ممکن نہیں،تو انہوں نے طالبان کو شکست دینے کے لئے داعش کو وہاں طالبان کے خلاف منظم کرنا شروع کیا۔یہ وہ دور تھا کہ حامد کرزئی افغانستان کے حکمران تھے۔ان کو معلوم تھا کہ امریکا داعش کو افغانستان میں منظم کر رہا ہے،لیکن چونکہ وہ حکمران تھے ۔ان کا مفاد اسی میں تھا کہ خاموش رہا جائے ۔اس لئے انہوں نے اپنی صدارت بچانے کے لئے اس پر کوئی احتجاج نہیں کیا۔لیکن جب وہ اپنا دور حکومت پورا کرکے چلے گئے توپھر انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا افغانستان میں داعش کو منظم کر رہا ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکا نے داعش کو افغانستان میں طالبان کے خلاف منظم کر نے کی ہر ممکن کو شش کی۔لیکن ابھی تک وہ طالبان کے خلاف وہ قوت حا صل نہیں کر سکے ،جس کی امریکا کو تو قع تھی۔ داعش کو افغانستان میں منظم کرنے کی امریکی پالیسی کا سب سے خوف ناک پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اس تنظیم کو پاکستان کی سرحد کے قریب والے صوبوں میں منظم کرنا شروع کیا تھا۔جس کا واضح مقصد اسلام آباد پر دباؤ بڑھانا تھا۔لیکن پاکستان نے بر وقت کارروائی کرتے ہوئے سرحد پر باڑ لگا نے کا فیصلہ کیا ،جس سے داعش کو پاکستان آنے سے روک دیا گیا،ورنہ واشنگٹن کی منصوبہ بند ی تھی کہ پاکستان کو امریکی مفادات اور پالیسیوں سے اختلاف کا سبق کچھ اس انداز سے پڑھایا جائے کہ آئندہ وہ امریکی مفادات اور پالیسیوں سے اختلاف کی جرأت نہ کر سکے۔
ابھی حال ہی میں روس ،امریکا اور مغربی دنیا کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔امریکا ،برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک نے روس کے سفیروں کو ملک بدر کیا ہے۔روس نے بھی ردعمل میں امریکی اور یورپی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔لیکن اس دوران واشنگٹن نے ماسکو پر الزام لگا یا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کو مدد فراہم کر رہا ہے۔امریکا نے یہ الزام ایک ایسے وقت میں لگایا ہے کہ علاقائی قوتیں ،چین،روس،تر کی اور پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لئے کوششوں میں مصروف ہیں۔دوسری طر ف خود افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے طالبان کو سیاسی جماعت تسلیم کرنے اور ان کو آنے والے صدارتی انتخا بات میں حصہ لینے کی پیشکش کی ہے۔خود طالبان نے امریکا سے مذاکرات کر نے کا عندیہ دیا ہے۔اب ایسے حالات میں کہ تمام فریقین امن کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے اور جامع مذاکرات کے لئے راہ ہموار کر رہے ہیں،امریکا کا روس پر الزامات اس بات کے عکاس ہیں کہ افغانستان میں امن کا قیام ان کی مفادات کا محافظ نہیں۔اس لئے ان کی کوشش ہے کہ ایسی پالیسی بنا ئی جائے کہ جس سے امن کی بجائے انتشار پھیلانے کی راہ ہموار ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ امریکا موجودہ حالات میں کیوں افغانستان میں قیام امن کا مخالف ہے؟اس کے دو ہی بنیادی اسباب ہیں۔پہلا یہ کہ امریکا اس خطے سے جانے کے لئے تیار نہیں۔وہ کیوں؟ اس لئے کہ انہوں نے چین پر نظر رکھنے کے لئے افغانستان میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔چین جو کہ پوری دنیا پر معاشی حکمرانی کاخواہش مند ہے ،امریکا کی کو شش ہے کہ بیجنگ کا یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو۔اس کی ہر ممکن کو شش ہے کہ اس منصوبے کو کسی بھی قیمت پر ناکام بنایا جائے۔دوسرا یہ کہ امریکا کی خواہش ہے کہ افغانستان میں ہندوستان کو اہم کردار دیا جائے۔لیکن پاکستان اور چین اس پالیسی کے شدید مخالف ہیں۔
مو جودہ عالمی حالات کو مدنظر رکھتے ہو ئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ افغانستان کی سرزمین ایک مرتبہ پھر عالمی طاقتوں کے مفادات اور پالیسیوں کا میدان جنگ بننے والا ہے۔ مفادات اور پالیسیاں واشنگٹن ،ماسکو اور بیجنگ کی ہوں گی ،لیکن انہی مفادات اور پالیسیوں کوکامیابی سے ہمکنار کر نے کے لئے میدان جنگ افغانستان کی سرزمین ہو گی۔لیکن ایک اہم بات کہ اس مرتبہ کی صف بندی میں سرکردہ اسلامی ممالک کس کا ساتھ دیں گے؟ اس لئے کہ اس مر تبہ اسلام آباد امریکی مفادات اور پالیسیوں کے مخالف کیمپ روس اور چین کے ساتھ کھڑا ہو گا۔اگر یہ جنگ چھڑ جاتی ہے تو پھر امریکا کو شکست کے ساتھ ساتھ سپر پاور کے رتبے سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔جس سے ایک اور عالمی طاقت کی میت افغانستان میں دفن ہو جائے گی۔


ای پیپر