نسل پرستی کی زنجیروں میں جکڑا بھارت
05 اپریل 2018 2018-04-05

مظالم میں اضافہ جہاں ایک جانب بھارت میں رائج لاء اینڈ آڈر کی کمزور صورت حال کو پیش کرتا ہے وہیں سماجی انتشارکو بھی بطور شہادت پیش کرتا ہے ۔ایک ایسا معاشرہ جہاں انسانوں کے درمیان ہی انسان تقسیم کر دیے گئے ہوں،جہاں چند لوگوں نے اپنی حیثیت کو مقدم رکھنے کے لیے سماجی رشتوں میں دراڑ پیدا کی ہو،جہاں کسی کو ذلیل تو کسی کو حقیر کے درجہ میں فٹ کیا جانے لگے،جہاں پیدائش کی بنا پر کوئی اعلیٰ تو کوئی ادنیٰ کہا جائے،ایسے معاشرے میں مظالم سرچڑھ کے نہیں بولیں گے تو اور کیا ہوگا؟شاید یہی سلسلہ وطن عزیز ہندوستان میں بھی ایک طویل عرصہ سے جاری ہے۔لیکن اس کا آغاز کب ہوا ؟اور کیوں ہوا؟اس کے جواب میں تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ 2500 قبل مسیح کے قریب ہندوستان پر آریہ نسل کے لوگوں نے حملہ کیا۔ اس وقت پورے ہندوستان میں دراوڑ نامی نسل کے لوگ آباد تھے۔ آریاؤں نے ان کو جنوب کی جانب دھکیل دیا اور انہوں نے وہاں اپنی بستیاں بسا لیں۔ دراوڑ ہی ہندوستان کے اصل باشندے ہیں جبکہ آریہ وسطی ایشیا کی جانب سے ہندوستان میں آئے تھے۔ یہ لوگ بے شمار قبائل میں منقسم ہیں اور ہر ایک کی اپنی الگ شناخت ہے۔دراوڑ اپنے زمانے کی مہذب اقوام میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے تقریباً چھ ہزار سال قبل مسیح زمین سے گیہوں، جو، کپاس اور گنا اگانے اور روئی سے دھاگا بنا کر کپڑا تیار کرنے کا ہنر سیکھ لیا تھا۔ یہ لوگ تانبے اور کانسی کے اوزار بناتے تھے۔ لوہے کا استعمال انہوں نے آریاؤں سے سیکھا۔ آریاؤں نے لنگ پوجا، دھرتی پوجا، بھوت پریت اور خبیث ارواح کا تصور انہی سے لیا اور ان کے بہت سے دیوی دیوتاؤں کو اپنا لیا۔ مورخین کے مطابق دراوڑ سیاہ فام تھے جبکہ آریا سفید فام تھے۔
دنیا کا دستور ہے کہ ہر زمانے میں ایک قوم دوسری قوم کو زیر کرنے کے لیے سب سے پہلے سماجی،سیاسی،تعلیمی اور تمدنی سطحوں پر کمزور کرتی ہے ۔ساتھ ہی جس قوم پر برتری حاصل کرنا چاہتی ہے اسے حقیر ثابت کرتی ہے اور خود کو معزز ۔نتیجہ میں برسراقتدار قوم آہستہ آہستہ "معزز"کہی جانے والی قوم کے طور طریقوں کو اختیار کرتی چلی جاتی ہے اور اندورنی سطح پر خود بخود پسپا ہوجاتی ہے۔دوسری جانب برسراقتدار قوموں اور افراد کو ختم کرنے کے لیے ہر زمانے میں جنگیں کی گئیں۔اور یہاں بھی وہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ایک قوم عروج حاصل کرتی ہے تو دوسری زوال پذیر ہوتی ہے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ ٹھیک یہی طریقہ آریہ قوم نے بھی دراوڑ قوم پر برتا اور تسلط حاصل کرنے کے لیے اپنایا تھا۔ایک جانب دراوڑ قوم کو حقیر و ذلیل ثابت کیاگیا ، معاشرتی سطح پر ان سے دوری بنائے رکھی گئی،وہیں دوسری جانب خود کو اعلیٰ و عرفہ اور معزز بناکی شکل میں پیش کیا۔لفظ 'آریا 'کے معنی بھی مختلف بیان ہوئے ہیں۔آریا کے ایک معانی سنسکرت میں بلند مرتبہ اور معزز کے آئے ہیں۔ یہ معنی غالباً آریوں نے برصغیر میں اپنائے ہیں۔ کیوں کہ وہ مقامی باشندوں کو پشیاجی یعنی کچاگوشت کھانے والے، داس یعنی غلام اور تشا یعنی حقیر کہتے تھے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں خود کو آریاکہتے تھے۔میکس ملر (Max Muller) کا کہنا ہے کہ لفظ آریا،آر سے مشتق ہے جس کے معانی ہل جوتنے اور زمین کاشت کرنے والے کے ہیں چنانچہ یہ لفظ کاشتکاروں پر صادق آتا ہے۔ ول ڈرانٹ (Will Durant) کے مطابق آریاکے ابتدائی معنی کسان کے ہیں ۔آریائی آغاز سے زراعت پیشہ اور گلہ بان تھے، جانوروں کا پالنا اور کھیتی باڑی ان کاخاص پیشہ تھا، اسی پر ان کی دولت کا انحصار تھا، وہ گھوڑے اور بیل کے ذریعے زمین کو جوتنا اور نہروں کو سیراب کرنا جانتے تھے، یہ لوگ تجارت پیشہ نہیں تھے۔
آریا قوم کی برصغیر میں آمد 1500 قبل مسیح بتائی جاتی ہے۔ یہاں اس سر زمین پر ان کی آباد کاری میں قدرتی اور معاشرتی عناصر کا بڑا ہاتھ تھا۔ آریابرصغیر میں فوج کی صورت میں حملہ آور نہیں ہوئے، بلکہ ایک کے بعد ایک قبیلے اور خاندان آتے رہے۔ گویا آریا سیلاب کی وہ لہریں تھیں جو ایک کے بعد ایک آ رہی تھیں اور ان کا ترک وطن کا سلسلہ صدیوں تک جاری رہا، وہ گروہ در گروہ کی شکل میں مختلف اوقات میں مختلف سمتوں میں پھیل گئے۔ پاک وہند کی سرزمین پر ان کا ورود صدیوں تک جاری رہا اور ان کے مختلف قبیلے مختلف اوقات میں یہاں آباد ہوئے۔آباد ہونے والے چند قبائل کے نام رگ ویدمیں ملتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور قبیلہ بھارت (Bharat) ہے، جس کے نام پر اس ملک کا نام بھارت رکھا گیا،یہ سروتی اور جمنا کے کنارے آباد ہوا تھا۔ اس کا حلیف سریجنی Sirngaya تھا۔ اس کے علاوہ پورو (Puro)، یادو (Yado)، تروسا (Turvasa)، انو Anu اور درینیو (Drunyu) قبائل کے نام بھی ملتے ہیں، جنہیں قبائلی اہمیت حاصل تھی۔ انہوں نے بھارت اور اس کے حلیف سرینجنی قبیلے سے خوفناک جنگ کی اور شکست کھائی، اس جنگ کی تفصیل رگ ویدمیں ملتی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان قبائل میں پرانی عداوت تھی، جو یہاں آنے کے بعد شدت اختیار کرگئی۔ یعنی وہ اوائل سے ہی دو مخالف گروہ میں بٹے ہوئے تھے اور آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے وہ یہاں کے باشندوں کو مغلوب کرنے کے بعد بھی سیاسی اتحاد قائم نہیں کرسکے اور ہمیشہ ٹولیوں اور ذاتوں میں تقسیم رہے۔ اس باہمی کشمکش کے ساتھ انہیں یہاں کے باشندوں کے ساتھ مزید جنگیں کرنی پڑیں۔ جن کا سلسلہ عرصہ دراز تک جاری رہا، جس کی کچھ تفصیل ویدوں میں ملتی ہے۔چونکہ آریا ترک وطن کر کے نئے وطن کی تلاش میں نکلے تھے، اس لیے وہ آباد شدہ لوگوں کی نسبت پرجوش اور بے باک تھے۔ آشوریوں کی طرح وہ بھی اپنے دشمنوں پر رحم کرنا نہیں جانتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو داسا یعنی چور و غلام، پشیاجی یعنی کچا گوشت کھانے والے ،درندہ صفت، راکشش -یعنی دیو و بھوت، دھات (Dhatta) یعنی خبیث روح، آسورہ Asora یعنی بھوت پریت، جیسے توہین آمیز القاب سے پکارتے تھے اور ان سے اس قدر نفرت کرتے تھے کہ جنگ ختم ہوجانے کے بعد بھی ان سے معاشرتی تعلقات قائم کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔
ہندوستان میں پہلے سے آباد شدہ دراوڑ قوم اور بعد میں آنے والی آریا قوم کے مختصر تاریخی حوالوں کے بعد آزاد ہندوستان میں اقلیتوں پر جاری ظلم و تشدد کے علاوہ دلتوں اور پسماندہ ذاتوں پر بڑھتے مظالم کا پس منظر بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کی روشنی میں شیڈول کاسٹ پرمظالم میں2015ء کے مقابلہ میں 2016ء میں بڑااضافہسامنے آیا ہے۔2015ء میںیہ جرائم 38,670درج ہوئے تھے جو2016ء میں بڑھ کر40,801تک پہنچ گئے۔وہیں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد وشمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ دلتوں پر سب سے زیادہ جن ریاستوں میں مظالم ہوئے ہیں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر اثر ریاستیں ہیں یا ان کے تعاون سے چلنے والی حکومتیں۔پہلے نمبر پر مدھیہ پردیش ہے جہاں 2014ء میں شیڈول کاسٹ سے وابستہ لوگوں کے 3294جرائم درج ہوئے تھے، 2015ء میںیہ بڑھ کے 3546اور 2016ء میں 4922ہوگئے۔مدھیہ پردیش کے بعد راجستھان ہے جہاں 12.6اضافہ کے ساتھ جرائم میں اضافہ درج ہوا ہے۔اس کے بعد گوا اور بہار ہیں اور پانچویں نمبر پے گجرات ہے۔2016ء میں مدھیہ پردیش میں 43.4 فیصد سنگین جرائم درج ہوئے ہیں، وہیں راجستھان میں 42 فیصد،گوا میں 36.7فیصد،بہار میں 34.4فیصد اورگجرات میں 32.5فیصد۔ان اعداد و شمار کے علاوہ حالیہ دنوں ایک دردناک اور ذلت آمیز واقعہ چند دن پہلے گجرات کے بھاؤ نگر ضلع میں پیش آیا ہے جس میں ایک دلت نوجوان کا قتل صرف اس بنا پے کر دیا گیاکہ اس کے پاس گھوڑا تھا، گھوڑ سواری اسے پسند تھی لیکن اعلیٰ ذات کے چند لوگوں کو اس نوجوان کا یہ عمل پسند نہیں آیا،انہیں اس عمل میں اپنی بے عزتی اور اس کی برتی محسوس ہوئی،لہٰذا اسے موت کے گھات اتار دیا گیا۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ایک واقعہ ہے ؟ یا دو قوموں کی صدیوں پرانی اعلیٰ و ادنیٰ اور معزز و حقیر کی رنجشیں ہیں !


ای پیپر