جنگ ستمبر: صحافتی لیجنڈ کی یاد یں

05 اپریل 2018

یوسف عالمگیرین

الطاف حسن قریشی پاکستان کی اُردو صحافت کا ایک درخشندہ ستارہ ہیں۔ ان کی تحریریں مثبت صحافت کا ایک نمونہ تصور کی جاتی ہیں۔ 1960 میں ’اُردو ڈائجسٹ‘ کالاہور سے آغاز کیا جو آج بھی ایک معتبر میگزین کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی اخبارات میں کالم نگاری بھی کرتے چلے آرہے ہیں۔ جس سے الطاف حسن قریشی صحافت کے طالب علموں کے لئے ایک رول ماڈل اور لیجنڈ کی حیثیت اختیار کرتے چلے گئے اور آج الطاف حسن قریشی اردو صحافت کا ایک ’’برانڈڈ‘‘ نام ہیں۔ بلاشبہ وہ پاکستان کی صحافت ، سیاست، حکومتوں اور حکمرانوں کی اکھاڑ پچھاڑ اور ریاست کے ایوانوں میںآنے والے اتار چڑھاؤ کے بھی چشم دید گواہ ہیں۔ وہ بیسیوں کتابوں کے مصنف ہیں۔ دیکھا جائے تو اُردو ڈائجسٹ بھی ایک کتاب ہی ہے جو وہ کئی سالوں سے ہر ماہ مرتب کرتے چلے آرہے ہیں۔ حال ہی میں’’ جنگ ِ ستمبر کی یادیں‘‘ جمہوری پبلکیشنز جس کے روحِ رواں معروف صحافی اور نثر نگار فرخ سہیل گوئندی ہیں کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی ہے۔ جنگ ستمبر درحقیقت ہماری قوم اور افواج کی بہادری کی وہ داستان ہے جسے ملٹری ہسٹری میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ کتاب درحقیقت، الطاف حسن قریشی کی جنگ ِ ستمبر کے حوالے سے، اپنی یادوں پرمشتمل ہے، جسے ایقان حسن قریشی نے ترتیب دیا ہے۔ ایقان نے یقیناً یہ کتاب اس یقین سے ترتیب دی ہے کہ الطاف حسن قریشی کے کہے گئے الفاظ اور لکھے گئے واقعات اس جنگ کی یادوں کے حوالے سے ایک ایسا دستاویزی ثبوت ہیں جنہیں آئندہ آنے والی نسلیں ایک ریفرنس کے طور پر یاد رکھیں گی۔الطاف حسن قریشی وطن کی محبت میں سرشار ایسی شخصیت ہیں جو یہ ورثہ انتہائی اعتماد اور محبت سے اگلی نسلوں تک منتقل کرنا اپنا فریضہ گردانتے ہیں۔ کتاب کے انتساب ہی میں مصنف کی وطن سے محبت جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے انتساب ’’پاکستان کی سرفروش افواج اور اُن کے حوصلہ مند عوام کے نام کیا ہے جنہوں نے معرکہ ستمبر میں یک جان ہو کر دفاعِ وطن کا مقدس فریضہ ادا کیا۔۔۔ اور آج وہ دہشت گردی کے خلاف بڑی استقامت سے صف آرا ہو کر جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں‘‘۔
کتاب میں اُس وقت کے عمومی حالات و واقعات کے حوالے سے بے لاگ تجزیے ملتے ہیں۔ کتاب کے حرفِ تشکر میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ یہ ان تحریروں پر مشتمل ہے جو معرکہ ستمبر 1965ء کے حوالے سے لکھی گئیں اور ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتی رہی ہیں، جو آج بھی قوم میں ایک نئی اُمنگ اور نیا عزم پیدا کرتی ہیں۔
کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح سے پاکستانی قوم اور اس کی افواج نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کے ناپاک ارادے حسرت میں تبدیل کردیئے۔ کتاب کے انتہائی اہم باب ’’تصادم کے بنیادی محرکات‘‘ میں الطاف حسن قریشی نے ان امور کا جائزہ لیا ہے کہ جنگ ِ ستمبر کے پسِ پردہ محرکات کیا تھے۔ اور تاریخ میں ان کی جڑیں کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ کتاب کی تکمیل کے سلسلے میں الطاف حسن قریشی نے صرف اُردو ڈائجسٹ میں شائع ہونے والے مضامین ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے اُن فوجی افسروں اور جوانوں تک بھی پہنچنے کی کوشش کی جنہوں 1965ء کی جنگ میں حصہ لیا تھا۔ جو لوگ اُنہیں نہیں مل پائے الطاف حسن قریشی اُن کے لواحقین سے ملے جنہوں نے اپنے بزرگوں کے کارہائے نمایاں اور تجربات سے مصنف کو آگاہ کیا۔ گویا کسی بھی کتاب میں تحقیق کی عرق ریزی نہ ہو تو کتاب کا اصل رنگ قارئین کے سامنے نہیں آپاتا۔ الطاف حسن قریشی نے 6 ستمبر 1965کے دن اُس وقت کے صدرِ مملکتِ پاکستان محمدایوب خان کی تقریر کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’پاکستان کے دس کروڑ عوام جن کے دل کی دھڑکن میں لاالٰہَ الا اﷲ محمدرسول اﷲکی صدا گونج رہی ہے اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کی توپیں ہمیشہ کے لئے خاموش نہیں ہو جاتیں‘‘۔ مصنف اپنی اسی تصنیف میں لکھتے ہیں کہ صدر ایوب کی تقریر سُن کر پورا ملک نعرۂ تکبیر سے گونج اُٹھا اور لوگ اپنے باہمی اختلافات بُھلا کر اپنے ملک کے لئے متحد ہوگئے۔ یوں عددی اعتبار سے ایک بڑا دشمن یکجان اور مضبوط عزم کی مالک قوم کے سامنے کھڑا نہ ہوسکا۔ کتاب پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح سے عوام الناس اپنے اپنے گھروں سے باہر اُمڈ آئے اور مسلح افواج کے شیر جوانوں کے حوصلے بڑھاتے رہے۔ اُن پر گُل پاشی کرتے اور اُن کے لئے ہاتھوں میں تحائف اورکھانے پینے کی اشیاء انہیں پیش کرنے کی ضد کرتے ۔مصنف نے جنگ ِ ستمبر کے دوان پاکستانی قوم میں پائے جانے والے نظم و ضبط کا بھی بطورِ خاص ذکر کیا کہ کس طرح سے لوگ منظم ہو کر شہری دفاع کے فرائض بھی انجام دیتے رہے اور اس دوران ملک میں کوئی قابلِ ذکر جرائم نہیں ہوئے۔ لوگوں نے خود کو منظم رکھا، پُرعزم رکھا اور وہ حوصلہ مندی کے ساتھ اپنے جوانوں کی پشت پر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے رہے ۔ انہوں نے بیرون ملک سے آئے ہوئے ذرائع ابلاغ کا بھی ذکر کیا کہ کس طرح سے وہ ہماری افواج اور قوم کے کارناموں سے متاثر ہوئے۔ الغرض ’’ جنگ ِ ستمبر کی یادیں‘‘ خاصے کی چیز ہے جسے ہر سکول، کالج کی لائبریری میں ہونا چاہئے تاکہ ہماری آئندہ نسلیں اس کا مطالعہ کریں اور جنگ ِ ستمبر کے پس پردہ محرکات اور اصل حقیقت سے آشنا ہوسکیں۔ یقیناً جناب الطاف حسن قریشی نے یہ کتاب ترتیب دے کر ایک بہت بڑی قومی خدمت سرانجام دی ہے جس کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔ اﷲ تعالیٰ الطاف حسن قریشی کو اس کاوش پر جزائے خیر عطا فرمائے۔

مزیدخبریں