’’ بیاء جی کی پنجابی شاعری ۔۔۔ تقریب کی یاد ۔۔۔؟‘‘
05 اپریل 2018

میں حیرت زدہ تھا کہ شہباز کیا گل کھلا رہا ہے۔ اس تپتی دوپہر میں الحمراء ہال کے باہر دھوپ میں بیٹھا کندن لعل سہگل کا نہایت پرانا گانا گٹار کے ساتھ بجا رہا تھا ۔۔۔؟ شام ہوتے ہی شہر میں لُو چلنے لگتی ہے۔ تھکے ہارے سرکاری ملازم (دفتروں میں سو سو کے اور سائل حضرات کو بھول بھلیوں میں الجھا الجھا کے) واپس گھروں کو لوٹ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔
عورتیں گھروں میں بیٹھی لمبی لمبی کالیں اور ہزاروں SMS اِدھر اُدھر (لگائی بجھائی کی صنعت) کر کے تھک ہار کے سوچ رہی ہوتی ہیں کہ کب شام ہو اور بھارتی چینلز پر ساس بہو کے طویل (کبھی نہ ختم ہونے والے) جھگڑوں پر مشتمل ڈرامہ سیریل چلیں اور دل خوش ہو جائے ۔۔۔ کیونکہ گھروں میں بیٹھی بہو ڈرامے میں موجود بہو کی جگہ خود کو رکھ کے ڈرامہ کرتی ہے / سوری دیکھتی ہیں اور اُسے انجوائے بھی کر رہی ہوتی ہیں اور ایسے ہی ساس خود کو کامیاب، جابر اور نہایت ظالم اور صاحبِ عقل و فہم ہی نہیں جوڑ توڑ کی ماہر ساس سمجھ رہی ہوتی ہیں ۔۔۔
یہ کام پچھلے پندرہ سال سے چل رہا ہے ۔۔۔! اس سے چینلز کی رونق بھی دوبالا ہے اور خواتین کی روح کی تسکین بھی ۔۔۔
رہی بات ان ڈراموں کے سائیڈ ایفیکٹ کی تو وہ تو آپ کو شادی بیاہ ہی نہیں عام دنوں میں بھی مل جاتے ہیں۔ فیشن اس قدر نئے انداز میں صبح شام بدل رہے ہیں کہ عقل دنگ اور جیب تنگ ہوتی چلی جا رہی ہے ۔۔۔ پہلے فیشن چھ ماہ بدلتا تھا اب صبح شام، نیا دن نئی شام ۔۔۔
عورتیں آجکل جس رنگ کے کپڑے اُسی رنگ کی چپل یہاں تک کہ آنکھوں کے ساتھ ساتھ کچھ امیر زادیاں تو گاڑی تک اُسی رنگ کی استعمال کرنے لگ پڑی ہیں ۔۔۔ اور اونچی ایڑھی کا رواج ۔۔۔؟ توبہ ہی بھلی ۔۔۔! پانچ فٹ کی لڑکی چھ فٹ کی بن جاتی ہے ۔۔۔
لڑکی بہت ہی تنگ لباس پہن کر گھر سے نکلی ۔۔۔پڑوس کی عورت نے اُس سے کہا ۔۔۔’’اگر تمہاری امی تمہیں اس لباس میں دیکھ لیں تو کیا خفا نہ ہوں گی ۔۔۔؟‘‘ ’’خفا تو ضرور ہوں گی ۔۔۔‘‘ لڑکی نے جواب دیا ۔۔۔’’کیونکہ یہ کپڑے اُنہی کے تو ہیں ۔۔۔‘‘
کچھ عرصہ پہلے شام ’’ بیاء جی ‘‘ (نامور پنجابی شاعرہ) کی پہلی شاعری کی کتاب کی تقریب رونمائی تھی ۔۔۔ کرامت بخاری، مدثر بٹ، رخسانہ نور، بابا نجمی، حسن عباسی سبھی موجود تھے ۔۔۔فیشن پرستی کے اس دور میں ’’ بیاء جی ‘‘ بی بی جی لگ رہی تھیں ۔۔۔ سر جھکائے خاموش طبع کچھ کچھ سفید بال ۔۔۔ (اس بات پر کہیں زیادہ حیران ہوئے ہوں گے ۔۔۔)’’اپنے آپ توں ڈر لگدا ۔۔۔‘‘ نامی کتاب میں بیاء جی نے خود کو منوا لیا کہ اس دور میں بھی بیاء جی جیسی روحانی شاعرہ سچ کا دامن تھامے جھوٹ اور جھوٹوں کے خوف سے آزاد دل کی بات کہہ رہی ہیں ۔۔۔ اور نئی نسل کو دل کی بات کہہ ڈالنے کا حوصلہ بھی دے رہی ہیں ۔۔۔ ’’بلکہ اُکسا رہی ہیں ۔۔۔‘‘ بلاشبہ یہ اِک جہاد ہے ۔۔۔!نامور خطاط اور مصور اسلم کمال نے صدارتی خطبہ میں بیاء جی کی آزادی اظہار کی قوت کو خوب سراہا ۔۔۔حکیم سلیم اختر نے کمپےئرنگ کرتے ہوئے جہاں شاکر شجاع آبادی کے سرائیکی اشعار سے محفل کو گرمایا وہیں بتایا کہ بابا نجمی کے ساتھ ساتھ بیاء جی بھی وہ اہم کرادار ہیں جنہوں نے لاہور میں ’’ پنجابی ‘‘ ویہڑہ نامی ادبی سرکل کو آباد رکھا ہوا ہے اور پنجابی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے دن رات کوشاں بھی ہیں ۔۔۔ حالانکہ ہم اپنی مادری زبان پبلک میں بولتے ہوئے شرماتے ہیں ۔۔۔ ڈر بھی جاتے ہیں ۔۔۔ بیاء جی کی اس کتاب کی تقریب رونمائی میں جو بات مجھے شدت سے محسوس ہوئی اور میں نے ڈرتے ڈرتے حکیم سلیم اختر کے گوش گزار کر دی تھی ۔۔۔ وہ تقریب کا شام پانچ بجے انعقاد تھا ۔۔۔
میری خواتین مصنف اور شاعرات سے درخواست ہے کہ وہ خواتین لکھاریوں کی تقریبات شام کی بجائے دوپہر بارہ بجے رکھا کریں کیونکہ شام پانچ بجے کے بعد تو خواتین نے ہزار ہزار قسطوں والے ڈرامے دیکھنے ہوتے ہیں اور یہ ڈرامے خواتین نہ دیکھیں اور کوئی بھی قسط "MISS" کر دیں ۔۔۔ یہ ممکن نہیں ۔۔۔ اس بات پر وہ خاوند سے الجھ سکتی ہیں ۔۔۔ سہیلی کو ناراض کر سکتی ہیں ۔۔۔ ہفتہ وار ’’فیشل‘‘ کل پر منتقل کر سکتی ہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ اور وغیرہ ۔۔۔ کاش آپ اس تقریب میں موجود ہوتے آپ میری رائے کی حمایت کرتے ۔۔۔ امید ہے حکیم سلیم اختر اور الحمراء آرٹس کونسل کی انتظامیہ میری اس درخواست پر آئندہ غور کر لے گی کیونکہ نہایت اعلیٰ پائے کی شاعرہ کی کتاب کی تقریب رونمائی میں ایک سو چالیس مرد اور ڈاکٹر شاہدہ دلاور کے علاوہ صرف چار خواتین موجود تھیں جن میں سے دو کے قہقہے مردوں جیسے تھے ۔۔۔ اس موضوع پر میں گفتگو سے قاصر ہوں کہ چار پانچ مرد بھی اس محفل میں عورتوں جیسے کپڑے پہنے ’’دم دبائے‘‘ ادھر اُدھر آ جا رہے تھے اور اُن کی خواہش تھی کہ تقریب جلد ختم ہو اور وہ بیاء جی کو گلدستے پیش کریں اور تصویر بنوائیں ۔۔۔اقبال راہی صاحب نے تو اُن میں سے ایک کو آہستہ آواز میں کہہ بھی دیا ۔۔۔’’ہیلو سویٹی ۔۔۔‘‘اقبال راہی صاحب کی اس برجستہ شرارت پر میں نے اپنی ہنسی پر بڑی مشکل سے قابو پایا ۔۔۔؟ کہ راہی صاحب سچ کہتے ہوئے کبھی نہیں ہچکچاتے ۔۔۔ کہ میں اس بات کا تیس سال سے گواہ ہوں ۔۔۔
آپ کا دھیان ’’غیر ادبی‘‘ سر گرمیوں کی طرف چلا گیا ہے اس لیے ۔۔۔ سب سے اہم بات بتا کر بات ختم کرتا ہوں کہ ۔۔۔ کتاب کے حوالے سے ڈائس پر آ کر گفتگو کرنے والوں میں سے اکثر نے کتاب پر بولنے سے پہلے پڑھی ہی نہیں تھی ۔۔۔ اور اکثر نے کتاب کا ٹائیٹل دیکھا اور کتاب کو تین چار بار اِدھر اُدھر سے سونگھا اور پندرہ پندرہ منٹ کی جذباتی / معلوماتی تقریریں کر ڈالیں اور داد بھی وصول پائی ۔۔۔؂
اِس حسُن کے سچے موتی کو ہم دیکھ سکے پر پڑھ نہ سکے
جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں وہ دولت کیا وہ خزانہ کیا


ای پیپر