کشمیر و افغانستان:لہو لہو
05 اپریل 2018 2018-04-05

مقبوضہ کشمیر میں شوپیاں اور اسلام آباد(اننت ناگ) میں بیس سے زائد کشمیریوں کی شہادت اور تین سو سے زائد افراد زخمی کئے جانے کیخلاف ہڑتالوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ پوری کشمیر ی قوم سڑکوں پر ہے۔طلباء، وکلاء، تاجروں اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے بڑھ چڑھ کر مظاہروں میں حصہ لے رہے ہیں۔دنیا بھر میں بھارتی ظلم و بربریت کی مذمت کی جارہی ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ بھارت سرکار کی سرپرستی میں نہتے کشمیریوں کے خلاف اسرائیل سے درآمد کردہ خطرناک کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں جن سے کشمیریوں کی لاشیں قابل شناخت نہیں رہتیں۔حال ہی میں شوپیاں، پلوامہ اور اسلام آباد(اننت ناگ) میں یہی کچھ کیا گیا ہے ۔ آٹھ لاکھ غاصب ہندوستانی فوج نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی ۔ پرامن مظاہرین پر سیدھی گولیاں برسائی جارہی ہیں اور معصوم بچوں اور نوجوانوں کے چہروں پر پیلٹ گن کے چھرے برسائے جارہے ہیں جس سے بیسیوں نوجوانوں کی آنکھوں کی بینائی متاثر ہوئی ہے۔ سری نگر کے ہسپتالوں میں پینتالیس سے زائد نوجوانوں کی آنکھوں کے آپریشن کئے گئے ہیں۔اس دوران ہسپتالوں میں رقت آمیز مناظر دکھائی دیئے۔ ایک طرف کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا یہ عالم ہے تو دوسری جانب بھارتی فوج ہسپتالوں میں گھس کر سرچ آپریشن کے نام پر مریضوں اور ان کے لواحقین کو ہراساں کر رہی ہے جس پر ڈاکٹروں نے شدید احتجاج کیا اور کہاکہ بھارتی فورسز کی درندگی سے انہیں مریضوں کے علاج معالجہ میں سخت دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ بھارتی فوج نے اس وقت پورے کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا ہے۔ حریت کانفرنس کے قائدین نے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے شوپیاں چلو کال دی اور پوری کشمیری قوم سے اپیل کی گئی کہ وہ اس پروگرام میں حصہ لے تاہم بھارتی فورسز نے اضافی نفری لگا کر شوپیاں جانے والے تمام راستے سیل کر دیئے ہیں ۔ بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق نے نظربندی توڑ کر اپنی رہائش گاہوں سے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن انہیں زبردستی واپس بھیج دیا گیا۔ بھارتی فوج نے کرفیو لگائے رکھا تاہم اس کے باوجو دہزاروں کشمیری تمام رکاوٹوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے شوپیاں پہنچنے کی کوشش کرتے رہے جس پر ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں مزید کئی کشمیری زخمی ہوئے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں داخل کروادیا گیا ہے۔ کشمیر میں آج جمعہ کے دن بھی سری نگر سمیت دیگر شہروں وعلاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ سخت کشیدگی کے ماحول کو دیکھتے ہوئے بھارتی فورسز نے جامع مسجد سری نگر کی طرف جانے والے تمام راستے سیل کر دیے ہیں اور تقریبا پوری حریت قیادت کو نظربند کر دیا گیا ہے۔
کشمیر میں جاری قتل و غارت گری کے خلاف پاکستان میں بھی آج مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم کشمیر منایا جا رہا ہے۔ اسی طرح مردمجاہد پروفیسر حافظ محمد سعید سمیت دیگر قائدین نے بھی ملک گیر سطح پر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے مظاہروں اور ریلیوں کے انعقاد کا اعلان کیا ہے جس میں سیاسی، مذہبی و کشمیری جماعتوں کے قائدین کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ یکم اپریل کے دن بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران بیس سے زائد کشمیریوں کا خون بہایا تو دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی نے انتہائی دردبھرا ویڈیو پیغام ریکارڈ کروایا جو سوشل میڈیا پر چلا تو پورے عالم اسلام میں کہرام مچ گیا۔ جس کسی درد دل رکھنے والے انسان نے اسے سنا وہ آنسو بہائے بغیر نہ رہ سکا۔ انہوں نے روتے ہوئے پاکستانی حکام سے اپیل کی کہ کشمیری نوجوان پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں اور ہماری مسجدوں میں یہ ترانے گونج رہے ہیں کہ ’’اس پرچم کے سائے تلے اب آنا ہے‘ اپنے پاکستان( کشمیر ) کو بچانا ہے‘‘ لہٰذا آپ بھی بیدار ہوں اور کسی قسم کی مصلحت پسندی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا کھل کر ساتھ دیں۔آپا جی آسیہ اندرابی کا یہ پیغام سوشل میڈیا کے ذریعہ ہر جگہ پہنچااس نے ہلچل مچا دی۔ کشمیریوں سے اظہاریکجہتی اچھی بات ہے مگر یہ صرف ایسے مواقع پر ایک دو دن کیلئے نہیں ہونا چاہیے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ ہمیں ان کی اس بات کو قومی موقف کے طور پر اپنا نا چاہیے اور دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کرتے ہوئے انڈیا کی ریاستی دہشت گردی کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنا چاہیے۔ جب تک حکومتی سطح پر اس نوعیت کے اقدامات نہیں کئے جائیں گے کشمیریوں کی مشکلات میں کمی نہیں آئے گی اور نہ ہی ہم کشمیریوں کے صحیح وکیل ہونے کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کشمیر میں کون سا ایسا ظلم ہے جو دہشت گردبھارتی فوج نہیں ڈھا رہی مگر اس کے باوجود مودی سرکار شرمندہ نہیں ہے۔ وہ کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے کا راگ الاپ رہی ہے لیکن ہمارے حکومتی ذمہ داران مظلوم کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز خاموش کرنا چاہتے ہیں اور محض بھارتی خوشنودی کیلئے ایسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جن کا ماضی میں کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہ رویہ بہت افسوسناک ہے اور اس کا جدوجہد آزادی کشمیر پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ پاکستان کیلئے کشمیریوں کا مورال بلند رکھناانتہائی ضروری ہے۔ کشمیریوں کی قتل و غار ت گری پر اوآئی سی اور سلامتی کونسل کے اجلاس بلانے کی بھی باتیں کی جارہی ہیں ۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ دیگراسلامی ملکوں کو ساتھ ملا کر اقوام متحدہ پر دباؤ بڑھائے کہ اس نے کشمیر پر باقاعدہ قراردادیں پاس کر رکھی ہیں اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو جائز تسلیم کرتے ہوئے ان کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے مگر کیا وجہ ہے کہ بھارت نے دہائیوں سے کشمیر کی قراردادوں کو پس پشت ڈال رکھا ہے مگر اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی۔ حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کا یہ کہنا درست ہے کہ او آئی سی کو بین الاقوامی سیاست میں فعال اور موثر کردار ادا کرناچاہیے اور یو این پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے کشمیرو فلسطین جیسے تنازعات حل کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔ مقبوضہ کشمیر کی طرح امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں بھی بے گناہ مسلمانوں کا بے دردی سے خون بہانے میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں قندوز کے ایک مدرسے پر بمباری کر کے ظلم و دہشت گردی کی ایک نئی بدترین داستاں رقم کی گئی ہے۔ حفاظ کرام کے اعزاز میں تقریب جاری تھی اور سینکڑوں طلباء یہاں موجود تھے کہ اس دوران مدرسہ پر شدید بمباری کر دی گئی جس میں بہت بڑی تعداد میں معصوم طلباء اور حفاظ کرام شہید ہوئے ہیں۔ افغان حکومت پچاس طلباء کی شہادت کا کہہ کر اصل جانی نقصان چھپانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہید بچوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں بھارتی فوج اور عسکری ماہرین کو بھی افغانستان میں لاکر بٹھا رکھا ہے جو دہشت گردوں کو تربیت دیکر پاکستان داخل کر رہے ہیں اور فرقہ وارانہ قتل وغارت گری کی آگ بھڑکائی جارہی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بات کھل کر منظر عام پر آئی ہے کہ مدرسہ میں حفاظ کرام پر بمباری کیلئے امریکہ کی طرح افغان فورسز سے بھارت کی طر ف سے دیے جانے والے جنگی ہیلی کاپٹر بھی استعمال کئے گئے اور شدید بمباری کی گئی۔ ابھی اور بہت سے حقائق ہیں جو آئندہ چند دنوں میں سامنے آئیں گے۔ قندوز میں حفاظ کرام کی شہادت پر بنوں اور مردان سمیت مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور اس احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا اندیشہ ہے۔ کشمیر ، فلسطین اور افغانستان جیسے جتنے مسائل ہیں سب ا سلئے ہیں کہ مسلم حکومتیں مضبوط نہیں ہیں اور وہ ملکی مفادات میں پالیسیاں ترتیب دینے کی بجائے بیرونی قوتوں کی خوشنودی کیلئے ایک دوسرے سے بڑھ کر اقدامات اٹھانے میں مصروف ہیں ۔ جب تک مسلمان ملکوں کے حکمران اپنی ان کمزوریوں کی اصلاح نہیں کریں گے دشمن قوتوں کے ہاتھو ں بے گناہ مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل و غارت گری پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔


ای پیپر