بھارت میں مساجد نذر آتش
05 اپریل 2018 2018-04-05

بھارتی ریاست بہار میں شرپسند ہندوؤں نے علاقے کی مسجد پر اپنا بھگوا جھنڈا لہرایا اور مدرسہ ضیاء العلوم میں بھی توڑ پھوڑ کی اور آ گ لگا دی جس سے کشیدگی پیدا ہوگئی۔ علاقے میں انٹر نیٹ سروس معطل اور دفعہ 144نافذ کردی گئی۔متاثرہ شہروں میں پویس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ بہار کے اورنگ آباد، بھاگلپور کے بعد اب سمستی پور ضلع میں کشیدگی کے بعد پولیس کے دستے کثیر تعداد میں تعینات کردیئے گئے۔ سمستی پور میں رسوڑا شہر کے گدری بازار میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے دوران جھڑپ میں ایس ایس پی سنتوش کمار اور انسپکٹربی این مہتہ سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ ریاست اتر پردیش کے شہر کاس گنج میں یومِ جمہوریہ کے موقع پر ہونیوالے فرقہ وارانہ فساد کی آگ ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھی کہ شر پسندوں نے علی الصبح کاس گنج کے گنج ڈنڈوارا قصبہ میں واقع مسجد کے دروازہ کو نذر ِ آتش کر دیا اورمن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی۔مسجد کے دروازہ میں آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور کشیدگی پھیل گئی۔دہلی سے 37 کلو میٹر دور واقع فرید آباد میں گاؤں اٹالی میں ایک مسجد کی تعمیر جاری تھی جس کو ہندؤں (جن میں اکثریت جاٹ برادری کی تھی) نے پہلے مسجد کو نذر آتش کیا بعد ازاں مسلمانوں کی رہائشی آباد پر حملہ آور ہوئے۔دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اٹالی میں 5سال قبل مسجد اور مندر ایک ساتھ تعمیر کیے جا رہے تھے، مگر اراضی کے تنازع کے باعث مسجد کا تعمیراتی کام روک دیا گیا تھا رواں ماہ عدالت نے مسجد کی تعمیر کی اجازات دی تھی، یوں 5 سال بعد مسجد کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے لیکن اس شہر کو آلودگی سے پاک کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے مودی سرکار کی ایما پر ایک نیا نادرشاہی حکم جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت دہلی میں مساجد کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ اذان کے وقت ان سے بلند ہونے والے ’’شور‘‘ کا محفوظ حدود سے کم یا زیادہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے اور اگر سرکاری حکام کو مسجدوں سے ’’اذان کا شور‘‘ زیادہ محسوس ہوا تو پھر دہلی کی مساجد سے لاؤڈ اسپیکر اتار لیے جائیں گے یا ان کی تعداد بہت کم کردی جائے گی۔یہ حکم نامہ بھارتی حکومت کے ماتحت ماحولیاتی عدالت ’’نیشنل گرین ٹریبیونل‘‘ (این جی ٹی) نے جاری کیا ہے جس میں دہلی کی شہری حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ مشرقی دہلی میں مسجدوں سے اذان کے وقت ہونے والے ’’شور‘‘ کا جائزہ لے کیونکہ وہاں رہنے والوں کی بڑی تعداد نے اس کی شکایت کی ہے۔این جی ٹی نے یہ حکم ’’اکھنڈ بھارت مورچہ‘‘ نامی شدت پسند ہندو تنظیم کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ مشرقی دہلی میں مساجد سے اذان کے وقت بہت زیادہ شور ہوتا ہے جس سے وہاں رہنے والوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکھنڈ بھارت مورچہ ان لوگوں کی شکایات لے کر ماحولیاتی تحفظ کی عدالت میں پیش ہوئی تھی۔ماحولیاتی تفتیش کے دوران اگر کوئی مسجد زیادہ شور کی مرتکب پائی گئی تو بھارت میں 1986 کے ماحولیاتی قانون اور 2000 میں شور کی آلودگی اور اس پر کنٹرول سے متعلق منظور شدہ قوانین کی روشنی میں کارروائی کی جائے گی جس میں لاؤڈ اسپیکر ہٹانے سے لے کر مسجد انتظامیہ پر جرمانے اور دیگر سزائیں بھی شامل ہیں۔۔۔اس درخواست کے جواب میں مختلف مساجد کی جانب سے وکیلوں کا کہنا تھا کہ اگرچہ اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر ضرور استعمال کیے جاتے ہیں لیکن ان کی آواز محفوظ حدود کے اندر ہی رہتی ہے اور ان کا ارادہ لوگوں کو پریشان کرنا یا شور کی آلودگی پھیلانا ہر گز نہیں ہوتا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتہا پسند رہنماء یوگی آدیتیہ ناتھ نے اترپردیش کا وزیراعلیٰ بننے کے بعد مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا، گائے کے گوشت پر پابندی اور مسلمانوں پر سرعام تشدد کے بعد اب انہوں نے سپیکر پر اذان دینے کی پابندی بھی عائد کردی۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ نے مساجد میں سرکلر بھیجا کہ مینار سے سپیکر اتار لیے جائیں اور آئندہ اسپیکر پر اذان نہ دی جائے بصورت دیگر سخت کارروائی عمل میں لائے جائے گی۔یوگی ادیتیہ نے یہ پابندی گزشتہ برس آلہ باد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے فیصلے کی روشنی میں عائد کی جس میں تمام عوامی مقامات پر اسپیکر استعمال کرنے کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’عوامی مقامات پر موجود تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اسپیکر استعمال نہ کریں اور نہ ہی ان مقامات پر کسی سیاسی سرگرمی جلسے ، جلوس کی اجازت دی جائے کیونکہ اس سے عوام کو تکلیف کا سامنا ہوتا ہے‘۔ بھارت میں مسلمان کے ساتھ دلت سے بھی زیادہ برا سلوک ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی پسماندگی کی بڑی وجہ بھارتی حکومتوں سمیت دیگر سرکاری اداروں کا وہ متعصبانہ رویہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔ مسلم دشمنی اور تعصب کی بنیاد پر جیلوں میں بند قیدیوں کی سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔ 14 فیصد آبادی کے تناسب سے 22 فیصد مسلمان غیر قانونی طور پر سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم عروج پر ہیں۔ ہر روز کتنے ہی کشمیری نوجوانوں کو چھلنی کر کے اور بموں سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس جہان فانی سے رخصت کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 10 لاکھ بھارتی فوج گزشتہ 30 سال سے آگ و خون کے کھیل میں مصروف ہے۔ مودی حکومت نے ایک منظم منصوبے کے تحت ہندوستانی مسلمانوں کو تنہا کر کے رکھ دیا ہے۔ لوک سبھا میں ان کی کوئی آواز نہیں رہی۔ ریاستی انتخابات میں مسلمانوں کو بری طرح شہہ مات دی ہے کہ ان کا کوئی نام لیوا نہیں رہا۔ حالیہ اترپردیش ریاستی انتخابات میں 403 اراکین کی اسمبلی میں صرف 25 مسلمان امیدوار جیت پائے ہیں۔ جب کہ اترپردیش میں مسلمانوں کی تعداد تین کروڑ چوراسی لاکھ ہے۔ گائے ذبح کرنے اور گوشت کے استعمال پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ گائے ذبح کرنے کے خلاف مہم کے بل پر مسلمانوں کو ہراساں اور قتل کرنے کا ایسا سلسلہ شروع کیا گیا ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتا ہے۔ اب تک متعدد مسلمان ہندو بلوائیوں کے تشدد سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ہندو بلوائی گائے کا گوشت فروخت کرنے کے شبے میں مسلم قصابوں کو تشدد کا نشانہ بناتے رہتے ہیں یا ان کی دکانوں کو نذر آتش کر دیتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ دادری کے گا ؤں بسارا میں یہ افواہیں پھیل گئیں کہ محمد اخلاق نے اپنے گھر میں نہ صرف گائے کا گوشت ذخیرہ کر رکھا ہے بلکہ ان کا خاندان گوشت کو استعمال بھی کر رہا ہے۔ ان کے گھر پر ایک ہجوم نے حملہ کر دیا اور تشدد کر کے خاندان کے سربراہ 50 سالہ محمد اخلاق کو ہلاک جبکہ ان کے بیٹے کو شدید زخمی کر دیا۔ ہلاک ہونے والے شخص کی 18 سالہ بیٹی نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فریج میں گائے کا نہیں بلکہ ’’' بکرے کا گوشت تھا‘‘۔


ای پیپر