میاں نواز شریف، میمو گیٹ اور وطن کے غدار
05 اپریل 2018 2018-04-05

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھے میمو گیٹ کا حصہ نہیں بننا چاہئے تھا۔ میاں صاحب شاید یہ بات بھول گئے ہیں کہ 19اکتوبر 2011ء کو میمو سکینڈل کے 9روز بعد ہی انہوں نے میمو گیٹ تحقیقات کے لئے 10دن کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ 23نومبر کو میاں نواز شریف نے میمو گیٹ سکینڈل کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر دی تھی جب کہ2دسمبر کو سپریم کورٹ نے میاں صاحب کی درخواست سماعت کے لئے منظور کر لی۔ یکم دسمبر کو میمو سکینڈل کیس کی سماعت پر میاں نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے اور زور شور سے حسین حقانی کو غدار ِ وطن قررا دیا تھا لیکن اب ایسا کیا ہوا کہ کل کا غدار آج محبِ وطن ہو گیا۔ جب کہ حسین حقانی کی حرکات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔انہوں نے نہ صرف امریکہ میں اپنے دورِ سفارت میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا بلکہ ان کا امریکہ میں قومی سلامتی کے حوالے سے کردار بھی مشکوک رہا۔ لیکن آج اپنے مفادات ہیں تو اسی حسین حقانی کو محبِ وطن قرار دیا جا رہا ہے۔ 2008ء میں جب حسین حقانی کو امریکہ میں سفیر بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو ملک کے مقتدر اداروں نے اس بات کی مخالفت کی تھی اور انتہائی کوشش کی تھی کہ اسے امریکہ میں سفیر نہ بنایا جائے لیکن اس وقت کے صدرِ پاکستان نے اس کے باوجود کہ اس کی سکیورٹی کلیئرنس نہیں ہوئی تھی حسین حقانی کو سفیر بنایا جہاں وہ تین سال تک اپنے مغربی آقاؤں کے ساتھ مل کر ملک کے خلاف کام کرتا رہا۔ حسین حقانی کا کردار ہمیشہ سے ہی مشکوک رہا ہے جس نے پاکستان کا سفیر بن کر بھی پاکستان کے خلاف کام کیا اور آج کل وہ بھارتی لابی کا حصہ بن کر پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔ حسین حقانی دونوں حکومتوں کا منظورِ نظر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 3جون 2011ء کو اس کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی آخری سماعت ہوئی اور 9رکنی لارجر بنچ نے حکومت کو ہدایت جاری کی تھی کہ حسین حقانی کو ملک واپس لانے کے لئے تمام قانونی ذرائع استعمال کئے جائیں مگر عدالت کے حکم کے باوجود اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت اور موجودہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے عدالت کے حکم پر کوئی ڈپلو میٹک چینل استعمال نہیں کیا۔ حسین حقانی عدالتِ عظمیٰ میں بیان حلفی جمع کروا کر گئے تھے کہ وہ عدالت کے نوٹس پر 4روز کے اندر ملک واپس آ جائیں گے تاہم عدالت کے بار بار احکامات کے باوجود وہ واپس نہیں آئے۔
10اکتوبر 2011ء کو میمو گیٹ سکینڈل اس وقت سامنے آیا جب برطانوی اخبار فنانشل ٹائم لندن میں منصور اعجاز کا مضمون چھپا ،جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ حسین حقانی نے مجھے امریکی افواج کے چےئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف مائیکل مولن تک پہنچانے کے لئے ایک مراسلہ دیا جسے حسین حقانی کے مطابق آصف زرداری کی تائید بھی حاصل ہے۔ اس مراسلہ کے مندرجات کے مطابق پاکستان کی حکومت نے امریکہ سے درخواست کی کہ پاکستان کی موجودہ فوجی قیادت کو برطرف کرنے کے لئے امریکہ ہماری مدد کرے۔ ہم دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کی زیادہ مدد کریں گے۔ منصور اعجاز نے مبینہ طور پر یہ بھی کہا کہ مراسلہ کے مطابق صدر زرداری نے امریکی فوج کو پاکستان میں موجود اسامہ بن لادن کے ٹھکانے پر حملہ کر کے اسے قتل کرنے کی بھی اجازت دی تھی۔ منصور اعجاز نے یہی بیان لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن آ کر ویڈیو لنک پر بھی میمو گیٹ کمیشن کو دیا تھا۔ منصور اعجاز نے ویڈیو لنک پر بتایا کہ حسین حقانی نے کہا کہ فوج حکومت گرانا چاہتی ہے اس لئے یہ پیغام جلد از جلد مائیک مولن تک پہنچایا جائے کہ جنرل پرویز کیانی کو امریکہ کی طرف سے ایسا نہ کرنے کا پیغام دیا جائے۔ اس کے بدلے ہم امریکہ کو بیڈ بوائز کی تلاش کے لئے امریکیوں کو پاکستانی سر زمین پر مزید رسائی دیں گے اور ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکہ کا ایڈیشنل ڈسپلن بھی تسلیم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مجوزہ نیشنل سکیورٹی ٹیم آئی ایس آئی کے سیکشن ایس کو بھی ختم کر دے گی اور ممبئی حملوں کے بارے میں بھارت سے تعاون کیا جائے گا اور امریکہ کو اسامہ کی بیواؤں تک رسائی بھی دی جائے گی۔
پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لئے سازشیں کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن آج تک کسی قوم کے غدار کا تعین کر کے اسے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ اس سلسلے میں اگر اسے کچھ لوگوں کی معاونت بھی حاصل تھی تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہئے۔ اس کیس کا براہِ راست تعلق سابق صدر آصف زرداری سے بھی ہے کیونکہ بطور سفیر استعفیٰ دینے کے باوجود حسین حقانی کا اسلام آباد میں پریذیڈنٹ ہاؤس میں حفاظتی قیام الگ سے متنازع بنا اور اسے بیرونِ ملک فرار کرانے میں بھی کردار ادا کیا۔ سماعت ابھی جاری ہی تھی کہ حسین حقانی کو سپریم کورٹ کی طرف سے واپس آ کر سماعت کا حصہ بننے کی ضمانت پر ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ امریکہ پہنچتے ہی حسین حقانی نے پاک فوج پر الزام تراشی اور افغانستان میں امریکی شکست کی ذمہ داری پاک فوج اور آئی ایس آئی پر ڈالنے کے لئے اخبارات میں مضامین کے علاوہ مختلف تقریبات میں بھی پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ حسین حقانی نے میمو گیٹ میں بھارتی منصوبہ سازوں کی حکمتِ عملی کے تحت کام کیا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں پاک فوج کی افرادی قوت اور اس کی پیشہ ورانہ استعداد میں کمی لا کر اس انداز سے سول حکومت کے کنٹرول میں لانا تھا جس کے بعد وہ خطے میں بھارت کے مضبوط کردار کی راہ میں حائل نہ ہو سکے اور مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر بھارت کی مرضی کا حل قبول کر لے۔ یہی وجہ تھی کہ حسین حقانی نے امریکی سی آئی اے کے ایجنٹوں اور بلیک واٹر کے پوری دنیا میں متنازع سمجھے جانے والے کرائے کے فوجیوں کو 6ہزار سے زیادہ ویزے جاری کئے۔ ان بلیک واٹر اور سی آئی اے کے ایجنٹوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں امریکی سفارتخانے کی نمبر پلیٹس لگا کر پاکستان میں دہشت گردی کی جنگ کو پروان چڑھایا۔ حسین حقانی نے امریکہ سے ڈالر لے کر پاک فوج کو بدنام کرنے کا فریضہ ادا کرنے کے علاوہ امریکہ کو تجویز دی کہ وہ کس طرح نہ صرف پاک فوج کے جنوبی ایشیا میں کردار کو کم کر سکتا ہے بلکہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنی تحویل میں لے کر انہیں اسلامی انتہا پسندوں سے تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ ان حالات میں چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کا یہ حکم بالکل حقیقت پر مبنی ہے کہ میمو گیٹ کے مرکزی کردار کو انٹر پول کے ذریعے پاکستان لایا جائے کیونکہ یہ کوئی عام سا بد عنوانی کا کیس نہیں ہے جس کو نظر انداز کیا جا سکے بلکہ یہ قوم سے غداری کا کیس ہے اسے میمو گیٹ کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں از سرِ نو جانچا جایا جانا چاہئے تا کہ ملک و قوم کے ناسوروں کا اصل چہرہ بے نقاب ہو سکے۔ جب تک ہم ملک کے دشمنوں اور غداروں کو پکڑ کر انہیں کیفرِ کردار تک تک نہیں پہنچائیں گے وہ پاکستان کی سا لمیت کے لئے مسائل پیدا کرتے رہیں گے۔


ای پیپر