باطل قوتوں کی سوچی سمجھی سازش
05 اپریل 2018

نائن الیون کا واقعہ، جس نے دنیاکو بدل کررکھ دیا ہے تب سے پوری دنیا میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے اور دہشتگردی ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔ پوری دنیا کے اکابرین کے اذہان دہشتگردی ختم کرنے کی تدبیریں کررہے ہیں ، منصوبے بنا رہے ہیں اور بڑی بڑی کوششیں بھی ہو رہی ہیں لیکن دہشتگردی کا یہ ناسور کم ہونے کی بجائے پھیلتا ہی جا رہا ہے ۔ سترہ سال سے اس واقعہ پر تجزیات اور تبصرے جاری ہیں، کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں اور لکھی جا رہی ہیں، ان سب کا نچوڑ ایک ہی نظر آتا ہے کہ اس واقعہ کا مقصد امریکہ بہادر کا افغانستان پر مستقل قبضہ کرنا، دیگر فوجی قوت رکھنے والے اسلامی ممالک کی حکومتوں کو ختم کرنا اور جن ممالک کی عسکری قوتیں ختم کرنا امریکہ بہادر کے بس میں نہیں ان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنا ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ امریکہ بہادر نے اپنے متعدد مقاصد پورے کر لئے ہیں۔ عراق، لیبیا ، شام، یمن، صومالیہ وغیرہ ختم ہو چکے ہیں ایک افغانستان کی ہڈی ہے جو اس کے گلے میں پھنسی ہوئی ہے۔ امریکہ بہادر اپنی تمام تر عسکری قوت اور اپنے ہمنواؤں کی مدد سے یہ ہڈی نکال سکے گا کہ نہیں اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن ایک تاریخی شہادت موجود ہے کہ ماضی قریب ہی نہیں ماضی بعید میں بھی جن حکمرانوں نے افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی بالآخر انہیں منہ کی کھانا پڑی اور امریکہ بہادر کی آج تک کی عسکری سرگرمیوں سے بھی یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اس بار بھی وہی نتیجہ نکلے گا جو تاریخ میں ہمیشہ نکلتا آیا ہے کہ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکہ نہ صرف افغانستان پر قبضہ کرنے میں ناکام رہا ہے بلکہ کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود کابل میں بھی اس کو وہ آزادی حاصل نہیں ہے جو دیگر ملکوں میں اسے حاصل ہے۔
تجزیاتی رپورٹس کے مطابق اس وقت پاکستان ۔ ترکی ۔ ایران اور سعودی عرب یہ امریکہ کے اہداف ہیں۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان، ایران اور ترکی اپنی تمام تر ناکامیوں کے باوجود طاقت ور عسکری قوت رکھنے والے ممالک ہیں۔ امریکہ بہادر کبھی بھی ان ممالک میں فوجی دہشتگردی کی حما قت نہیں کرے گا۔ وہ اپنے یہ مقاصد ممالک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کرکے یہاں کی عسکری قوت کو نہ صرف مصروف رکھنا چاہ رہا ہے بلکہ اس کی قوت میں بھی کمی کا خواہاں ہے۔ جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے سب جانتے ہیں کہ سعودی عرب عسکری لحاظ سے امریکہ بہادر کے لئے کوئی خطرہ نہیں لیکن یہ ملک ایسی مقدس سرزمین ہے جس سے پورے عالم اسلام کی عقیدت وابستہ ہے اور ان مقدس ترین مقامات کی حفاظت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ امریکہ بہادر یہ سمجھتا ہے کہ اسرائیل کیا اگر امریکہ نے بھی ان مقدس مقامات کی توہین کرنے کی حماقت کی تو پورا عالم اسلام نہ صرف اس کی مزاحمت کرے گا بلکہ اس کے لئے اپنے خون کاآ خری قطرہ تک نچھاور کر نا اپنے لئے فخر اور سعادت سمجھے گا۔ لگتا ہے کہ امریکہ بہادر نے ارض مقدس سے مسلمانوں کی عقیدت میں کمی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے بلکہ اس پرعمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ جب سے سعودی عرب کے نئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان با اختیار ہوئے ہیں انسانی حقوق کے نام پر جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں وہ اس کا واضح نشان ہیں۔ اب سعودی عرب میں نہ صرف سینما تعمیر ہو رہے ہیں بلکہ عورتوں پر بھی پردے کی پابندیاں ختم ہو چکی ہیں اور تو اور سعودیہ میں عورتوں کی میراتھن ریس بھی ہو چکی ہے اور اب تو فوج میں عورتوں کی بھرتی کی نوید بھی سنائی جا رہی ہے۔ ڈرائیونگ کی اجازت بھی دی جا چکی ہے۔ یہ سلسلہ کہاں جا کے رکے گا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن کم از کم دینی علم رکھنے والا شخص بھی ان شخصی آزادیوں کو اسلامی روایات کے منافی سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اسلام میں خواتین کو جو حقوق نبی اکرمؐ نے عطا فرمائے تھے تاریخ عالم میں اس کی مثال نہیں ملتی اور ان میں کوئی اضافہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خیال ہمیں اس لئے بھی آیا ہے کہ حال ہی میں جناب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ایک انٹرویونظروں سے گزرا ہے جس میں موصوف نے فرمایاہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل بھی ایک حقیقت ہے دونوں کو ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کرنا چاہئے۔ اسرائیل ایک بڑی معیشت ہے اور ہمارے کئی مشترکہ مفادات اسرائیل کے ساتھ ہیں اور اگر وہاں امن ہوگا تو وہ اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کے لئے فائدہ مند ہوگا جن میں اردن بھی شامل ہے۔ فلسطین اور اسرائیل دونوں کو اپنا ملک حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ سعودیہ کو یہودیوں سے کوئی مسئلہ نہیں اب تو تجزیہ نگار یہ تک کہہ رہے ہیں کہ آئندہ شاید جلد ہی سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کر لے۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ تاریخی لحاظ سے ہی نہیں مذہبی لحاظ سے بھی صحیح نہیں ہو گا کہ تمام مسلمانان عالم یہودیوں کے اسرائیل پر قبضے کو غلط قرار دیتے ہیں اور آئندہ کے لئے کسی اسلامی خلافت کا رستہ روکنے کے لئے اس کو ایک باطل قوتوں کی ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہیں۔ نظر بھی یہی آرہا ہے کہ اس وقت پورا عالم اسلام اسی صورت حال سے گزر رہا ہے جو حضرت موسٰی ؑ کی پیدائش سے پہلے بنی اسرائیل کی تھی۔ واقعہ آپ جانتے ہیں کہ فرعون کے نجومیوں نے اسے بتایا تھا کہ بنی اسرائیل سے ایک شخص پیدا ہوگا جو تمہاری سلطنت کی تباہی کا باعث بنے گا اور اس نے بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا جس کے نتیجے میں ایک روایت کے مطابق ستر ہزار بچے قتل ہوئے۔ اب بھی تمام باطل قوتیں اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود اس نکتے پر متفق و متحد ہیں کہ اگر تاریخ میں ہمارے لئے کوئی خطرہ بنا تو یہی مسلمان ہوں گے لہٰذا انہوں نے بھی مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا ہے اور یہ سلسلہ 1947ء سے جاری ہے۔ کشمیر کا مسئلہ ہو یا فلسطین کا بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ ہمارے سامنے 1979ء سے افغانستان میں جنگ ہو رہی ہے ۔ عراق ایران جنگ کے نتیجے میں لاکھوں شہری قتل ہوئے ۔ کویت پر قبضے کے بعد عراق میں لاکھوں بچے ادویات اور خوارک نہ ملنے کے باعث فوت ہوئے تب بھی امریکہ کا دل نہیں بھرا اور اس نے عراق پر حملہ کر دیا اب تک لاکھوں شہری شہید ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا دیگر اسلامی ملک بھی اسی صورت حال سے دوچار ہیں لیکن ان تمام سنگین واقعات و صورت حال کا ایک روشن پہلو بھی ہے کہ یہی صورت مسلمانوں میں بیداری کا باعث بنے گی۔ ’ ان شاء اللہ ‘ ۔


ای پیپر