سرد جنگ کا تیسرا دور۔۔۔
05 اپریل 2018

سرگئی سکر یپل نے روس کے ملٹری سکول سے پیراٹروپر کی تعلیم حاصل کی ،تعلیم مکمل کرنے کے بعدوہ روسی فضائیہ میں شامل ہو گیا،فضائیہ سے سرگئی کی خدمات روس کی خفیہ ایجنسی GRUنے لے لیں ،خفیہ ایجنسی کا یہ ونگ بیرون ملک کی جانے والی کارروائیوں کے لیے مخصوص تھا۔1990ء میں سرگئی کو مالٹا میں بطور سفارت کار تعینات کر دیا گیا،مالٹا میں وہ چار سال موجود رہا اور روس کو یورپ کے متعلق معلومات فراہم کرتا رہا، 1994ء کو سرگئی سپین میں ملٹری اتاشی کے طور پر چلا آیا،سپین میں ایک برطانوی خفیہ ایجنٹ پابلو ملر نے اُسے برطانیہ کے لیے کام کرنے پر آمادہ کر لیا اور اُسے فورتھ ود کا کوڈ نام دیا گیا،پابلو ملر اس سے پہلے بھی روسی جاسوسوں کو برطانیہ کے لیے کام کرنے پر آمادہ کر چکاتھا۔1996ء میں سرگئی کو شوگر کا مرض لاحق ہوا تو اسے ماسکو واپس بلا لیا گیا اور وہ GRUمیں ہی کام کرنے لگا اور اسی ادارے میں کرنل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہو گیا،سرگئی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سپین گیا اور برطانیہ سے خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا۔برطانوی خفیہ ایجنسیMI6 سرگئی سے روسی ایجنٹوں کی نشاندہی کا کام لیتی رہی، وہ ڈبل ایجنٹ بن چکا تھا ایک طرف وہ روسی دفتر خارجہ میں نوکری کرتا تھا تو دوسری طرف MI6 کے لیے کام کرتا رہا (گرفتاری کے بعد روسیوں نے الزام عائد کیا کہ اُس نے تین سو روسی ایجنٹوں کو بے نقاب کیا)۔بہرحال2001ء میں وہ ماسکو میونسپلٹی میں ملازم تھا۔2004ء میں وہ برطانیہ کے دورے سے واپس روس پہنچا ہی تھا جب اُسے اپنے گھر کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا۔2010ء میں سرگئی کوروس اور برطانیہ کے مابین جاسوسوں کے تبادلے میں برطانوی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔4مارچ 2018ء کو سرگئی سکریپل اور ان کی بیٹی یولیا سکریپل کو برطانیہ میں کیمیکل حملے کا نشانہ بنایا گیا،برطانیہ نے اس حملے کا الزام روس پر لگایا جبکہ روس نے ایسے کسی بھی حملے کی تردید کر دی۔
سرد جنگ کے دور میں امریکا اور روس کے مابین جاسوسی کے حیرت انگیز طریقے اپنائے گئے۔ اس سے پہلے دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور اتحادیوں کے درمیان جاسوسی کی بنیاد پر بڑی جنگی کارروائیاں کی گئی تھیں مگر یہ سب انڈر کور ہوتا تھا اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا جا تا تھا۔یہ بھی ہر گز کوئی بہت بڑا واقعہ نہیں ہے ،یہ کہانی نویسوں پہ ہے کہ وہ کس واقعہ کو بڑا دکھانا چاہتے ہیں۔برطانیہ اور امریکا کا بغیر ثبوت فراہم کئے فوری طور پر روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ قابل فہم لگتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گاموساد کے ایجنٹس نے 2010ء متحدہ عرب امارات میں حماس کے راہنما محمد عبدالرؤف المحبوح کو قتل کر دیا تھا۔ اس واقعہ کی ویڈیوز بھی موجود تھیں ، مگرکسی عرب ریاست یا یورپ نے کچھ نہیں کیا،اس طرح شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ کے بھائی کم جونگ نام کو کو ملائیشیا کے ایئر پورٹ پر کیمیکل حملے کے ذریعے ہلاک کیا گیا،کسی ملک نے شمالی کوریا کے سفارت کاروں کوملک بدر نہیں کیا سوائے ملائشیا کے۔
سرگئی سکر یپل کی یہ کہانی جھوٹ پر مبنی ہو سکتی ہے، یہ واقعہ گزشتہ تیس سالوں سے روس ،برطانیہ اور امریکا کے درمیاں پیدا ہونے والا بڑا تنازع ہے، جس کے لیے برطانیہ کا کندھا استعمال کیا گیا ہے۔
امریکا نے شام کی حکومت کے خلا ف اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر جنگ شروع کی تو یقیناََ روس کے لیے شام میں مداخلت کر نا ضروری ہو گیا تھا۔لیکن اس سے پہلے کے کچھ واقعات خاصے غور طلب ہیں،امریکا نے 2013 ء میں شام کے خلاف باقاعدہ حملے کا اعلان کیا تو نیٹو اور برطانیہ نے امریکا کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ، امریکا نے شام پر حملے کے لیے اپنا بحری بیڑا روانہ کیا تو روس نے امریکی حملے کو روکنے کے لیے اپنے میزائل بردار بحری جہاز علاقے میں بھیج دیئے،جس سے امریکی حملہ عارضی طور پر روک دیا گیا،یہ گزشتہ تیس سالوں میں پہلا موقع تھا جب روس نے براہ راست کسی بھی ملک کے خلاف امریکی جارحیت کو روکا۔
امریکا کو شام پر حملے کا جواز isisنے بے پنا ہ قتل وغارت اور انبیاء ؑ کے مزارات کو بموں سے اُڑانے سے فراہم کیا۔ امریکا ، فرانس اور ترکی نے 2014 ء میں شام پر فضائی حملے شروع کر دئیے،برطانوی پارلیمنٹ نے بھی فوج کو کارروائی کا اختیار دے دیا،یوں جن ممالک نے امریکی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کیا اب اُن کے پاس انکار کاکوئی راستہ نہ تھا۔شام کے ساحلی علاقے حمس،حلب اور دمشق سرکاری فوج کے کنٹرول میں تھے، اس جگہ طرطوس کے مقام پر روس کا واحد بین الاقوامی بحری اڈا موجود ہے۔مشرق وسطیٰ میں شام ایران کا بڑا اتحادی ہے اور شام روس کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔روس نے تیس سال بعد براہ راست امریکا کو ٹکر دینے کا ارادہ کیا اور اپنی زمینی اور فضائی فوجوں کو شام میں جنگ کے لیے بھیجا۔شام میں روسی فضائیہ امریکا نواز باغیوں پر بمباری کرتی تو امریکی طیارے سرکاری فوج اور ان کے اتحادیوں کو نشانہ بناتے ،دوسری طرف روس عالمی معاملات میں تیزی سے مداخلت کر رہا تھا،ڈونلڈ ٹرمپ امریکاکا صدر منتخب ہوئے تو الزام روس پر لگا یا گیا، روس کو امریکی الیکشن میں مداخلت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور امریکا نے روس پر سائبر حملوں کا الزام بھی عائد کیا۔ یوکرائین میں ہونے والی خانہ جنگی کو مشرقی یورپ میں روس کی مداخلت کے واضح ثبوت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
عالمی تجارتی جنگ میں بھی امریکا کو روس کے سب سے قریبی ساتھی چین سے سخت خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔روسی صدر ولادمیرپیوٹن نے چوتھی دفعہ صدر منتخب ہونے سے چند دن پہلے امریکا کو برابری کی سطح پر معاملات طے کرنے کا کہا تھا اور ساتھ ہی روس کے جدید ترین ہتھیار نمائش کے لیے پیش کیے۔روس کے سپر سانک ہتھیار امریکا کے لیے پریشانی کا باعث بن چکے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ ر وس اور چین مل آئندہ آنے والے سالوں میں کم از کم ایشیا اور مشرقی یورپ میں امریکی برتری کو ختم کر سکتے ہیں۔سرگئی کا واقعہ امریکا اور روس کے درمیان سرد جنگ کے تیسرے دور کی نشانی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ سرگئی پر کیمیکل پر حملہ کس نے کیا اور کیوں کیا ان حقائق کو تلاش کرنا مشکل کام ہے۔


ای پیپر